میں اشکوں میں سارے جہاں کو بہادوں

شاہ محمود قریشی
Image caption ’حالیہ سیلاب کے نتیجے میں پاکستان میں روٹی پر فسادات کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا‘

یہ ایک ایسا ملک جس میں حالیہ سیلاب کے دوران اسی لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہوں، جس کا ایک بڑا حصہ قیامت سے پانیوں کے زیر آب آیا ہوا ہو اور ساٹھ لاکھ لوگ فوری امداد نہ ملنے کی صورت میں پھوٹ پڑنے والے ممکنہ وبائي امراض اور بھوک کے مارے موت کی نوبت تک آن پہچنے ہوں۔ ایسے ملک کے وزیر خارجہ ایسے ہی نادار لوگوں کے خرچے پر اپنے آدھ درجن کے قریب ’معاونین‘ کے وفد کے ساتھ نیویارک کے ایک مہنگے ترین فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام کرنے آئے۔

بارکلے کانٹیننٹل ہوٹل، جہاں نیویارک میں اپنا ذاتی گھر ہوتے ہوئے صدر آصف زرداری بھی قیام کرتے ہیں۔ مجھے یاد آیا برطانیہ جس کے وزیر اعظم کو حال ہی میں ہم نے بہت ہی گالیوں کے گلدستے بیھجے تھے جب نیویارک آئے تھے تو وہ اپنے قونصل خانے میں ٹھہرے تھے۔

جب میں نے گزشتہ منگل کے روز پاکستانی میڈیا سے پاکستان میں سیلاب کی وسیع ترتباہ کاریوں اور اس کے متاثرین کی امداد کے لیے عالمی برادری کی توجہ مبذول کروانے کے لیے اقوام متحدہ کی طرف سے جنرل اسمبلی کے بلائے جانیوالے خصوصی اجلاس میں ان کی شرکت کے لیے آمد کے متعلق بریفنگ کے دوران سوال کیا کہ کیا وہ پاکستان کے لوگوں کو یہ بتائيں گے کہ آخر نیویارک کے مہنگے ترین ہوٹل میں ان کی ایک رات کا خرچہ کتنا آئے گا اور وہ کتنی راتیں قیام کریں گے؟

وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ اس سے پہلے بھی اس ہوٹل میں قیام کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ کیونکہ وہ یہاں اقوام متحدہ میں ایک اہم کام کے لیے آئے ہوئے ہیں اور ایسے نہیں کریں گے کہ پائی کے لیے تو وہ عقلمند ہوجائيں اور پاؤنڈ کی بیوقوفی کریں۔

دوسرے الفاظ میں، پاکستان میں سیلاب کے متاثرین کے لیے امداد حاصل کرنے کے مشن پر آئے ہوئے ان کا ایک مہنگے ہوٹل میں قیام مہنگا نہیں۔ وزیر خارجہ ایک دن بعد اقوام متحدہ میں یہ بھی کہہ رہے تھے کہ حالیہ سیلاب کے نتیجے میں پاکستان میں روٹی پر فسادات کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ یہ اس وقت کہہ رہے تھے جب تمام دنیا میں سیلاب کے متاثرین کی بے کسی، بے سروسامانی و تباہی کی ایسی ایسی تصاویر چھپ چـکی ہیں جو کہ اندوہناک صورتحال پیش کرتی ہیں۔

دلخراش مناظر پیش کرتی ہوئی تصاویر میں ایک ایسی تصویر بھی ہے جس میں ایک باپ اور اسکی معصوم بچی کو چائے کی ایک پلیٹ اپنی اپنی طرف سے پیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

سندھ میں سیلاب زدگان کو لانے والا ایک ٹرک جب جامشورو پہنچا تو انجان منزل تک پہنچتے پہنچتے ان کے دو بچے فوت ہوچکے تھے۔ وہ سامان کے ٹرک میں اپنے دو بچوں کی لاشیں بھی لائے تھے۔

لیکن اسی سیلاب میں متاثرہ گڑھی خیرو کی اس ماں کا دکھ تو دنیا کا کوئي کیمرہ، قلم اور برش کسی کینواس کاغذ اور فلم پر نہیں اتار سکتا کہ جوجب اپنی ساری پونجی سے ایک ٹرک کرائے پر لے کر اپنی اور اپنے بچوں کی جان بچاکر جامشورو کے ایک کیمپ میں پہنچی تو اس کے دو بچے انیلا اور الطاف بھوک سے مرچکے تھے۔

بچوں کی ماں اپنے بچے کچھے سامان میں سے سلائي مشین پر اب اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کے کفن سی رہی تھی۔ جو اس دکھی ماں کی تصویر حیدرآباد سندھ میں ویمن ایکشن فورم نے جاری کی ہے مجھے بس اس سطر کے مصداق لگی:

’میں اشکوں میں سارے جہاں کو بہادوں‘

اقوام متحدہ اور امریکہ نے تمام دنیا کے مقابلے میں اس وقت تک پاکستان کی بڑھ چڑھ کر مدد کی ہے۔ قطع نظر اس کے کہ سابق وزیر اعظم ظفر اللہ جمالی اور پاکستان کے جوتا جرنلسٹ یہ الزامات لگاتے رہے ہیں کہ جیکب آباد کے شہباز ايئر بیس کو بچانے کے لیے بلوچستان کے روجھان جمالی، نصیر آباد اور ڈیرا اللہ یار کو ڈبو دیا گیا۔

اقوم متحدہ میں جنرل اسبملی کے پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں اوراس کے متاثرین کے لیےامداد پر بلائے جانے والے خصوصی اجلاس میں بھی پاکستان کے ساتھ امریکہ سمیت تمام رکن ممالک نے مکمل یکجہتی کا اظہا ر کرتے اس کی فوری امداد کے لیے قرارداد بھی منظور کی اور اقوام متحدہ، امریکہ سیکرٹری خارجہ ہیلری کلنٹن، برطانیہ، متحدہ عرب امارات، ڈنمارک، ترکی یورپی یونین، جارجیا سمیت کئي ممالک نے کئي گنا امداد دینے کے وعدے و اعلانات کیے۔

بلین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ اس کی کیا گارنٹی ہے کہ عالمی برادری کی امداد اس مرتبہ بھی حقداروں اور متاثرین کو پہنچ پائے گی یا نہیں۔ اقوام متحدہ کی چار سو ساٹھ ملین ڈالر کی امداد فقط نوے دن کے لیے ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے جب پوچھا گیا کہ یہ عالمی برادری کی طرف سے ایسا اعتماد کا فقدان دو ہزار پانچ میں کشمیر میں زلزلے میں دی جانیوالی امداد کے دنوں سے ہے تو انہوں نے کہا کہ اس کی ذمہ داری ان کی حکومت پر نہیں کہ اس وقت وہ اقتدار میں نہیں تھے۔

پشتو شاعر نے کہا

زنجیر زنجیر مورچہ مورچہ گولیے گولیے شو وطن

اوبہہ اوبہہ سیلاب سیلاب سلگیہ سلگیہ شو وطن

(زنجیر زنجیر مورچہ مورچہ گولی گولی ہوگیا میرا وطن

پانی پانی سیلاب سیلاب ہچکی ہچکی ہوگیا یہ وطن)

اسی بارے میں