تحریک طالبان پاکستان

تحریکِ طالبان پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو کی خود کش حملے میں ہلاکت سے کچھ دیر پہلے لی گئی تصویر۔ حملےکا الزام تحریک طالبان پاکستان پر عائد کیا گیا۔راولپنڈی ستائیس دسمبر2007 فوٹو اے پی۔

نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملے کے بعد پاک افغان سرحدی پٹی پر بسنے والے قبائلیوں کا افغان طالبان کی حمایت میں بندوق اٹھا لینا حیرت کی بات نہیں تھی کیونکہ اس سےقبل روسی فوجوں کے خلاف بھی لڑائی انہی قبائل کی مدد سے لڑی گئی تھی۔

اکتوبر دو ہزار ایک میں افغانستان پرامریکہ اور اتحادیوں کے حملے کے خلاف اس علاقے سے مختلف نئے کمانڈر متحرک ہوئے لیکن زیادہ شہرت نیک محمد وزیر کو ملی جسے دو ہزار چار میں امریکی میزائل حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔

دو ہزار چار میں ہی محسود قبیلے سے اٹھنے والے بیت اللہ محسود نے مزاحمت کی قیادت سنبھالی اور بڑا بریک تھرو تب ہوا جب دو ہزار پانچ میں بیت اللہ محسود نے حکومت پاکستان کے ساتھ ایک امن معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ امن معاہدہ زیادہ دن نہ چل سکا اور بیت اللہ محسود نے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

پاک افغان سرحد پر قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں تحریک طالبان پاکستان کے قیام کا اعلان چودہ دسمبر دو ہزار سات کو کیا گیا جب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی لال مسجد میں کیے گئے فوجی آپریشن کے اثرات ابھی ذہنوں پر نمایاں تھے اور جنرل مشرف کی فوجی حکومت کے خلاف شہری علاقوں میں بھی نفرت انتہا پر تھی۔

بیت اللہ محسود کو تنظیم کا امیر، حافظ گل بہادر کو نائب اور مولوی فقیر محمد کو سوئم پوزیشن دی گئی۔

تحریک طالبان پاکستان میں شامل ہونے والےجنگجو افراد اور تنظیمیں پہلے بھی اپنے اپنے علاقے میں سرگرم تھے لیکن ایک تنظیم کی چھتری تلے ان کا اکٹھ ایک نئی بات تھی۔

تحریک طالبان پاکستان کے قیام کے بعد افغانستان کے اندر امریکی و اتحادی افواج پر حملوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں، پاکستان کے شہری علاقوں میں بم دھماکوں اور خود کش حملوں، کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ جس کے خاتمے کے ابھی تک کوئی آثار نظر نہیں آتے۔

بیت اللہ محسود نے پاکستان کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے جنگجوؤں کے حوالے سے ہی کہا تھا کہ ’خود کش حملہ آور ہمارے ایٹم بم ہیں‘۔

ستائیس دسمبر دو ہزار سات کو سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے سے خطاب کے بعد واپس جاتے ہوئے خود کش دھماکے میں قتل کر دیا گیا تو اس کی ذمہ داری بھی حکومت وقت نے بیت اللہ محسود پر عائد کی۔

بیت اللہ محسود پانچ اگست دو ہزار نو کو امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا تو حکیم اللہ محسود نے تحریک کی قیادت سنبھالی اور جنگ و جدل کی سرگرمیوں میں بے پناہ تیزی پیدا کر دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تحریک طالبان پاکستان کے راہنما بیت اللہ محسود انتظامیہ کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے۔ سراروغہ، 2005۔ فوٹو ہارون رشید۔

حکیم اللہ محسود تحریک طالبان کی قیادت سنبھالنے سے قبل کرم ایجنسی اور خیبر ایجنسی میں طالبان جنگجوؤں کی قیادت کر رہے تھے۔

دو ہزار سات میں یہ حکیم اللہ محسود ہی تھے جس نے دو سو پچاس پاکستانی فوجیوں کو یر غمال بنا کر حکومت پاکستان کو دیوار سے لگا دیا تھا۔

