کرکٹ ورلڈ کپ 2019: گلبدین نائب ’صنم کو لے ڈوب‘ نہ سکے

تصویر کے کاپی رائٹ PA Media

کچھ روز پہلے ایک پریس کانفرنس میں افغانستان کے کپتان گلبدین نائب نے کہا کہ اگرچہ افغانستان ورلڈ کپ کی دوڑ سے باہر ہو گیا ہے مگر وہ جانتے ہیں کہ ابھی اور کئی ٹیمیں اس دوڑ میں ہیں سو افغانستان اور کچھ نہ سہی، ان کے چانسز تو خراب کر سکتا ہے۔

حالیہ پاک افغان تعلقات کے تناظر میں یہ جملہ خاصی معنویت کا حامل ہے۔ اگرچہ افغانستان کرکٹ بورڈ کی حالیہ پابندیوں کے سبب افغان پلئیرز پریس کانفرنس میں اردو بولنے سے گریز کرتے ہیں مگر انڈین صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں اردو بولنے سے دریغ بھی نہیں کرتے۔

دوسری ٹیموں کے چانسز ’خراب‘ کرنے پر جب کرِک اِنفو کی شاردا اُگرا نے گلبدین سے بات کی تو گلبدین نائب نے بے ساختہ اردو کا ایک مصرعہ کہا،

’ہم تو ڈوبے ہیں صنم، تم کو بھی لے ڈوبیں گے‘

سمیع چوہدری کے مزید کالم پڑھیے

’بھلا ہوا کہ سرفراز ٹاس نہیں جیتے‘

’گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا‘

سرفراز احمد اگر عمران خان بن گئے تو۔۔۔

پاکستان اور افغانستان کا کرکٹ میں کوئی مقابلہ نہیں بنتا۔ راشد خان، اصغر افغان (سٹانک زئی)، محمد نبی اور محمد شہزاد پاکستان کے گلی کوچوں اور کلبوں میں کھیل کھیل کر ہی ایسے ورلڈ کلاس پلئیرز بنے ہیں۔

پاکستانی کوچز نہ صرف افغانستان جانے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے بلکہ انضمام الحق کی کوچنگ نے ہی پہلی بار افغان بیٹنگ کو قابلِ اعتبار بنایا۔

افغان کرکٹ کو پروان چڑھانے میں پی سی بی کا کردار سب سے زیادہ رہا ہے حتیٰ کہ آئی سی سی بھی اس کی معترف رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیکن پاک افغان سیاسی کشیدگی اور بی سی سی آئی کی تکنیکی معاونت کے طفیل اب یہ عالم ہے کہ وہی راشد خان جو کبھی شاہد آفریدی جیسا بننے کے خواب دیکھتے تھے، اب برملا کہتے ہیں کہ افغان کرکٹ کی سب سے زیادہ مدد پاکستان نہیں، انڈیا نے کی ہے۔

کھلاڑیوں کا انڈیا کی جانب یہ نظریاتی جھکاؤ صرف انھی تک محدود نہیں رہا، شائقین بھی اسی نظریاتی دلدل میں دھنسنے لگے ہیں۔ جبھی کراؤڈ میں وہ مناظر دیکھنے کو ملے جو کبھی پاکستان اور انڈیا میچ کی گرمیٔ جذبات میں بھی نہ ہو پائے تھے۔

گلبدین نائب بھی کہیں نہ کہیں اسی گرمئ جذبات کی رو میں بہہ گئے اور بہت اچھا آغاز کر کے بھی سرفراز کے پلان میں پھنس گئے۔ شاہین شاہ کی اس گیند سے پہلے کی دونوں باؤنڈریز نہایت شاندار تھیں مگر جب رکنے کا وقت تھا، تبھی گلبدین کا بلا سب سے تیز گھوما۔

سرفراز کی کپتانی شاندار رہی اور آخری لمحے ریویو نے بھی فیصلہ پاکستان کے حق میں دے دیا۔ اس کے بعد مڈل اوورز میں جس طرح سے سرفراز نے اپنے بولرز کا استعمال کیا اور جیسی فیلڈنگ لی، وہ بہترین کپتانی کی عکاس تھی جہاں انھوں نے پوری پلاننگ کے ساتھ پارٹنرشپ توڑی۔

انگلش کنڈیشنز ہوں اور وکٹیں ٹورنامنٹ کے بوجھ سے تھکنا شروع ہو گئی ہوں تو دوسری اننگز کی بیٹنگ مشکل ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ مشکل اور بھی بڑھ جاتی ہے جب فخر زمان جیسا بلے باز فارم میں نہ ہو۔

افغانستان کی ٹیم سلیکشن اس معاملے میں خاصی دلچسپ رہی کہ انھوں نے اپنے اٹیک میں سپن کا بوجھ زیادہ رکھا۔ اس وکٹ پر دوسری اننگز کے مڈل اوورز میں کوالٹی سپنر کا سامنا کرنا نہایت دشوار ہوتا ہے۔

اور افغانستان اس معاملے میں خوش قسمت رہا ہے کہ اس کی ٹیم میں ایک نہیں، تین کوالٹی سپنرز موجود ہیں۔ اگرچہ سپن کا سامنا کرنے میں پاکستانی بلے باز کبھی برے نہیں رہے مگر پریشر میچز میں وہ اکثر شکار بھی سپن کا ہی ہوتے ہیں۔

گلبدین نائب جیت کے اس قدر ضرورت مند تھے کہ باضابطہ طور پہ کپتانی کی باگ بھی اصغر افغان کے ہاتھ تھما دی حالانکہ اصغر کی کپتانی سے اچانک پراسرار برخواستگی کے زخم ابھی ہرے ہیں۔ شومئی قسمت کہ اصغر کی کپتانی سے چُھٹی ہونے میں بھی ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ پاکستان سے ان کا تعلق خاصا گہرا رہا ہے۔

بہرطور اصغر افغان نے بھی کپتانی خوب کی۔ سپن کا ایسا جال بچھایا کہ سبھی تجربے ہوا ہو گئے اور پاکستان بآسانی میچ ہارنے کی پوزیشن میں آ گیا۔

مگر تب اچانک گلبدین نائب کے اندر کے کپتان نے انگڑائی لی اور انھوں نے سپن روک کر ایک اینڈ سے خود بولنگ شروع کر دی۔ نجانے یہ گلبدین کی گرمئ جذبات تھی یا حد سے چڑھی خود اعتمادی مگر عماد وسیم کے لیے وہ اوور ایک بہترین تحفہ تھا۔

عماد وسیم کے ضبط اور تحمل کے ساتھ ساتھ ’گیم سینس‘ کی بھی داد دینا ہو گی کہ کسی سپنر کے خلاف کوئی بے معنی رسک نہیں لیا بلکہ اس غلطی کا انتظار کیا جو گلبدین کو کہیں نہ کہیں کرنا ہی تھی۔

عماد وسیم ہیرو نکلے، پاکستان کے سیمی فائنل کے خواب ٹوٹنے سے بچ گئے اور گلبدین نائب سر نیہوڑائے گراؤنڈ سے لَوٹ گئے۔

ایک بار پھر، کسی اور ’صنم‘ کو لے ڈوبنے کی حسرت لیے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں