یا ناپ لو یا پھر نپوا لو

اٹھائیس دسمبر دو ہزار سات کو صدر پرویز مشرف کے وزیرِ داخلہ جنرل ریٹائرڈ حامد نواز کے ترجمان بریگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے ایک بھری پریس کانفرنس میں کہا کہ جب بیت اللہ محسود کے بھیجے گئے خودکش قاتل کی بارودی جیکٹ پھٹی تو بے نظیر بھٹو کی موت سر میں لینڈکروزر کی شیلڈ کا لیور لگنے سے ہوگئی۔

پھر بریگیڈئیر چیمہ نے پشتو کی کچھ ریکارڈنگز بھی سنوائیں جن میں بیت اللہ محسود مشن کی کامیابی پر متعلقہ سرفروشوں کو مبارک باد دے رہے تھے۔

یوں مشرف حکومت نے بےنظیر بھٹو قتل کیس چوبیس گھنٹے سے بھی کم مدت میں حل کر لیا یہی نہیں چار پانچ نوعمر قاتل بھی پکڑ لئے جو اس وقت جیل میں ہیں۔

ظاہر ہے اتنی مستعدی کی توقع کسی کو بھی نہیں تھی اس لیے منفی ردِ عمل سے بچنے کے لیے سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کو زحمت دی گئی اور اسے سمجھا دیا گیا کہ آپ کو صرف یہ بتانا ہے کہ بےنظیر کی موت کا سبب کیا تھا چنانچہ بچاری سکاٹ لینڈ یارڈ اپنی رپورٹ میں یہی انکشاف کر پائی کہ موت گولی لگنے سے نہیں ہوئی۔

مشرف حکومت کی تو خیر سکاٹ لینڈ یارڈ کی رپورٹ سے بھی تسلی ہوگئی پیپلز پارٹی پھر بھی مطمئن نہیں ہوئی اور اس نے اقوامِ متحدہ کا سہارا لیا۔

بہت سے لوگوں نے کہا کہ فضول میں پانچ ملین ڈالر برباد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ بےنظیر بھٹو لبنانی وزیرِ اعظم رفیق حریری نہیں ہیں کہ جن کی ہلاکت کے بعد امریکہ نے ذاتی دلچسپی لے کر اقوامِ متحدہ سے موثر تحقیقاتی رپورٹ حاصل کرلی تھی۔ بے نظیر کے معاملے میں برسوں لگ جائیں گے اور کچھ ہاتھ نہیں آئےگا مگر اچھی بات یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ نے صرف آٹھ ماہ میں رپورٹ تیار کرکے حکومتِ پاکستان کو تھما دی ۔

ستائیس دسمبر دو ہزار سات کو بے نظیر بھٹو پر فیصلہ کن قاتلانہ حملے کے وقت ان کے چیف سیکورٹی ایڈوائز رحمان ملک کی گاڑی لیاقت باغ سے پندرہ کلومیٹر دور تیزی سے اسلام آباد کے بلاول ہاؤس پہنچ گئی جبکہ بےنظیر کو ہسپتال لے جانے کے لیے کوئی سلامت گاڑی نہیں تھی۔

بی بی کی فوری سکیورٹی کے ذمہ دار ایس پی خرم شہزاد نے ایس ایس پی سعود عزیز کے حکم پر اور سعود عزیز نے ملٹری انٹیلی جینس کے سربراہ میجرجنرل ندیم اعجاز کے حکم پر جائے حادثہ ایک گھنٹے چالیس منٹ بعد دھلوا دی۔

بے نظیر بھٹو کا جسد راولپنڈی جنرل ہسپتال میں پانچ گھنٹے پڑا رہا ۔چیف سرجن ڈاکٹر مصدق کی جانب سے ایس ایس پی سعود عزیز سے تین مرتبہ پوسٹ مارٹم کی اجازت کی درخواست اور اسپتال میں آئی ایس آئی کے کرنل جہانگیر اختر کی موجودگی اور آئی ایس آئی کے میجرجنرل نصرت عظیم سے کرنل جہانگیر کے ٹیلی فونک رابطے کے باوجود بے نظیر بھٹو کا پوسٹ مارٹم نہیں ہوسکا۔

ستائیس دسمبر کو بے نظیر بھٹو سے سیاسی ڈیل کرنے والے جنرل پرویز مشرف پاکستان کے صدر تھے۔ یہ سیاسی ڈیل کروانے والے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی چیف آف آرمی سٹاف تھے۔انکی جگہ مشرف کے قریبی معتمد میجر جنرل ندیم تاج آئی ایس آئی کے سربراہ تھے۔ پنجاب کے وزیرِ اعلی چوہدری پرویز الہی تھے جن کی جماعت این آر او کے خلاف نہیں تھی لیکن تیسری مرتبہ وزیرِ اعظم بننے پر پابندی کے قانون کو ختم کرنے کے خلاف تھی۔تاکہ چوہدری پرویز الہی کے وزیرِ اعظم بننے کی راہ ہموار رہ سکے۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں یہ تمام لوگ اور انکے ماتحتین کے نام موجود ہیں۔اگر نہیں ہے تو بیت اللہ محسود کا نام نہیں اور نہ ہی اس ریکارڈنگ کی تفصیلات ہیں جس میں بیت اللہ محسود اپنے ساتھیوں کو مشن کی تکمیل پر مبارک باد دے رہے ہیں اور نہ ہی ان چار پانچ نوجوانوں سے ملاقات کی گئی جن پر بیت اللہ کی ہدایت پر بے نظیر کے قتل کا الزام ہے۔

یہی نہیں بلکہ امریکہ کی سابق وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس ، افغان صدر حامد کرزئی ، متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ اور سعودی انٹیلی جینس چیف شہزادہ مقرن بھی بیت اللہ محسود کا نام لینے پر تیار نہیں۔ورنہ یہ سب اقوامِ متحدہ کے کمیشن سے ضرور ملاقات کرتے۔

حکومتِ پاکستان کی جانب سے رپورٹ کو فوری طور پر منظرِ عام پر نہ لانے کی متعدد درخواستوں کے باوجود اقوامِ متحدہ نے اس رپورٹ کا گز میدان میں رکھ دیا ہے۔اب دو ہی راستے ہیں۔یا تو حکومت اس گز سے بارودی سرنگوں سے اٹا ہوا میدان ناپ لے یا پھر گردن نپوا لے۔

اسی بارے میں