ڈیم فنڈ کا چندہ اور جعلی اکاؤنٹس کی چاندی

اس پوسٹ کو شیئر کریں Email اس پوسٹ کو شیئر کریں فیس بک اس پوسٹ کو شیئر کریں ٹوئٹر اس پوسٹ کو شیئر کریں وٹس ایپ

Image copyright AFP

پاکستان میں سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس سے کسی اقدام کی منفی اور مثبت پروپیگنڈا کرنا کوئی نئی بات نہیں چاہے لیکن بعض اوقات یہ حد سے اتنا تجاوز کر جاتا ہے کہ حکومتوں کے لیے بھی درد سر بن جاتا ہے۔

کچھ عرصے پہلے دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے چیف جسٹس ثاقب نثار نے مہم شروع کی تو سوشل میڈیا پر اس اقدام کی حمایت میں بحت شروع ہوئی تو دوسری جانب سے مختلف پہلوؤں سے اس کو مذاق کی نظر کرنے والوں کی کمی نہیں تھی۔

اس بحث نے ایک نئی شکل اس وقت اختیار کی جب گذشتہ سنیچر کو وزیراعظم عمران خان نے بھی چیف جسٹس کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان میں نئے ڈیمز کی ضرورت پر زور دیا اور ساتھ میں بیرون ملک مقیم پاکستان سے ڈیم فنڈ میں کم از کم ایک ہزار ڈالر عطیہ کرنے کی اپیل بھی کر ڈالی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

کیا چندہ جمع کر کے ڈیم بن سکتا ہے؟

’بیرونِ ملک مقیم ہر پاکستانی ہزار ڈالر ڈیم فنڈ میں دے‘

کھربوں روپے مالیت کا پانی ضائع

پھر کیا تھا، ایک طرف ٹی وی چینل پر ایک مرتبہ پھر بحث و مباحثے شروع ہوئے کہ آیا چندے سے ڈیم بنانا ممکن ہے کہ نہیں تو دوسری جانب سے سوشل میڈیا پر اس اعلان کو مضکحہ خیز رنگ دینے والوں کی کمی نہیں تھی جو اب تک جاری ہے۔

مواد دستیاب نہیں ہے

بات بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچی کہ سوشل میڈیا پر پاکستانی نژاد امریکی شہری شاہد خان سے منسوب اعلان گردش کرنے لگا کہ وہ ڈیم فنڈ میں ایک ارب ڈالر چندہ دے رہے ہیں۔ اس اعلان کو تحریکِ انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید خان سے بھی منسوب کیا گیا اور اس کی بغیر کسی تصدیق کے مقامی میڈیا پر بھی تشہیر ہوئی۔

اس کے بعد تحریکِ انصاف کے صوبائی وزیر شہرام ترکئی کی ایک ٹویٹ سامنے آئی جس میں انھوں نے ایک ’فیک نیوز‘ کو ٹویٹ کیا جس کے مطابق قائداعظم نے قیامِ پاکستان کے بعد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے چندے کے اپیل کی تھی۔ سوشل میڈیا پر ردعمل سامنے آنے کے بعد شہرام ترکئی نے بھی اپنی ٹویٹ پر معذرت کر لی۔

اس کے علاوہ صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ اور مائیکروسافٹ اور فیس بک کے سربراہوں کو بھی اس جعل سازی کی دوڑ میں نہیں بخشا گیا۔

Image copyright Twitter

آخر کیا وجہ ہے کہ ملک میں جب بھی کوئی اہم سیاسی پیش رفت یا اعلان کیا جاتا ہے یا الیکشن ہوں یا کوئی ایونٹ تو اس دوران کھمبیوں کی طرح جعلی اکاؤنٹ نکل آتے ہیں جن پر اعتبار کرنے والوں اور ان کو جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے دیے جانے والے پیغامات کو آگے پھیلانے والوں کی کوئی کمی نہیں ہوتی ہے۔

اس ساری مشق کے دوران نہ صرف جگ ہنسائی ہوتی ہے بلکہ کئی بار ایک سنجیدہ کام یا کاز بھی ڈی ٹریک ہو جاتا ہے۔

جب بی بی سی نے سوشل میڈیا پر پاکستان تحریک انصاف کے متحرک حمایتی فرحان ورک سے اس بارے میں بات کی تو انھوں نے کہا کہ جعلی اکاؤنٹس کافی نقصان دہ ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے اچھے مقاصد کا حصول بھی دشوار ہو جاتا ہے۔

مواد دستیاب نہیں ہے

فرحان ورک کی سوشل میڈیا پر اپنی ’شہرت‘ بھی جعلی اکاؤنٹ بنانے کے حوالے سے رہی ہے۔ انھوں نے سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کے نام سے ٹوئٹر پر اکاؤنٹ بنایا تھا جس کا ذکر وہ خود اپنی ٹائم لائن پر کرتے ہیں لیکن بعد میں انھوں نے معافی مانگ لی تھی۔

ڈیم فنڈ میں معروف شخصیات کے چندے سے متعلق جعلی اکاؤنٹس اور خبروں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے اکاؤنٹ ڈیم فنڈ کا بہت نقصان کر رہے ہیں. بہت سے لوگ ان اکاؤنٹس کی باتوں کو حقیقت سمجھ کر ایسا سوچ رہے ہیں جیسے ڈیم کا پیسہ یہ چند بڑے نام ہی دے دیں گے. اس وجہ سے وہ لوگ پیسے جمع نہیں کروا رہے۔'

Image copyright Twitter

نقلی اکاؤنٹس کی شناخت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انھیں پہچاننا بہت مشکل نہیں ہوتا اور ایسے اکاؤنٹس کی نشاندہی پر ٹوئٹر کو انھیں رپورٹ کرنا چاہیے۔

'ایک طرف حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ ایسے جعلی اکاؤنٹس کو بند کروائے وہاں ہی ایک عام سوشل میڈیا صارف کا بھی فرض بنتا ہے کہ آپ ایسے اکاؤنٹ کی حوصلہ شکنی کریں۔اگر اکاونٹ جعلی ہو تو یہ بھی آپ کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ آپ اس اکاونٹ کو رپورٹ کریں تا کہ ٹویٹر اس پر فوری عمل کرے۔'

مواد دستیاب نہیں ہے

انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ صرف ایک ہفتے میں جعلی اکاؤنٹس کا قلع قمع کر سکتے ہیں بشرطیکہ انھیں حکومت سے کچھ مدد ملے۔

اس بارے میں فرحان ورک کا کہنا تھا کہ انھوں صرف ایف آئی اے اور نادرا سے کچھ مدد درکار ہوگی جس سے وہ بڑے پیمانے پر بنائے گئے جعلی اکاؤنٹس کو ختم کر سکتے ہیں۔