پاکستان کا کلچرل کنفیوژن

پرچم
Image caption ثقافت کے لحاظ سے پاکستان کا مطلب کیا؟

پاکستان آج حالت جنگ میں ہے لیکن پاکستان کا کلچر گزشتہ نصف صدی سے میدان کارزار بنا ہوا ہے۔ شروع میں بحث سادہ سی تھی: کیا ہمارا کلچر محمد بن قاسم کے ساتھ بحری جہازوں پر آیا تھا یا پھر موہن جو داڑو کی گلیوں سے شروع ہوا تھا۔ کیا ہمارا قومی نغمہ ’دما دم مست قلندر‘ ہے یا ’میرے مولا بلالے مدینے مجھے‘۔

آزادی سے پہلے پوچھا جاتا تھا کہ بچوں کو سکولوں میں سارے جہاں سے اچھا ہندوستان پڑھایا جائے، یا ’تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں‘۔ گزشتہ صدی میں ہم نسبتاً معصوم تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے کلچر کی خوبی یہ ہے کہ اس میں سب چلتا ہے۔ جس نے دھمال ڈالنی ہے، دھمال ڈالے، جس نے عمرے کا شرف حاصل کرلیا ہے تو اس کی قسمت۔ ہم بظاہر ایک ایسے معاشرے میں رہتے تھے جس میں مجرے، مشاعرے اور میلاد، سب چیز ایک ہی محلے میں ہوسکتی تھیں۔

Image caption کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ موسیقی کی سی ڈیز اور فلمی ڈی وی ڈی فلموں کی تباہی ایک اچھا کام ہے

لیکن گزشتہ دہائی میں جہاں ہر گھر کے اندر میوزک چینل اور ہر بازار میں جہاد کے لیے چندے کا ڈبہ آیا، جیسے جیسے کھاتے پیتے گھرانوں کے بچے باہر سے پڑھ کر لوٹے اور غریبوں کی اولادیں مدرسوں سے سندیافتہ ہو کر نکلیں ہماری ثقافتی خلیج گہری ہوتی گئی۔ ایک طرف راک اور پنک بینڈز تو دوسری طرف بلبل پاکستان لقب سے مشہور ہونے والے نعت خوان، ایک طرف فیشن کی انڈسٹری تو دوسری طرف حجابی تحریک، ایک طرف کرکٹ کی پیچ پر درود و صلوٰة کرتے ہمارے کھلاڑی اور دوسری طرف بلو کے گھر کی طرف لائن لگائے ہوئے ہمارے پاپ سنگر۔

اگر آپ کراچی کے اردو بازار کا چکر لگائیں تو آدھی سے زیادہ کتابیں بہتر سے بہتر مسلمان بننے کے بارے میں ہوں گی۔ حلال لائف انشورنس سے لے کر ازدواجی حقوق کی شرعی ادائیگی تک، کوئی ایسا موضوع نہیں جس پر آپ کو کتاب دستیاب نہ ہوسکتی ہے، پاکستان میں کسی کو یہ علم نہ ہو کہ پاکستان کے مشہوری جہادی رہنما مولانا مسعود اظہر کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا لیکن ان کی چالیس سے زیادہ تصانیف ہر جگہ دستیاب ہیں۔

ہمارے بازار کے کلچر میں کچھ تاجر حضرات دھندے کو اپنا دین مانتے تھے۔ گزشتہ سالوں میں کچھ لوگوں نے دین ہی کو دھندا بنا لیا۔ پاکستان کے کلچر میں گزشتہ سالوں میں سب سے زیادہ ترقی ان چیزوں میں ہوئی جس پر مذہب کا ٹھپہ لگا ہو۔ حلال چکن کے برگر ہوں یا لگژری حج ہمارے ہاں خوف خدا اور حرص دنیا ایک دوسرے سے اس طرح گلے ملے ہیں کہ اس ملک کے کروڑوں عوام حیرت بھری آنکھوں اور خالی پیٹوں کے ساتھ دیکھتے رہ گئے۔ اور پھر سال 2009ء اپنے ساتھ طالبان کا پاکستانی اوتار لایا اور اس کے بعد ہمارے قدموں تلے سے زمین نکل گئی۔

