مودی نے سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین کو ڈرا دیا

MODI

،تصویر کا ذریعہSTRDEL

انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کا یہ ٹویٹ کرنا کہ وہ عالمی یوم خواتین کے موقع پر سوشل میڈیا اکاؤنٹس چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں کئی گھنٹوں تک ان کے لاکھوں مداحوں کے لیے پریشانی کا باعث رہا۔

مسٹر مودی نے یہ ٹویٹ کر کے کہ وہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس چھوڑنے کا سوچ رہے ہیں سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی۔

پھر اس کے بعد سازشی تھیوریز، میمز اور التجاؤں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وہ واحد لیڈر ہیں جن کے فالوور کی تعداد مودی سے زیادہ ہے۔

مسٹر مودی کےپانچ کروڑ 40 لاکھ فالور ٹوئٹر پر، انسٹا گرام پر ساڑھے تین کروڑ 20 لاکھ فالوور اور فیس بک پرچار کروڑ 40 لاکھ فالوور ہیں۔

منگل کو انھوں نے کہا کہ وہ ’اپنے سوشل اکاؤنٹس ان خواتین کے نام کریں گے جن کی زندگی اور کام ہمارے لیے متاثر کن ہے۔‘

ان کی پہلی ٹویٹ کے بعد انڈیا میں یہ ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگا ModiQuitsSocialMedia#۔

کچھ تھیوریز میں یہ تجویز ملی کہ وہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ چھوڑ رہے ہیں کیونکہ انھیں ان کے مخلفین کنٹرول کر رہے ہیں۔

دیگر نے یہ افوا اڑائی کہ وہ کوئی قدیم سوشل میڈیا پلیٹ فارم لانچ کریں گے جو ٹوئٹر اور فیس بک سے مماثل ہو جیسے چین میں وی چیٹ اور ویبیوکے پیلٹ فارم ہیں۔

ایک صارف نے بہت وثوق سے لکھا کہ ممکنہ طور پر کچھ سٹاک مارکیٹ کمپنیاں کریش کر جائیں گی۔

،تصویر کا کیپشن

انڈیا میں ٹوئٹر پر گذشتہ روز ایک ٹرینڈ تھا نو مودی نو ٹوئٹر

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ان مختلف تھیوریز کے دوسری جانب وزیراعظم مودی کے کچھ مایوس مداحوں نے ان سے التجا کی کہ ’پلیز سر، آپ اپنے مداحوں کی خاطر، آپ سوشل میڈیا نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔‘

ایک دوسرے صارف نے لکھا مودی جی اگر آپ نے سوشل میڈیا چھوڑا تو تو وہ لوگ اسے آپ کے اور قومی مفاد کے خلاف استعمال کریں گے۔

ایک صارف نے لکھا ’میرے لیے وہ صرف وزیراعظم نہیں لیکن ایک جذبہ بھی ہیں۔ آپ سوشل میڈیا کے بادشاہ ہیں۔ مت جائیں سر۔‘

لکچھ صارفین کی رائے تھی کہ وزیراعظم مودی کا اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے۔

پھر جلد ہی ٹوئٹر پر ہیش ٹیک ٹرینڈ کرنے لگا کہ Iwillalsoleavetwitter # یعنی میں بھی ٹوئٹر چھوڑ دوں گا۔

ارون جادیو جو کہ ہریانہ میں بی جے پی کے آئی ٹی اور سوشل میڈیا کے سربراہ ہیں نے اپنی ٹویٹ میں وزیراعظم سے کہا کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو نہ چھوڑیں کیونکہ یہ ایک ذریعہ ہے جس سے وہ ان کے ساتھ رابطہ کر سکتے ہیں۔

لیکن بہت سوں نے مذاق بھی اڑایا۔

مزید پڑھیے:

ایک صارف نے رائے دی کے وزیراعظم مودی ان تمام پلیٹ فارمز کو اپنی ٹک ٹاک بنانے کے لیے چھوڑ رہے ہیں۔

ایک ٹوئٹر صارف نے تمسخرانہ انداز میں لکھا کہ مودی جی عام انڈین بوائے فرینڈ جیسے ہیں جس کی بریک اپ کے بعد ایسی حالت ہوتی ہے۔

ایک اور نے لکھا مودی جی کو ڈیجیٹل ورلڈ میں امن لانے کے لیے امن کے نوبیل پرائز سے نوازا جانا چاہیے۔

اس کے علاوہ سیاسی سطح پر بھی ردعمل سامنے آیا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter

اپوزیشن جماعت کانگرس کے رہنما راہل گاندھی نے کہا ’نفرت چھوڑیں سوشل میڈیا اکاؤنٹس نہیں۔‘

کانگرسی رہنما اور ممبر پارلیمان ششی تھرور نے لکھا ’وزیراعظم کے اس اچانک اعلان نے بہت سوں کو اس پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے کہ یہ ملک بھر میں ان سروسز پر پابندی کا آغاز تو نہیں۔‘

پھر آخر کار وزیراعظم مودی کی اس معاملے پر وضاحتی ٹویٹ کو کچھ نے اسے اس ہلچل کا خاتمہ قرار دیا۔

لیکن یہ ان کے لیے ایک بڑے سکون کا باعث بنا جو وزیراعظم سے اپیل کر رہے تھے کہ آپ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔

خیال رہے کہ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو ٹویٹ کی تھی کہ اس اتوار کو انہوں نے اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹ چھوڑنے کے بارے میں سوچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں لوگوں کو اپنے فیصلے سے آگاہ کریں گے۔

نریندر مودی کا یہ ٹویٹ کرنا تھا کہ سوشل میڈیا پر اس کے بارے میں بحث شروع ہو گئی اور ان کے مداحوں نے ان سے فیصلہ واپس لینے کی اپیل شروع کر دی۔ لیکن وہیں کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ ’شاید ٹیزر‘ ہے اور اس اعلان کا وہ مطلب نہیں جو بظاہر نظر آ رہا ہے یعنی یہ کہ وہ اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹ بند کرنے والے ہیں۔

کچھ ہی دیر میں NoSir# انڈیا میں ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