کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا۔ ۔ ۔

  • وسعت اللہ خان
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

افغانستان اور پاکستان سے متعلق خصوصی امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ اہم طالبان رہنما پکڑنے کے لئے مستعدی دکھانے پر امریکہ پاکستان کا شکر گذار ہے۔ تاہم امریکی حمایت یافتہ افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان سیماک ہراوی نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ملا عبدالغنی برادر اور آغا جان مستقیم جیسی شخصیات کی گرفتاری سے طالبان کو بات چیت کی میز پر لانے کی افغان کوششوں پر منفی اثر پڑا ہے۔ جبکہ اقوامِ متحدہ کے سابق ایلچی برائے افغانستان کائی ایڈی کا بھی کہنا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے حالیہ گرفتاریوں کے سبب طالبان سے مذاکرات کا خفیہ چینل فی الحال بند ہوگیا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

ملا عبدالغنی برادر اور آغا جان مستقیم جیسی شخصیات کی گرفتاری سے طالبان کو بات چیت کی میز پر لانے کی افغان کوششوں پر منفی اثر پڑا ہے۔

فرض کیجیے کہ پاکستان نے حالیہ دنوں میں افغان طالبان قیادت کو پکڑنے کے لئے اچانک جو پھرتیاں دکھائی ہیں اسکا مقصد مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان ایسا کیوں نہ کرے؟

پاکستان کا اندازہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران پچھلے آٹھ برس میں اسکی معیشت کو پینتیس سے چالیس بلین ڈالر کا براہ راست اور بلا واسطہ نقصان پہنچا ہے۔اس عرصے میں پاکستان کا قرضہ پینتیس بلین ڈالر سے چون بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ پاکستان کو اس لڑائی میں وعدہ کردہ کولیشن سپورٹ فنڈ کے ساڑھے تین ارب ڈالر کی واجب الادا رقم میں سے اب تک صرف نوے کروڑ ڈالر ہی مل سکے ہیں۔ جنگ سے متاثرہ پناہ گزینوں کی امداد کے لئے بین الاقوامی برادری کی جانب سے وعدہ کردہ پچاس ارب روپے میں سے صرف بیس ارب روپے ملے ہیں اور ٹوکیو میں فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان کے اجلاس میں مخیر ممالک نے جن سینتالیس ارب روپے کا وعدہ کیا تھا اس میں سے صرف پانچ ارب روپے مل سکے ہیں۔ جبکہ کیری لوگر بل کے تحت ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ کی امداد کا بھی پاکستان کو تاحال انتظار ہے۔

ایک طرف پاکستانی معیشت کی حالت روز بروز پتلی ہو رہی ہے اور دوسری جانب پاکستان کی فوجی و سیاسی قیادت کو ابھی تک کابل یا واشنگٹن کی اعلی قیادت نے غالباً ٹھوس یقین نہیں دلایا کہ افغانستان سے امریکی اور ناٹو افواج کے انخلا کی صورت میں پاکستان کے مفادات کا نئے ڈھانچے میں کتنا خیال رکھا جائے گا یا افغانستان میں دوبارہ کوئی ایسی انتظامیہ اقتدار میں آجائے گی جو پاکستان کے مقابلے میں بھارت، ایران اور روس سے زیادہ قربت محسوس کرے۔

ان حالات میں پاکستان اگر یہ محسوس کررہا ہے کہ نہ تو دھشت گردی کے خلاف جنگ اسکے مالی مسائل حل کر رہی ہے اور نہ ہی اسے علاقائی اثر و رسوخ کی بندر بانٹ میں حصہ دار بنایا جا رہا ہے تو پھر پاکستان کسی بھی طرح کی امن کوششوں کو کیوں ناکام نہ بنائے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ افغان حکومت اور اقوامِ متحدہ کے سابق ایلچی کیوں پاکستان پر امن مذاکرات سبو تاژ کرنے کا الزام لگا رہے ہیں جبکہ امریکی قیادت طالبان قیادت کو پکڑنے کی پاکستانی کوششوں کی کیوں تعریف کر رہی ہے؟

،تصویر کا کیپشن

اہم طالبان رہنما پکڑنے کے لئے مستعدی دکھانے پر امریکہ پاکستان کا شکر گذار ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ جو اب تک پاکستان پر طالبان کے بارے میں دوہری پالیسی برتنے کا الزام لگاتا آیا ہے کس منہ سے پاکستان میں موجود طالبان قیادت کی گرفتاریوں کی مخالفت کرے گا۔ حالانکہ اس وقت یہ گرفتاریاں امریکہ کے امن مذاکرات اور فوجی انخلا کی حکمتِ عملی کی کمر میں لگنے والے اس گھونسے کی طرح ہیں جس کے بعد کیفیت یہ ہوتی ہے کہ نہ آپ ہنس سکتے ہیں نہ رو سکتے ہیں۔ شائد اسی لئے امریکہ ان گرفتاریوں پر حامد کرزئی کے ترجمان اور اقوامِ متحدہ کے سابق اہلکار کائی ایڈی کی زبان میں نا خوشی کا اظہار کر رہا ہے ۔

فی الحال تو لگ یہ رہا ہے کہ پاکستان رفتہ رفتہ اپنی نئی حکمتِ عملی کے سبب افغان مسئلے کے حل میں ایک ناگزیر فریق کے طور پر ابھر رہا ہے اور اس دفعہ پاکستان شائد اپنا وہ تلخ تجربہ دھرانے کے موڈ میں نہیں لگتا

کہ

کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا، بارہ آنے!!!