سال 2009ء میں ہمیں پتہ چلا کہ جسے آج تک ہم اپنی معصومیت، کشادہ دلی اور سب چلتا ہے، کا کلچر سمجھ رہے تھے وہ جہالت، تنگ نظری اور اپنے ہی گلے پر خنجر چلائی ایک تہذیب ہے۔

ہماری اجتماعی مرضی کی تشخیص اسی سال ایک کتاب میں کئی گئی ہے جس کا نام ’تہذیبی نرگسیت‘ ہے۔ مبارک حیدر کی یہ کتاب حکیم کا نسخہ بھی ہے اور ادب پارہ بھی۔ راقم کے خیال میں یہ کتاب ہر ہائی سکول کے سلیبس میں شامل ہونی چاہیے۔ اس سے نہ صرف نوجوانوں کو اپنا ماضی اور حال سمجھنے میں مدد ملے گی بلکہ ان کی زبان بھی بہتر ہوگی۔ اسی طرح کافی طویل عرصے کے بعد آنے والی سرمد صہبائی کی نظموں کا مجموعہ ’پل بھر کا بہشت‘ مدرسوں اور مسجدوں میں پڑھائی جانی چاہیے، آذانوں کے بعد لاؤڈ سپیکروں پر نشر ہونی چاہیے۔ اس سے ہماری روحانی بے قراری کو افاقہ ہوگا۔ اس کے بعد تفریح طبع کے لیے مرزا اطہر بیگ کا ناول ’سائبر سپیس کا منشی‘ پڑھ لیں یا کاملا شمسی کا نیا ناول ’برنٹ شیڈوز‘ دونوں نئے زمانے کے ناول ہیں لیکن دونوں میں ایک قدیم کہانیوں والی چاشنی ہے۔

Image caption پاکستان میں فیشن شو کا رواج بھی زیاد ہو گیا ہے

ہمارے ثقافتی اظہار کے دوسرے پیرائے زیادہ تر الیکٹرانک دور میں داخل ہوچکے ہیں۔ کوئی قوم اتنے لطیفے یا شعر موبائل فون پر نہیں بھیجتی ہوگی جتنے ہم بھیجتے ہیں۔ ہمارے نیوز چینل ایکشن سے بھرپور فلمیں ہمیں چوبیس گھنٹے دکھاتے ہیں۔ انگلیاں ہلا ہلا کر ہمیں قیامت کے قریب ہونے کی نشانیاں بتانے والے اینکر پرسنز ہمارے ٹیلی ویژنوں کے ذریعے ہر گھر میں گھس آئے ہیں۔ ٹیلی ویژن ڈراموں کے زوال کا رونا رویا جاتا ہے لیکن ہر ہفتے پہلے سے زیادہ چمکدار، لہنگے اور گنجلک کہانیوں والے سیریل آب و تاب سے چل رہے ہیں۔

پاپ سنگرز جتنے مقبول عام ہو رہے ہیں اتنا ہی ان کا ذہنی کنفیوژن بڑھتا جارہا ہے۔ امریکی گانے امریکی سروں میں گانے کے بعد وہ طالبان کو مجاہدین ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں پھر مہیش بھٹ کی نئی فلم میں گانا ریکارڈ کروانے بمبئی چلے جاتے ہیں۔غریبوں کے بچوں کو بم بنانے والوں کے خلاف نعرہ مستانہ صرف ابرار الحق بلند کرتے ہیں وہی ابرار جنہوں نے پوری قوم کو بلو کے گھر کا راستہ دکھایا تھا۔ باقی سب ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر گاتے ہیں کہ ’یہ ہم نہیں‘ اور جب پوچھیں کہ تو پھر کون ہے تو سر کھجانے لگتے ہیں۔ سوال جو پوچھا جانا چاہیے لیکن نہیں پوچھا جاتا وہ یہ ہے کہ کیا یہ ثقافت خانہ جنگی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے یا خانہ جنگی ہمارے تہذیبی اور ثقافتی مغالطوں کا نتیجہ ہے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ’موت کا منظر، مرنے کے بعد کیا ہوگا؟‘ کا بائیسواں ایڈیشن نئی آب و تاب سے مارکیٹ میں آچکا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہانیاں اور کتابیں وہ لوگ پڑھیں گے جو حروف تہجی کو جوڑ کر لفظ بنا سکتے ہوں۔ موجودہ سال میں جاری جنگ میں ہمارا ایک حریف ایسا بھی ہے جو ا، ب، پ کو بھی صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتا ہے۔

