’سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی‘

جس نے بھی یہ کہاوت کہی کیا خوب کہی تھی کہ ’سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی۔‘ ضیاء الحق سے لیکر نواز شریف کی حکومتوں تک پاکستان پرخفیہ ایجینسیوں کی حکومت کے ایک طاقتور کردار ریٹائرڈ بریگيڈئير امتیاز با المعروف ’برگیڈيئر بلا‘ دو دہائيوں کی خاموشی کے بعد ایران کونٹرا سیکنڈل والے کرنل اولیور نارتھ کی طرح طوطا مینا ٹائپ جنگي کہانیوں سے واپس آئے ہیں۔ میں اسے ’ویمپائر اسٹرائیکس بیک‘ کہوں گا۔

اب وہ اپنے متعلق کہتے ہیں کہ وہ ’آدھی شب کا گیدڑ نہیں بلکہ دن دہاڑے چیتا ہے۔‘

مجھے کوئی حیرت نہیں ہوگی کہ کسی صبح کوئي پاکستانی نجی چینل آن کرنے پر سدا امر آمر جنرل ضیاء الحق بھی بیٹھا کہہ رہا ہوگا کہ دنیا و دین کی بھلائی کے لیے وہ جان سے گزر گئے تھے۔ اور یہ کہ ’پاکستان میں آمر مرتے نہیں زندہ ہوتے ہیں۔‘ مرتے صرف بھٹو ہیں، نذیر عباسی ہیں، کہ یہ سولہ کروڑ گیدڑوں کا جنگل ہے جہاں نیم شب کی کوئی صبح نہیں۔ جہاں کی نجی چینلوں پر صبح شام کوئی میجر عامر، کوئي بریگیڈیر با اللہ، کوئی جنرل با پردہ ناصر، کو‏ئي حمید گل کوئی درانی بالم بنے بول رہے ہوتے ہیں۔

نذیر عباسی کون تھا؟

نذیر عباسی پاکستان کے بائيں بازو کا وہ طالبعلم رہنما تھا جسے دوران قید مبینہ طور پر کل کے سندھ میں آئي ایس آئی کے کرنل اسی بریگيڈيئر امتیاز کے حکم پر تشدد کر قتل کردیا گیا تھا۔ نذیر عباسی کے ساتھی اور دوست اور نذیر عباسی کی بیوہ حمیدہ گھانگرو کی طرف سے بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں انیس سو چورانوے میں کٹوائی جانے والی ایف آئی آر بھی یہی کہتی ہے۔ تیس جولائي انیس سو اسی کو کراچی کے نارتھ ناظم آباد کی ایک بستی کے ایک کوارٹر سے نذیرعباسی کو اپنے ساتھیوں بدر ابڑو (مصنف اور ماہر آثار قدیمہ)، سہیل سانگي (صحافی)، شبیر شر (اب سندھ میں انسانی حقوق کے وکیل)، احمد کمال وارثی (مزدور رہنما) اور پرفیسر جمال نقوی کو فوجی ایجنسی اور آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا۔

سندھ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر نذیر عباسی کی وہ کئي دنوں سے تلاش میں تھے۔ ’آج بھی وری ہو فاشی کتا مونکھے قابو کن تھا‘، شیخ ایاز کی مشہور نظم ہے۔ (|آج وہ فاشی کتے مجھے پھر قابو کرتے ہیں‘)۔ دبلا پتلا کنگلا لیکن خوبصورت شکل، خوبصورت آواز ذہن و دل والا نذیر عباسی جناح ہسپتال کے قریب قائم خفیہ ایجینسوں کے نیئپیر بیرکس نام کے عقوبت گھر میں مبینہ طور پر آٹھ اور نو اگست کے درمیاںتشدد کر قتل کردیاگیا۔ نذیر عباسی اور اسکے ساتھی، پاکستانی خفیہ ایجیسسیوں کی نظروں میں را، خاد، کے جی بیکے ایجنٹ تھے۔ نذیر عباسی کا جرم یہ تھا کہ وہ پاکستان سطح پر طالب علموں، مزدوروں، کسانوں کی رابطہ کمیٹی کومنظم کرنے میں سرگرم تھا۔

