کشمیر میں انٹرنیٹ بطورِ ہتھیار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی عام سی بات ہے، اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہمیں تاریک دور میں دھکیل دیا جاتا ہو

آج پھر جیسے میرے موبائل کی خالی سکرین نے مجھے گھورا ہو۔ انٹر نیٹ نہیں تھا اور اس پر ایک بار پھر پابندی عائد کی گئی تھی۔ ایک بار پھر لگا کہ جیسے میں تن تنہا کسی انجان جزیرے پر ہوں۔

یہ الگ بات ہے کہ میں کسی جزیرے کی باسی نہیں ہوں۔ بلکہ میں تو وہاں رہتی ہوں جس کو زمین پر جنت کا خطاب دیا گیا ہے۔ مجھےجو کچھ معلوم ہے اور جو میں کسی کو بتا سکتی ہوں وہ یہ ہے کہ اس زمینی جنت کو انٹرنیٹ پر پابندی عائد کر کے کنٹرول کیا جاتا ہے۔

میں کشمیر یونیورسٹی کی طالبہ ہوں اور سری نگر سے صرف 20 کلومیٹر کے فاصلے پر رہتی ہوں۔ لیکن میں گھر سے باہر نکل سکتی ہوں یا نہیں اس بارے میں مجھے ہر روز فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔

اس کے لیے مجھے انٹرنیٹ سے معلومات حاصل کرنی ہوتی ہیں، ویب سائٹ سے یا فیس بک سے یا پھر کسی دوست سے پتہ کرنا ہوتا ہے کہ آج کسی کی جانب سے ہڑتال تو نہیں ہے، یا سرکاری فورسز کی جانب سے کسی علاقے میں کرفیو تو نافذ نہیں۔

دنیا کے دیگر حصوں کی طرح کشمیر میں بھی انٹرنیٹ آپس میں رابطے کے لیے اور بیرونی دنیا سے جڑنے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کشمیر میں ٹی وی نیوز چینل وہ تمام خبریں ہم تک نہیں پہنچاتے جن کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے۔

2008 میں جب کشمیری نوجوانوں کی احتجاجی لہر شروع ہوئی تبھی سے تمام ایسی خبروں کی نشریات پر پابندی عائد ہے جن سے امنِ عامہ کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Mahpara Parvez
Image caption بھارت کے قومی سطح کے ٹی وی چینل کشمیر سے متعلق اسی وقت خبریں نشر کرتے ہیں جب وہاں حالات بہت خراب ہوگئے ہوں

بھارت کے قومی سطح کے ٹی وی چینل کشمیر سے متعلق اسی وقت خبریں نشر کرتے ہیں جب وہاں حالات بہت خراب ہوگئے ہوں اور روز مرہ کی زندگی میں دلچسپی تو بس انہی کو ہے جو یہاں زندگی گزار رہے ہیں۔

یہاں اخبار بھی تاخیر سے آتے ہیں اور کشمیر میں تیز معلومات کا ذریعہ بس انٹرنیٹ ہی ہے۔ اس سے کشمیر کے سیاسی رہنما بھی آگاہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بھی کسی بھی طرح کی اپیل انٹرنیٹ کے ذریعے کرتے ہیں۔

لیکن کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی عام سی بات ہے۔ اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہمیں تاریک دور میں دھکیل دیا جاتا ہو، خوف کے مارے پنجرے میں پناہ لینے کے لیے یا پھر لوگوں میں خوف پیدا کرنے کے لیے۔

میرے دوست اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ آخر حکومت پوری آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے ان پابندیوں کو بطور ہتھیار کیوں استعمال کرتی ہے؟

یہ کہنا مشکل ہے کہ اس طرح کی پابندیوں سے زیادہ تکلیف کب پہنچتی ہے، کسی خاص دن یا عام دن۔

کئی بار آپ یونیورسٹی امتحان دینے جاتے ہیں اور وہاں پہنچ کر پتہ چلتا ہے کہ امتحان تو منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ ستم تو یہ ہے کہ ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ اس سے متعلق نوٹس یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر لگا دیا گیا تھا۔

عید کے دوران تین روز تک انٹرنیٹ پر پابندی عائد رہی اور ایسا لگ رہا تھا جیسے ورچوؤل کرفیو نافذ ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ MAJID JAHANGIR
Image caption کشمیر میں حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے انٹرنیٹ کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے

اس کا ایک اثر یہ ہوا کہ بیشتر لوگوں نے بیرونی علاقوں میں رہنے والے اپنے دوست احباب اور رشتے داروں کو عید سے بہت پہلے ہی اس ڈر سے مبارک باد پیش کر دی کہ پتہ نہیں کب انٹرنیٹ سے پابندی ہٹے گی۔

جموں میں رہنے والے میرے دوستوں کو مختلف کورسوں میں آن لائن داخلے کے لیے جالندھر، پٹھان کوٹ اور لدھیانہ جانا پڑا کیونکہ داخلے کی تاریخ نزدیک آ گئی تھی۔

اس سے بھی بری بات تو یہ تھی کہ سیاح پھنسے ہوئے تھے اور وہ اپنے گھر واپس جانے کے لیے آن لائن ٹکٹ بک نہیں کر پا رہے تھے۔ انٹرنیٹ پر پابندی لگانے کے غیر منطقی فیصلے کو دیکھتے ہوئے عید بہت پر امن طریقے سے منائی گئي۔

نو انٹرنیٹ ڈے پر میں دن بھر اپنے یار دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر گپّیں ہانکتی رہی۔ میں نے انٹرنیٹ پر پابندی عائد کرنے سے متعلق فیصلے پر سب کی رائے سنی۔ تقریباً تمام لوگوں میں مایوسی اور مخالفت کے اظہار کی تمنا تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ پر پابندی لگانا غیر منطقی اور غیر آئینی ہے۔

ستم ظریفی یہ کہ اس دن جب پورا ملک آزادی کا جشن منا رہا ہو اور یوم جمہوریہ کی یاد میں تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہو، کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی عائد کی جاتی ہے اور یہ سلسلہ عشروں سے جاری ہے۔

اسی بارے میں