’یہ ایلسٹر کک کی خوش بختی کا دن تھا‘

اس پوسٹ کو شیئر کریں Email اس پوسٹ کو شیئر کریں فیس بک اس پوسٹ کو شیئر کریں ٹوئٹر اس پوسٹ کو شیئر کریں وٹس ایپ

Image copyright AFP/Getty Images

انگلینڈ کے کرکٹر الیسٹر کک جب اپنے کرئیر کی آخری اننگز کھیلنے کے لیے میدان میں اترے تو جذبات کا ایک سیلاب سا امڈ آیا۔

اوول کی نشستیں خالی ہو گئیں۔ شائقین آخری بار انگلینڈ کے کامیاب ترین جینٹلمین کے احترام میں کھڑے ہوئے۔ ایسا بھرپور الوداع شاید ہی کسی کرکٹر کو نصیب ہوا ہو گا کہ تالیوں کی گونج کھیل کے آغاز میں آڑے آ گئی۔

یہ کک کی خوش بختی کا دن تھا۔ ابتدائی اوورز میں بمرہ اور شرما کی کئی گیندیں بلے کے عین قریب سے گزر گئیں لیکن کک محفوظ رہے اور جب گیند محمد شامی کے پاس آئی تو یکبارگی محسوس ہوا کہ خوش بختی ذرا چھٹنے لگی ہے۔

محمد شامی نے اس سپیل میں بہترین بولنگ کی، کک کئی بار بالکل بے بس دکھائی دیے۔ شامی اگر کسی اور میچ میں یہ سپیل پھینک رہے ہوتے تو شاید پانچ وکٹیں نکال لیتے مگر یہاں شاید صرف الیسٹر کک کی خوش بختی کا دن تھا۔

صرف یہی ایک دن نہیں پورا میچ ہی انگلینڈ کے لیے بھی خوش قسمت رہا۔ انڈیا پہلے دن برتری حاصل کرنے کے باوجود دوسری ہی صبح بنی بنائی برتری گنوا بیٹھا۔

یہ بھی پڑھیے

’روتے ہوئے ساتھیوں کو ریٹائرمنٹ کے بارے میں بتایا‘

ایلسٹر کک: ’میں جانتا ہوں کہ یہی صحیح وقت ہے‘

کیا ایشون، معین علی سے بہتر بولر نہیں؟

انگلینڈ نے انڈیا کو چوتھا ٹیسٹ ہرا کر سیریز اپنے نام کر لی

ہم ہار کے ہی لائق تھے: وراٹ کوہلی

Image copyright AFP/Getty Images

انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان ویراٹ کوہلی بلاشبہ اس عہد کے عظیم ترین بیٹسمین ہیں۔ مختصر فارمیٹ کے بہت اچھے کپتان بھی ہیں مگر ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی کپتانی ابھی تک کئی سوالوں کے جواب نہیں دے پائی۔ ویسے تو سبھی میچوں میں انگلینڈ کے لوئر آرڈر نے کوہلی کی پلاننگ کو چیلنج کیا لیکن یہاں پہلی بار جب انڈین لوئر آرڈر نے جواب دیا بھی تو قسمت نے انگلینڈ کی طرف داری کر ڈالی۔

اگر ایشانت شرما انجری کا شکار نہ ہوتے تو کیا تب بھی کک کی الوداعی اننگز ایسی ہی یادگار ہوتی اور روٹ بھی کیا ایسی ہی مستحکم اننگز کھیل پاتے؟

کرکٹ میں کامیابی اکثر زورِ بازو سے ہی آتی ہے مگر کبھی کبھی بیرونی عوامل، جنھیں قسمت کہا جا سکتا ہے زورِ بازو پہ بھاری پڑ جاتے ہیں۔ جدیجا نے تیسرے روز ایک قابلِ تحسین اننگز کھیلی مگر اگلے چند گھنٹوں میں انڈین بولنگ اٹیک پانچ سے گھٹ کر چار رہ گیا۔

Image copyright PA

کل شام کے ایل راہول اور ریشابھ پنت نے تاریخی پارٹنرشپ قائم کی اور میچ کو اس نہج پہ لے آئے کہ انڈیا پچھلے چار روز کی نفسیاتی کشمکش کے باوجود جیتنے کی پوزیشن میں آ گیا لیکن وائے قسمت کہ جسے صرف کک ہی نہیں، جیمز اینڈرسن کو بھی بامراد کرنا تھا۔

اگر دوسرے نئے گیند کے آنے تک ریشابھ پنت ہی کریز پہ موجود رہتے تو شاید کک کے الوداعی میچ کا نتیجہ کچھ اور ہوتا۔ اگر ایشانت شرما ایک دن اور انجری سے دور رہ پاتے تو انڈیا کی ریکارڈ پارٹنرشپ ایک ریکارڈ فتح میں بدل جاتی لیکن یہ سارے اگر مگر الیسٹر کک کی خوش بختی کی نذر ہو گئے۔ یہ میچ چونکہ ان کا آخری میچ تھا سو قسمت کو شاید منظور ہی یہ تھا کہ وہ پورا میچ ہی لے اڑیں۔

یہ کک کے اس مخصوص تحمل کا اثر تھا جو پورے کریئر میں ان کی شخصیت، بیٹنگ اور کپتانی کا خاصہ رہا ہے۔ جس تحمل اور سکون نے انھیں ایک کامیاب بیٹسمین اور اچھا کپتان بنایا، ان کا وہی خاصہ آخری میچ میں انڈیا کا سکون لے اڑا۔

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے کپتان جو روٹ کے لیے یہ سیریز بہت اچھی رہی اور انگلینڈ کے لیے بھی یہ بہت پرسکون جیت تھی۔

یہ تشفی بھی کہ سابق کپتان کے جاتے تک نیا کپتان تیار ہو چکا ہے۔ اب جو روٹ کے لیے صرف ایک ہی سوال باقی ہے کہ کیا کک کے بغیر بھی ان کا ڈریسنگ روم کوئی اتنی ہی پرسکون جیت دیکھ پائے گا؟