نیب نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ واپس وزارتِ داخلہ کو بھجوا دیا

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مسلم لیگ ن کے قائد کو چھ نومبر کو سروسز ہسپتال سے جاتی امرا میں ان کی رہائش گاہ منتقل کیا گیا تھا (فائل فوٹو)

پاکستان کے قومی ادارہ برائے احتساب (نیب) نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا معاملہ واپس وفاقی وزارتِ داخلہ کو بھجوا دیا ہے۔

ادھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے نواز شریف کے علاج میں تاخیری حربوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے حربوں سے سابق وزیراعظم کی جان کو نقصان ہوا تو حکومت ذمہ دار ہو گی۔

مسلم لیگ ن کے قائد کو چھ نومبر کو سروسز ہسپتال سے جاتی امرا میں ان کی رہائش گاہ منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کے لیے انتہائی نگہداشت کا یونٹ قائم کیا گیا ہے۔

نواز شریف کے علاج کے سلسلے میں قائم میڈیکل بورڈز نے انھیں مزید علاج کے لیے بیرونِ ملک منتقل کرنے کی تجویز دی تھی تاہم ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر نام ہونے کی وجہ سے تاحال وہ پاکستان سے باہر نہیں جا سکے ہیں۔

تحریکِ انصاف کی حکومت کی جانب سے نیب سے کہا گیا تھا کہ وہ اس فہرست سے نواز شریف کا نام نکالنے یا نہ نکالنے کا فیصلہ کرے کیونکہ یہ نام اسی ادارے کے کہنے پر شامل کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف: ای سی ایل سے متعلق فیصلہ نیب کے سپرد

نواز شریف پھر سیاست کا محور!

مریم رہائی کے بعد نواز شریف کے ہمراہ جاتی امرا میں

نیب کے ایک ترجمان نے پیر کو بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ قومی احتساب بیورو نے وزارتِ داخلہ کو معاملہ واپس بھجواتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس معاملے پر قانون کے مطابق عمل کرے۔

نیب کے سینیئر پراسیکیوٹر نے بی بی سی کے اعظم خان کو یہ بھی بتایا ہے کہ نیب کی جانب سے وفاقی حکومت کو تفصیلی جواب بھیجا گیا ہے، جس میں نواز شریف کے خلاف مقدمات کے تناظر میں یہ بھی دریافت کیا گیا ہے کہ ان مقدمات کی سماعت کے موقع پر ان کی پیشی کا طریقہ کار کیا ہو گا۔

خیال رہے کہ اتوار کو جب بی بی سی کے نامہ نگار فراز ہاشمی نے پاکستان کے وزیر داخلہ اعجاز شاہ سے اس بارے میں بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی اس سلسلے میں خصوصی ہدایت ہے کہ نواز شریف کی بیماری کے معاملے پر کوئی سیاست نہ کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نواز شریف کا نام خارج کرنے کا ’عمل مکمل‘ ہو گا، تو ان کا نام اس فہرست سے نکال دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ NAB
Image caption وزارت داخلہ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے نیب کو خط لکھا تھا جس کا جواب بھجوا دیا گیا ہے

جب ان سے پوچھا گیا کہ اس عمل میں مزید کتنا وقت درکار ہو گا تو انھوں نے اس کا براہ راست جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ ای سی ایل سے نام نکالنے کا ’پروسیجر‘ ان کی حکومت نے نہیں بلکہ ماضی کی حکومت نے بنایا تھا۔

میڈیکل بورڈ سے تفصیلی جواب طلب

اس سے قبل پیر کی دوپہر کو پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا تھا کہ میڈیکل بورڈ سے دوبارہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی تفصیلی رپورٹ مانگی گئی ہے کیونکہ اس سے قبل دی گئی رپورٹ ناکافی تھی۔

لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف کے کچھ ایسے ٹیسٹ ہیں جو انتہائی حساس نوعیت کے ہیں ہم نے بورڈ سے اس حوالے سے تفصیلی جواب مانگا ہے تاکہ اسے وزارتِ داخلہ کو بھجوایا جا سکے۔‘

پنجاب کی وزیرِ صحت کا مزید کہنا تھا کہ میڈیکل بورڈ کا اجلاس آج پھر ہو گا جس کے بعد تفصیلی رپورٹ وزارتِ داخلہ کو بھجوا دی جائے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کل رات میڈیکل بورڈ کی میٹنگ ہوئی جس میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ نواز شریف کی صحت ٹھیک نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کے باہر سے ٹیسٹ کروانے کی تجویز دی گئی جن میں پیٹ سکین بھی شامل ہے۔‘

نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان کا ایک ٹویٹ میں کہنا ہے کہ ’کسی بھی قسم کی تاخیر خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔‘

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ یہ نواز شریف کی زندگی کا معاملہ ہے اور حکومت سرکاری تشکیل شدہ بورڈ کی تجویز کے باوجود تاخیر کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’پنجاب حکومت وزارت داخلہ، وزارت داخلہ نیب اور نیب حکومت پر ذمہ داری پھینک رہا ہے۔ کیا کسی کو احساس ہے کہ کسی انسان کی زندگی اور موت کا معاملہ ہے؟‘مریم اورنگزیب نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی لندن روانگی کا معاملہ ان کی طبیعت کی وجہ سے ہنگامی نوعیت کا ہے اس لیے ان کی روانگی کا فیصلہ بھی ہنگامی بنیادوں پر کیا جانا چاہیے۔

پیر کو ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’ڈاکٹرز کی سفارش کے مطابق آج ہی محمد نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے تاکہ ایئر ایمبولینس کے انتظامات مکمل کیے جا سکیں۔‘

مریم اورنگزین کے مطابق ڈاکٹرز محمد نواز شریف کے پلیٹلیٹس کی تعداد قابل سفر سطح پر لانے کے لیے منگل کو انھیں طبی طور پر تیار کریں گے۔

لندن میں انتظامات مکمل

ادھر سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو مرکزی لندن کے ایک نجی ہپستال میں داخل کرانے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جہاں ان کی طبی ٹیم کو بھی تیار رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

لندن میں موجود پارٹی ذرائع کے مطابق نواز شریف کو اُسی ہپستال میں داخل کروانے کے انتظامات کیے گئے ہیں جہاں وہ ماضی میں بھی زیرِ علاج رہ چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نواز شریف کو اُسی ہپستال میں داخل کروانے کے انتظامات کیے گئے ہیں جہاں وہ ماضی میں بھی زیرِ علاج رہ چکے ہیں

مرکزی لندن میں پارک لین کے اپارٹمنٹس سے تقریباً دو کلو میٹر کی دوری پر ہارلے سٹریٹ میں واقع یہ وہی ہسپتال ہے جہاں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز بھی اپنے آخری ایام میں زیر علاج رہی تھیں۔

مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہارلے سٹریٹ میں دل کے امراض کے معالجین سے بھی وقت طے ہو گیا تھا لیکن نواز شریف کی لندن آمد میں تاخیر سے ڈاکٹروں سے نئی تاریخیں لی جا رہی ہیں۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک نواز شریف کی روانگی کی تاریخ طے نہیں ہو جاتی ان کے طبی معائنے کے وقت کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔

’نواز شریف کی شوگر کنٹرول نہیں ہو رہی‘

پیر کو نواز شریف کی صحت کی صورتحال کے حوالے سے بتاتے ہوئے یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم جب علاج کے لیے آئے تو ان کے پلیٹلیٹس بہت کم تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے کراچی کے ڈاکٹر طاہر شمسی کو بھی بلوایا۔ نواز شریف صاحب کے علاج کے لیے دوسرے ڈاکٹرز کی مدد بھی لی گئی۔‘

انھوں نے کہا کہ نوازشریف کے علاج کے لیے سٹیرائیڈز شروع کی گئیں جبکہ نواز شریف کی تمام رپورٹس شریف سٹی ہسپتال کے ڈاکٹرز کو دے دی گئی تھیں۔

’بار بار سٹیرائیڈز کی ہائی ڈوز نہیں دی جا سکتی‘

مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ اتوار کو بھی نواز شریف کا طبی معائنہ کیا گیا ہے اس میں بھی سرکاری ڈاکٹروں سمیت تمام ماہرین اس بات پر متفق تھے کہ انھیں جلد از جلد لندن چلے جانا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پاکستان مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز اپنے والد نواز شریف کے ہمراہ بیرونِ ملک نہیں جا سکیں گی

انھوں نے کہا کہ ڈاکٹرز نے نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کے لیے انھیں سٹیرائڈز کی ہائی ڈوز دی تھی اور ڈاکٹرز کے مطابق ’نوازشریف کو بار بار سٹیرائیڈز کی ہائی ڈوز نہیں دی جا سکتی۔'

مسلم لیگ ن کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹرز پلیٹلیٹس بڑھانے کی کوشش میں ایسا کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتے جس سے کوئی اور نقصان ہو جائے۔

بیان میں لکھا تھا کہ 'سابق وزیراعظم کے پلیٹلیٹس میں کمی پر ڈاکٹرز کی تشویش بڑھ گئی ہے اور اس حوالے سے وہ تذبذب کا شکار ہیں کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ اس دوران کوئی حادثہ نہ پیش آ جائے۔'

ترجمان مسلم لیگ (ن) کے مطابق کسی طبی حادثے کی صورت میں مریض کو بیرون ملک منتقل کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ معالجین کے مطابق نواز شریف کے علاج کے لیے ایک ایک لمحہ قیمتی ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ 'ڈاکٹرز کے مطابق نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کے عمل کو تیزی سے انجام دینے کی ضرورت ہے۔'

اسی بارے میں