نذیر عباسی کے لیے بتایا گیا تھا کہ ’حوالات میں اس کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئي‘۔ معروف سماجی کارکن عبدالستار ایدھی جس نے نذیر عباسی کی لاش کو غسل دیا تھا کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا تھا ‘جیسے کہ اس کے سر کو کسی شیشے سے ٹکرایا گیا ہو۔ ’وہ شخص جو شبخون میں مارا گیا ورنہ اس جیسا بہادرکوئی لشکر میں نہیں تھا‘ نذیر عباسی کے ریاستی قتل پر اس کے دوست شاعر معین قریشی نے کہا تھا۔ نذیر عباسی کا قتل ضیاء الحق کے آمرانہ دور میں پہلا ماورائے عدالت قتل تھا۔

پاکستان میں حزب مخالف خاموش کردینے کی کوشش کی گئي تھی اور ایسے میں یہ بڑی جرائتمندانہ آواز بیگم نصرت بھٹو کی تھی جس نے نذیر عباسی کے ضیا حکومت اور اس کی ایجینسیوں کے ہاتھوں تشدد میں قتل کی مذمت کی تھی جسے مجھے آج بھی یاد ہے بی بی سی نے نشر کیا تھا۔

کئي سال بعد شجاعت نام کے خفیہ ایجینسی کے اہلکار نے نذیر عباسی کے قتل کی تفتیش کرنے والے ادراے کے اہلکاروں کے سامنے بیان دیا تھا کہ ضمیر کے بوجھنے اسے چین سے رہنے نہیں دیا اور اسنے نذیر عباسی پر تشدد اس وقت کے آئي ایس آئي کے کرنل امتیاز کے حکم پر کیا تھا۔ کئي سال بعد انیس سو چورانوے میں نذیر عباسی کی بیوہ حمیدہ گانگھرو کی درخواست پر بینظیر بھٹو حکومت کے حکم پر سندھ پولیس نے برگیڈئیر امتیاز کے خلاف نذیر عباسی کے تحویل میں تشدد کے ذریعے مبینہ قتل کا مقدمہ درج کر کے ایف آئي آر سیل کردی تھی۔ ’اصل میں آج بینظیر بھٹو حکومت کا پہلا دن ہے‘، انیس سو چورانوے میں انٹیلیجنس بیورو کے اس سابق سربراہ کی گرفتاری کے وقت میرے صحافی دوست جاوید جیدی نے کہا تھا۔ اسکی گرفتاری کے دوسرے دن اسکی خبر کے ساتھ اخبارات میں پاکستان کے صحافیوں کی وہ فہرست بھی حکومت کی طرف سے جاری کی گئي تھی جو برگیڈيئر امتیاز اور اسکی انٹیلیجنس بیورو کے پے رول اور فوائد حاصل کرنے والوں میں شامل تھے۔

وہی برگیڈئیر امتیاز جو بعد میں نواز شریف کی پنجاب میں وزرات اعلیٰ اور پہلی وزرات اعظمیٰ کے دور میں اسکے کان اور آنکھیں تھا۔ وہ اصل میں اس وقت ’جیک دی رپر‘ ٹائپ کردار تھا۔

یہ جو کراچي اور سندھ دیکھ رہے ہو اس میں بشمول ایم کیو ایم کے ٹکڑے کروانے کے ان تمام فتنوں کے پیچھے دماغ اور پے رول برگیڈئیر امتیاز ہی بتائے جاتے ہیں۔ شاید اب بھی کسی بڑے کام کیلیے پھر اس گیدڑ نیم شب کو دن دیہاڑے چیتا بنایا گيا ہے۔

اسی بارے میں