حقانی نیٹ ورک

حقانی نیٹ ورک تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption افغان جنگجو کمانڈر جلال الدین حقانی۔ جن کا گروپ مشرقی افغانستان میں اب بھی مؤثر قرار دیا جاتا ہے۔ میران شاہ 1998۔ تصویر اے پی۔

سوویت یونین کے تسلط کے خلاف لڑنے والے معروف جنگجو کمانڈر جلال الدین حقانی کا گروپ اب بھی مشرقی افغانستان کے علاقوں پکتیکا سے ننگر ہار تک پورے طور پر مؤثر اور متحرک ہے۔

اسے جنگجو گروپوں کا گاڈ فادر بھی کہا جا سکتا ہے۔

دو ہزار آٹھ سے حقانی نیٹ ورک کے نام سے معروف اس گروپ کی قیادت ان دنوں جلال الدین حقانی کے بیٹے سراج الدین حقانی کے ہاتھ میں ہے جسے خلیفہ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔

حقانی گروپ کو افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج پر مہلک حملوں کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے جن میں دو افغان وزراء اور کابل جیل پر حملہ بھی شامل ہیں۔

حکیم اللہ محسود سے لے کر حافظ گل بہادر اور مولوی نذیر تک سب کے حقانی نیٹ ورک سے دوستانہ تعلقات ہیں اور اس کے جنگجوؤں میں تمام پختون قبائل کی نمائندگی بلا تفریق پائی جاتی ہے۔