گمراہ ترین مسلمان اور جید علماء سبھی اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن کی پہلی نازل ہونے والی آیت ایک لفظ پر مشتمل ہے۔ اقراء، اس کے ترجمے پر بھی کبھی اختلاف دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔ یعنی ’پڑھ‘۔ لیکن جب طالبان کے نام سے وادی سوات پر نازل ہونے والے نجات دہندگان نے بچوں اور بچیوں کے سکولوں کو بارود سے اڑانا شروع کیا توقوم کو یہ مشکل پیش آئی کہ اس کی توجیہہ کہاں سے لائی جائے۔ بچیوں کے سکولوں پر زبردستی بندش کے دوران راقم نے منگورہ شہر کی کچھ بچیوں سے بات کی تو ان کی توجیہات کچھ اس طرح کی تھیں۔

’اگر ہم پڑھ لکھ نہیں سکیں گے تو قرآن اور حدیث کیسے پڑھیں گے۔‘

’اگر ہم پڑھ لکھ کر ڈاکٹر نہیں بنیں گی تو کیا عورتوں کا علاج مرد ڈاکٹر کریں گے۔ اس کی تو اجازت نہیں ہے۔‘

اور جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ خونی چوک پر سرعام قتل کی جانے والی رقاصہ کے بارے میں کیا خیال ہے۔ تو بچیاں سہم گئیں۔ ’اس کی تو اجازت نہیں ہے۔ اگر کوئی ڈانس جیسا برا کام کرے تو اسے سمجھانا چاہئے، مارنا تو نہیں چاہئے۔‘

ان بچیوں کی عمر سات سے گیارہ سال کے درمیان تھی۔

کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ تہذیبی مغالطے اور ثقافتی خوش فہمیاں جنہیں ہم نے اپنے خون دے کر سینچا ہے سنہ 2010 میں غائب ہوجائیں، امید یہ ہی ہے کہ ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ ہمارے نظریاتی خلا کو اور وسعت دے گا ہم اپنے آپ کو بیک وقت مجاہدین اور مظلومین سمجھتے ہیں، آنے والے سالوں میں اس کے اظہار کے پیرائے بدلیں گے لیکن ہمارا پیغام یہی رہے گا۔ ڈیجیٹل درس قرآن پہلے ہی موجود ہے اب ہمارے مولوی حضرات اپنے خیالات عالیہ سے ہمیں ٹوئٹر کے ذریعے مستفید کیا کریں گے، سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے شرعی نصاب پہلے سے تیار ہے اب ڈیسک ٹاپ پر ملنے لگے گا۔

گالف کھیلتے ہوئے لوگ ڈیجیٹل تسبیح پر درود کا ورد کرتے پائے جائیں گے اور کوئی بعید نہیں کہ کالے رنگ کو گورا کرنے والی کریموں کے اشتہار کے لیے باپردہ ماڈلوں کو تیار کرلیا جائے۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ حفاظتی حصاروں کے پیچھے ہونے والے فیشن شو، میوزک کنسٹرٹ، یا فیملی میلے ہو پائیں گے یا دبئی کے صحرا کو ہجرت کر جائیں گے۔ لیکن پاکستان کی ثقافت کا وہ حصہ جو گلی کے نکڑوں پر لطیفے سنانے والے سنبھالے ہوئے ہیں وہ جاری رہے گا۔

دانت کا منجن بیچنے والے اپنی نظمیں لکھتے رہیں گے، میلوں ٹھیلوں پر ڈھول بجتا رہے گا حلقہ ارباب ذوق اپنا خون گرم رکھنے کے لیے کوئی نہ کوئی ادبی یا غیر ادبی بہانہ ڈھونڈتا رہے گا۔

خطرہ اس ثقافت کو ہے جو پڑھنے لکھنے ریاض کرنے اور اپنی ریاضت کی نمائش کرنے سے وجود میں آتی ہے۔

ہمارے ثقافتی رویے اور تہذیبی آدرش خطرناک حد تک مولانا فضل اللہ کی سوچ سے ہم آہنگ ہیں حضرت مولانا منور حسن کے الفاظ میں اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ عمل درآمد کیسے کیا جائے۔

اسی بارے میں