معاشرہ شدت پسندی کے شکنجے میں؟

Image caption وکلاء کے ایک گروپ نے راولپنڈی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کا گھیراؤ کیا اور ملزم پر گل پاشی کی

پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے پولیس اہلکار کی پیشی کے موقع بعض مذہبی تنظیموں کے کارکنوں اور وکلاء کے ایک گروپ کی جانب سے راولپنڈی کی عدالت کے گھیراؤ اور ملزم پر گل پاشی نے دنیا بھر میں لوگوں کے ذہنوں میں ایک نیا سوال جنم دیا ہے اور وہ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی معاشرہ مذہبی شدت پسندی کی آخری حد بھی پار کرگیا ہے۔

اور یہ بھی کہ کیا اب پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی کے سامنے انسانیت، رواداری اور ملکی آئین و قانون کی کوئی اہمیت نہیں رہی جو تمام شہریوں کو برابری اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کی یقین دہانی کراتا ہے خواہ ان کا کسی بھی مذہب، فرقے، نسل یا علاقے سے تعلق ہو۔ ایسا کیوں ہے اور اسکے اثرات کیا ہوسکتے ہیں۔

توہین رسالت کے قانون کے بارہا غلط استعمال کے پیش نظر اسے ملک کے کئی سیاسی، سماجی اور قانونی حلقے متنازعہ قرار دیتے رہے ہیں اور اس میں بہتری لانے کی بات کرتے رہے ہیں لیکن ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اس قانون کے غلط استعمال کے خلاف بات کرنے پر ایک صوبے کے گورنر کو انہی کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار نے قتل کردیا اور اس پر مستزاد یہ کہ قاتل کی پذیرائی اور حمایت بھی ہورہی ہے۔

جمعرات کو نقص امن کے خدشے کے پیش نظر سرکاری حکام نے ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے راولپنڈی، اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کو اسلام آباد منتقل کردیا تھا لیکن صبح سویرے ہی وکیلوں اور مذہبی تنظیموں کے درجنوں کارکنوں نے راولپنڈی میں واقع عدالت کو گھیر لیا اور جج کو اسلام آباد جانے نہیں دیا۔ ملزم کے حامیوں کے جلوس کی وجہ سے استغاثہ کے وکلاء بھی عدالت میں پیش نہیں ہوسکے تھے جس کے بعد جج کو مجبوراً راولپنڈی کی عدالت میں ہی سخت دباؤ کے ماحول میں مقدمے کی سماعت کرنا پڑی۔

قانون کی نظر میں سیدھے سادھے اس قتل کے معاملے پر مذہبی حلقوں کے دباؤ کے بعد پاکستان کی لبرل حلقے بھی پریشان نظر آتے ہیں اور کئی افراد اس معاملے پر کھل کر بات کرنے کو اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف تصور کررہے ہیں۔

تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ پاکستانی معاشرہ اب پوری طرح شدت پسندی کے شکنجے میں ہے؟

سیاسی اور دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ اگر ایسا پہلے نہیں تھا تو اب پاکستانی معاشرہ اسکے قریب ضرور پہنچ گیا ہے۔

ان کے بقول ان شدت پسندوں کی تعداد اب بھی کم ہے جو تشدد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں لیکن وہ طرز فکر جو شدت پسندی کو فروغ دیتی ہے یا ان کے خلاف کارروائی سے روکتی ہے، وہ خاصی بڑھ گئی ہے۔

ڈاکٹر رضوی کا کہنا ہے کہ شدت پسندی کی حامی یہ سوچ اب ہمارے تعلیم یافتہ طبقے، سرکاری اداروں، مسلح افواج میں بھی سرایت کرگئی ہے۔

لیکن پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر اعجاز خان کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ شدت پسندی کی حمایت بڑھ رہی ہو لیکن یہ سوچ اب بھی عوام میں مقبول نہیں ہوئی ہے۔

ان کے بقول اگرچہ مذہبی جماعتوں نے مقتول سلمان تاثیر کی نماز جنازہ میں شرکت کو ایک گناہ قرار دیا تھا لیکن اسکے باوجود ہزاروں لوگوں نے ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور ملک کے کئی حصوں میں غائبانہ نماز جنازہ بھی کی۔

پروفیسر اعجاز کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذہبی جماعتوں نے کبھی بھی انتخابات میں چھ فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں لیے اور ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے میں ان کی ناکامی اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ ان جماعتوں نے دھونس دھمکی اور قتل جیسے ہتھکنڈوں کا سہارا کیوں لیا ہے۔

پروفیسر اعجاز کہتے ہیں کہ مذہبی شدت پسند اس لیے بھی کامیاب ہوتے نظر آتے ہیں کہ ملک کی سیکیورٹی اسٹیبلشمینٹ اکثر اپنے مفادات کے لیے ان کی حمایت کرتی رہی ہے۔

اسی بارے میں