حکیم اللہ کی قیادت میں تحریک طالبان کی طرف سے پاکستان میں انتہائی مہلک خود کش حملے کیے گئے۔ حکیم اللہ محسود کو کرم ایجنسی میں شیعہ مسلمانوں پر حملوں کا ذمہ دار بھی قرار دیا جاتا ہے۔ لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان کے درمیان قربت حکیم اللہ کے دور میں ہے اپنے عروج کو پہنچی ہے۔

حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی ایک سے زائد بار خبریں ذرائع ابلاغ کی زینت بن چکی ہیں لیکن ابھی تک ان میں صداقت کا پہلو مفقود رہا۔

تحریک طالبان پاکستان کی بڑی کارروائیاں:

لاہور میں مناواں ٹریننگ سنٹر پر مسلح افراد کا حملہ

جنوبی وزیرستان میں دو سو پچاس فوجیوں کا اغواء

پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ کے گیٹ پر خود کش حملہ

لاہور میں آئی ایس آئی کی عمارت پر خود کش حملہ

راولپنڈی میں پریڈ لین کی مسجد پر مسلح افراد کا حملہ

راولپنڈی حمزہ کیمپ کے گیٹ پر آئی ایس آئی کی بس پر خود کش حملہ

اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل پر حملہ

کراچی میں کار ساز کے مقام پر بے نظیر بھٹو کے قافلے پر اٹھارہ اکتوبر دو ہزار سات کو خود کش حملہ

ستائیس دسمبر دو ہزار سات کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں بے نظیر بھٹو پر خود کش قاتلانہ حملہ جس میں ان کی جان چلی گئی

راولپنڈی میں فوج کے ھیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) پر مسلح حملہ

تحریک طالبان پاکستان کو سات ذیلی شاخوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

درہ آدم خیل۔ طارق آفریدی گروپ

صوبہ خیبر پختونخواہ کو کوہاٹ ٹنل کے ذریعے جنوبی اضلاع سے ملانے والے راستے پر واقع فرنٹیئر ریجن کوہاٹ کے درہ آدم خیل کے علاقے میں سرگرم طارق آفریدی گروپ حکیم اللہ محسود کے بہت قریب سمجھا جاتا ہے۔

افغانستان میں مسلح جدوجہد کے لیے افرادی قوت فراہم کرنا، پاکستانی سکیورٹی فورسز کو ٹارگٹ کرنے کے ساتھ ساتھ اغواء برائے تاوان کی بڑی کارروائیوں میں بھی اس گروپ کا نام لیا جاتا ہے۔ دو ماہ قبل طارق آفریدی کی ہلاکت کی خبر آئی جس کی کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔

کرم ایجنسی۔ فضل سعید حقانی گروپ

کرم ایجنسی میں شیعہ مخالف بڑی کارروائیوں میں مبینہ طور پر ملوث فضل سعید حقانی گروپ اورکزئی جانے والے راستے کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔ یہ گروپ افغان طالبان سے براہ راست رابطے رکھنے کا بھی دعویدار ہے۔ کرم ایجنسی میں چند ہفتے قبل شروع ہونے والے فوجی آپریشن کے فوری بعد کرم ایجنسی میں حکیم اللہ کے نائب کے طور پر فرائض انجام دینے والے فضل سعید حقانی نے تحریک طالبان پاکستان سے بظاہر راستے جدا کرنے کا اعلان کیا۔

اس نےخود کش حملوں کو حرام قرار دیتے ہوئے ریاست پاکستان کے خلاف لڑائی ختم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ عام طور پر اسے فوجی آپریشن سے بچنے کا حربہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اورکزئی ایجنسی۔ حکیم اللہ محسود گروپ

اورکزئی ایجنسی تحریک طالبان پاکستان کا مرکزی امیر بننے سے قبل ہی حکیم اللہ محسود کے براہ راست کنٹرول میں تھی۔ بعد ازاں کرم ایجنسی اور خیبر ایجنسی کے طالبان کا کنٹرول بھی اسے مل گیا تھا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اورکزئی ایجنسی کو کنٹرول کرنے والا پشاور سے قبائلی علاقوں کی طرف کسی بھی نقل و حمل کو کنٹرول کر سکتا ہے۔

