پاگل خانےمیں ذبح خانہ

Image caption ’تو پھر کیا تمام پنجابی طالبان، وزیرستان ہجرت کر جائیں گے یا ایک چھوٹی سے خلافت ملتان اور رحیم یار خان کے بیچ میں بھی قائم ہو گی‘

گذشتہ ہفتے ایک غیر صحافی دوست نے سوال پوچھا کہ آخر پاکستانی طالبان کے سیاسی مقاصد کیا ہیں۔ میں نے اسکو سنی سنائی باتیں بتائیں لیکن اسے کیا یقین آنا تھا مجھے خود اپنے جواب پر یقین نہیں آیا۔ تب سے میں ہر صحافی، دانش ور سے پوچھتا ہوں، ادارتی صفحے کھنگالتا ہوں اور جو جواب ملتے ہیں اس سے میرے ذہن میں مزید سوال اٹھتے ہیں۔ اب تک ملنے والے جوابات اور میرے سوال در سوال کچھ یوں ہیں۔ جواب پہلے ہے سوال بعد میں۔

ج: پاکستانی طالبان، افغانستان کے طالبان کے ساتھ مل کر امریکی فوجوں کی واپسی چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان قبائلی علاقوں میں مداخلت نہ کرے تاکہ وہ اپنے قبائلی رسم و رواج اور شریعت کے مطابق زندگی گزار سکیں۔

س: تو پھر کیا تمام پنجابی طالبان وزیرستان ہجرت کر جائیں گے یا ایک چھوٹی سے خلافت ملتان اور رحیم یار خان کے بیچ میں بھی قائم ہوگی؟

ج: پاکستانی طالبان کا کوئی وجود نہیں یہ صرف قبائلی انتظام ہے۔ خون کا بدلہ خون۔ پاکستانی فوج نے ان پر چڑھائی کی۔ وہ صرف بدلہ لے رہے ہیں۔

س: اگر یہ صرف قبائلی انتقام ہے تو گزشتہ دہائی میں شیعوں سے اور اس سے پہلے قادیانیوں سے کون سا انتقام لیا جا رہا تھا؟

ج: یہ تحریک اس عالمی اسلامی نشاۃ الثانیہ کا حصہ ہے جو نو گیارہ کے بعد شروع ہوئی۔ یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مسلمانوں کا ازلی دشمن امریکہ گھٹنے نہیں ٹیک دیتا۔

س: اس عالمی تحریک کے پوسٹر بوائے اسامہ بن لادن ہیں اور گیارہ نو سے پہلے ان کا سیاسی مشن تھا سعودی عرب میں اسلامی نظام کا نفاذ۔ سعودی عرب میں اسلامی نظام کا نفاذ؟ ہمیں تو بچپن سے پڑھایا گیا تھا کہ سعودی عرب وہ واحد جگہ ہے جہاں اسلامی نظام موجود ہے۔ تو اب کیا مقصد ہے؟ کیلیفورنیا میں اسلامی نظام کا قیام؟ اور کیا یہ عظیم مقصد پشاور کے معصوم بچوں کو زندہ جلائے بغیر حاصل کیا جاسکتا ہے؟

ج: آپ واقعی توقع رکھتے ہیں کہ قبائلی پٹھان کسی سیاسی منشور پر عمل کر رہے ہیں؟ یہ سوال ہی لغو ہے۔

Image caption ’میڈیا میں اور مسجدوں میں انکا دفاع کرنے والے کس کے ایجنٹ ہیں‘

س: الیاس کشمیری، ڈاکٹر عقیل، حاجی اسحٰق، اکرم لاہوری، مولانا مسعود اظہر نہ تو قبائلی ہیں نہ پٹھان۔ یہ سب پاکستان میں کبھی کسی ایجنسی، کبھی کسی مذہبی جماعت کے ہیرو بھی رہے ہیں۔ تو کیا یہ سب لوگ بھی طالبان کے ساتھ تعلق بنانے کے بعد پٹھان ہو گئے ہیں؟ کیا ان سادہ دلوں کا بھی کوئی سیاسی منشور نہیں ہے۔ اور کیا اس نامنشور پر عمل کے لیے ضروری ہے کہ غریبوں کے بچے بارود اور کیلوں سے بھری جیکٹیں پہنا کر اڑادیے جائے؟

ج: یہ سب امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے ایجنٹ ہیں۔

س: سب کے سب؟ اور میڈیا میں اور مسجدوں میں انکا دفاع کرنے والے کس کے ایجنٹ ہیں؟

ج: یہ ملک ایک پاگل خانہ ہے۔مصری عالم سید قطب کے پیروکاروں کے ذہن میں آیا کہ اس پاگل خانے کے بیچ ایک ذبح خانہ قائم کر دیا جائے تو سارے پاگل اپنے کام چھوڑ کر یا تو تالیاں بجائیں گے، یا روئیں گے، یا خون میں ہاتھ دھو کر اپنے چہروں پر ملیں گے۔گوشت کے لوتھڑے بھنبھوڑیں گے، ڈر کے سجدوں میں گر جائیں گے، ذبح خانے میں سجدوں میں جھکی گردنیں کاٹی جائیں گی، پرانی قبروں سے ڈھانچے نکال کر انہیں چوراہوں پر پھانسی دی جائے گی۔ چھوٹے بچوں کو چھوٹی قبروں میں دفنا کر اللہ کی رضا قرار دیا جائے گا۔ ذبح خانہ تکبیر کے نعروں سے گونجے گا۔ اور یوں سارے پاگل سید قطب کے خواب کی تعبیر پائیں گے اور بخشے جائیں یا نہ جائیں پاگل خانے کی پاگل زندگی سے نجات ضرور پائیں گے۔

س: آمین ثم آمین

اسی بارے میں