بٹ اچھا، بدنام برا

گزشتہ چند ہفتوں سے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور بارہ اکتوبر 1999 کو چند گھنٹوں کے لیے اپنے آپ کو پاک فوج کا سپہ سالار سمجھنے والے جنرل خواجہ ضیالدین بٹ شہ سرخیوں میں ہیں اور ٹاک شوز کی رونق بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے گیارہ سال بعد اپنی خاموشی کیوں توڑی ہے اس کے لیے کوئی بڑا تجزیہ نگار ہونا ضروری نہیں ہے۔

Image caption جنرل خواجہ ضیالدین بٹ

پہلے دو سال وہ قید میں تھے، پھر مشرف کا راج تھا، پہلے مشرف کا راج ختم ہوا پھر انہیں شہباز شریف کی انسپیکشن ٹیم میں ملازمت ملی اور آج کل ظاہر ہے وہ اس ملازمت کا حق ادا کر رہے ہیں۔

اگر جنرل مشرف لندن میں بیٹھ کر جنرل بٹ کے باسز کے خلاف ہرزہ سرائی کریں گے تو ظاہر ہے جواب دینا بٹ صاحب کا فرض بنتا ہے۔

لیکن جب بھی وہ منہ کھولتے ہیں تو میرا اور میری طرح کئی اور سویلین لوگوں کا دل دہل سا جاتا ہے۔

بارہ اکتوبر 1999 کو کیا ہوا؟ کیا ہوسکتا تھا؟ بٹ صاحب فرماتے ہیں کہ اگر میں اسی دن فوج کا سربراہ بننے کے بعد فوجی بغاوت کی مزاحمت کرتا تو نہ فوج رہتی، نہ پاکستان۔

فوجی بغاوت کے کرتا دھرتا کون تھے؟ جنرل مشرف اور ان کے حواری جنرل محمود، جنرل عزیز اور دو جنرل۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا وہ فوج جس سے ملک کی مقبول سیاسی جماعتیں لرزاں رہتی ہیں، جس کی وجہ سے دہلی سے واشنگٹن تک کے حکمرانوں کی نیندیں حرام ہیں، کیا نصف درجن جرنیلوں کے آپس کے اختلافات کی وجہ سے ختم ہوجاتی اور کیا انکے یہ جھگڑے اس ملک کو بھی لے ڈوبتے؟

اپنے دل کو تسلی دینے کے لیے ہم کہہ سکتے ہیں بٹ صاحب مبالغے سے کام لے رہے ہیں، اتنے قدیم اور طاقتور ادارے راتوں رات ختم نہیں ہوتے اور پاکستان جیسے ہانپتے کانپتے ملک بھی ایسے حادثات برداشت کرجاتے ہیں۔

پاکستان اور اس کی محافظ فوج کے خاتمے کی خبر سے بھی زیادہ دل دہلا دینے والی باتیں وہ ہیں جو بٹ صاحب نے اپنے ساتھی جرنیلوں کے بارے میں کہی ہیں۔ بقول ان کے جنرل مشرف فوج میں اتنا جھوٹ بولتے تھے کہ لوگوں نے ان کا نام ’سی این این‘ رکھا ہوا تھا، (یہ بات جنرل بٹ نے سی این این سے معذرت کرتے ہوئے بتائی)۔

جنرل محمود کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ معرکہ کارگل کے معمار تھے لیکن معرکے کے عروج پر ان کی یہ حالت تھی کہ کارگل کا نام سن کر خوف سے ان کی ٹانگیں کانپتی تھیں۔ جنرل عزیز فوج میں انتہائی غیر مقبول تھے کیونکہ اہلیت کے بغیر اعلیٰ عہدے پر ترقی پاگئے تھے، جنرل بٹ سے پوچھا جاتا ہے کہ بارہ اکتوبر کو سپہ سالار کے پھول کندھے پر سجانے کے بعد کیا انہوں نے اپنے کور کمانڈروں سے رابطہ کیا تو ان کا بے ساختہ جواب تھا، ہاں کیا، لیکن وہ گالف کا ٹائم تھا، کئی گالف کھیل رہے تھے۔

جنرل بٹ کی باتیں سن کر اور اس سے پہلے جنرل مشرف اور ان کے حواریوں کی حرکتیں دیکھ کر بارہ اکتوبر 1999 کو فوج کی اعلیٰ کمان کا جو تاثر ابھرا ہے وہ کچھ یوں ہے جیسے کسی سرکاری ہائی اسکول کا گراؤنڈ ہو جہاں کچھ لڑکے کونے میں گلی ڈنڈا کھیل رہے ہیں، کوئی درخت کے پیچھے چھپا سوٹے لگا رہا ہے، کوئی راہ گیروں پر سیٹی بجا رہا ہے، کوئی جونیئر جماعت کے بچے کی ٹھکائی کر رہا ہے اور کوئی لیبارٹری میں چھپا شیشہ دیکھ کر اپنے منہ کے کیل مہاسے نوچ رہا ہے۔

فوج کے تعلقات عامہ کے محکمے نے گزشتہ چند سالوں میں اپنے کام میں بڑی مہارت حاصل کی ہے اور ایسے ایسے کالم نگار اور دفاعی تجزیہ نگار پیدا کیے ہیں کہ ان کی لغو بات پر بھی صحیفے کا گمان ہوتا ہے۔ کیا اس ادارے سے یہ گزارش کی جاسکتی ہے کہ فوج کے سابق جرنیلوں اور آئی ایس آئی کے سربراہوں کی بھی تربیت کا کچھ انتظام کرے تاکہ وہ اس سہمی ہوئی قوم کا دل مزید دہلانے سے باز رہیں؟

اسی بارے میں