ان دنوں اورکزئی میں حکیم اللہ کی نمائندگی آخوندزادہ اسلم فاروقی کے پاس ہے۔

مومند ایجنسی۔ عبدالولی عرف عمر خالد گروپ

شاعر اور صحافی عبدالولی عرف عمر خالد نے طالبان کے حامی ہفتہ وار اخبار ضرب مومن کے نامہ نگار کے طور پر بھی کام کیا،

اسلام آباد کی لال مسجد میں فوجی آپریشن کے بعد مومند ایجنسی میں بزرگ حاجی صاحب تورنگ زئی کے مزار اور ملحقہ مسجد پر قبضہ کر کے اسے لال مسجد کا نام دے دیا۔

عبدالولی عرف عمر خالد تحریک طالبان کے ساتھ منسلک ہونے سے قبل حرکت المجاہدین کے پلیٹ فارم سے کشمیر میں ہونے والی عسکریت کا حصہ رہ چکے ہیں۔ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد طالبان کا ساتھ دیا۔ ان دنوں اپنی سرگرمیاں زیادہ تر افغان علاقے کنہڑ اور ننگر ہار میں منتقل کر لی ہیں۔

باجوڑ۔ فقیر محمد گروپ

تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر مولوی فقیر محمد ابتداء میں پیشے کے لحاظ سے عطر فروش اور سیاسی لحاظ سے مولانا صوفی محمد کی تحریک نفاذ شریعت محمدی سے منسلک تھے۔

مولوی فقیر محمد گروپ کی عربوں اور القاعدہ سے قربت کے کئی حوالے بھی ملتے ہیں۔ دو ہزار چھ کے اوائل میں ڈمہ ڈولا میں امریکی میزائل حملے میں مرنے والوں میں فقیر محمد کے ساتھی بھی شامل تھے۔

مالاکنڈ۔ مولانا فضل اللہ

تحریک نفاذ شریعت محمدی کے پلیٹ فارم سے سرگرمیوں کا آغاز کرنے والے مولانا فضل اللہ مولانا صوفی محمد کے داماد ہیں۔

افغانستان پر امریکی حملے کے خلاف لڑائی کے لیے مولانا صوفی محمد کے ہمراہ سرحد پار جانے والے جنگجوؤں میں وہ بھی شامل تھے۔

بعد ازاں صوفی محمد گرفتار ہوئے تو انہوں نے کام جاری رکھا جس میں سب سے اہم ایف ایم ریڈیو کے ذریعے پروپیگنڈہ تھا۔

انہوں نے صوبائی حکومت کے ساتھ قاضی عدالتوں کے قیام جیسے کئی معاہدے کیے اور توڑے۔ مؤثر فوجی آپریشن کے اجراء تک علاقے میں مولانا فضل اللہ کا راج قائم رہا۔

پنجابی طالبان۔ قاری حسین محسود

تحریک طالبان پاکستان کے امیر حکیم اللہ محسود کے کزن قاری حسین محسود ہر لحاظ سے پنجابی طالبان کے گرو کہلا سکتے ہیں۔ سن دو ہزار پانچ میں افغان وار لارڈ ملا داداللہ نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف خود کش حملوں کی حکمت عملی ترتیب دی تو قاری حسین نے جنوبی وزیرستان میں خود کش حملہ آوروں کی بھرتی اور تربیت کا مرکز قائم کیا جس میں پاکستان کے میدانی علاقے کے جنگجوؤں نے پنجابی طالبان کے نام سے سرگرم کردار ادا کیا۔

سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے متعدد جنگجو مبینہ طور پر اس تربیتی مرکز تک پہنچے اور مختلف کارروائیوں میں استعمال ہوئے۔ الیاس کشمیری جیسے کشمیری جنگجو بھی قاری حسین کی شاگردی تک پہنچے۔

مبینہ طور پر قاری حسین نے ہی پنجابی طالبان پر مشتمل فدائین اسلام اور ایشین ٹائیگرز جیسی تنظیمیں تشکیل دیں۔

افغان صوبہ خوست میں امریکی سی آئی اے کے سٹیشن چیف کو خود کش حملے میں ہلاک کرنے والے اردنی قاتل کے استاد بھی قاری حسین ہی بتائے جاتے ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بعد قاری حسین، حکیم اللہ محسود کے ہمراہ شمال کی جانب منتقل ہوئے۔ امریکی ڈرون حملے میں ان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا جس کی طالبان نے کوئی واضح تردید نہیں کی۔