البدر جموں و کشمیر

اسی کی دہائی کے اختتام پر افغان جنگ پایہ تکمیل کو پہنچی تو پاکستان کے فوجی حکمران جنرل ضیاالحق نے ’جہاد‘ کے ہتھیار کی کامیابی کو ہمسایہ ملک بھارت کے خلاف استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس مقصد کے لیے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں نوجوانوں کو جہاد کے نام پر راغب کیا گیا اور ابتدائی عسکری تربیت کے لیے افغانستان کی سرحد کے اندر قائم البدر کے کیمپوں میں بھجوایا گیا۔

کشمیر میں مسلح کارروائیوں کے لیے نئی ’البدر‘ کی قیادت آئی ایس آئی نے افغان جنگ کے آزمودہ کمانڈر بخت زمین کو سونپی۔ اس طرح ایک بار پھر آگ اور خون کا کھیل شروع ہوا لیکن اس بار ہدف کنٹرول لائن کے پار کشمیر میں تعینات بھارتی فوج تھی۔ البدر کے نئے مقاصد میں کشمیر میں تعینات بھارتی فوج پر حملے کرنا، بھارت کی کشمیر میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا اور بھارت کو مجبور کرنا تھا کہ وہ کشمیر سے نکل جائے اور پاکستان سے کشمیر کے الحاق کی راہ ہموار ہو جائے۔

البدر کے جنگجوؤں کو تربیت اور اسلحہ کی فراہمی روز اول سے آئی ایس آئی کے ذمہ تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ دیگر جنگجو تنظیموں کی طرح جہاد کے نام پر انہیں اپنے وسائل پیدا کرنے کی بھی اجازت تھی ان میں جہاد کشمیر کے نام پر ریلیاں اور سیمینار منعقد کر کے چندہ اکٹھا کرنے کی روایت بھی شامل ہے۔

البدر کے قریبی ذرائع کہتے ہیں کہ ’جہاد کے لیے آنے والے نوجوانوں کی رہائش، کھانا پینا، تربیت کے اخراجات سب تنظیم کی ذمہ داری تھی اور تنظیم کو امداد بھائی لوگ کیمپ میں موجود افراد کے حساب سے فراہم کرتے تھے۔ مشن پر جانے والے افراد کی مکمل کٹ بھی انہی کے ذمے تھی اور اگر کسی کی شہادت کی خبر آ جائے تو اس کے گھر اطلاع لے کر جانے والے کے ساتھ آٹے کی بوری، چینی کا تھیلا،گھی کا کنستر اور پچاس ہزار روپے نقد بھی وہی فراہم کرتے تھے‘۔

لیکن پھر نائن الیون نے جہاں باقی دنیا کے رنگ ڈھنگ بدلے وہاں البدر کی سرگرمیاں بھی محدود کر دی گئیں۔ راول پنڈی کےگنجان آباد علاقے سے دور اس کا مرکزی دفتر مضافاتی علاقے میں منتقل کر دیا گیا اور ’انتظار کرو اور دیکھو‘ کی پالیسی اختیار کرنے کو کہاگیا۔

البدر سے منسلک ایک ذمہ دار کا کہنا ہے کہ ہمیں ڈر تھا کہ فارغ بیٹھے لوگ کچھ کر نہ بیٹھیں اس لیے انہیں گھروں کو جانے کی اجازت دے دی گئی۔