الفقراء

الفقراء تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکی مسافر طیارے کو بم دھماکے سے اڑانے کی سازش کا ملزم رچرڈ ریڈ ۔ فوٹو اے پی

الفقراء عام پاکستانیوں کے لیے ایک اجنبی نام ہو سکتا ہے لیکن لاہور میں مقیم تنظیم کے سربراہ شیخ مبارک علی گیلانی کی راولپنڈی کے پوش علاقے چکلالہ میں واقع رہائش گاہ شدت پسند عناصر کی آمدورفت کا مرکز رہی ہے جن میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سرگرم جنگجو عناصر بھی بتائے جاتے ہیں۔

الفقراء انیس سو اسی میں قائم کی گئی اور اسی سال سنی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والےشیخ مبارک علی گیلانی امریکہ کے شہر نیویارک پہنچے تھے، جہاں وہ بروکلین کی مسجد الفاروق میں خطبہ دینے لگے۔

انہوں نے امریکی معاشرے کی آزاد روی سے نالاں مسلم آبادی کو اسلام کی خالص تعلیمات پر عمل پیراہونے کی ترغیب دینے کی مہم شروع کی اور مسلمز آف امریکہ اور قرآنک اوپن یونیورسٹی کے نام سے تنظیمیں قائم کر دیں جنہوں نے کئی امریکی اور افریقی نژاد مسلمانوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔

امریکہ میں الفقراء کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہونے کا پہلا کیس تب سامنے آیا جب ریاست اوریگان کے شہر پورٹ لینڈ میں ایک ہندو گرو کے ملکیتی ہوٹل میں بم دھماکہ ہوا اور اس کے الزام میں الفقراء کے رکن سٹیفن پال پاسٹر کو سزا سنائی گئی۔

اسی سال الفقراء کے بعض ارکان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے احمدی رہنما مظفر احمد کو قتل کیا تھا جبکہ انیس سو نوے میں الفقراء کے دو ارکان کو امریکہ میں اس الزام پر سزا دی گئی کہ انہوں نے مبینہ طور پر رسالت کے دعویدار مصری نژاد راشد خلیفہ کو قتل کرنے کی سازش تیار کی تھی۔

دو ہزار دو کے اوائل میں پاکستانی و غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں شیخ مبارک علی گیلانی کا نام تب سامنے آیا جب امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے نامہ نگار ڈینیئل پرل کو شیخ مبارک گیلانی سے ملاقات کی کوشش کے دوران اغواء کر کے قتل کر دیا گیا۔

بائیس دسمبر دو ہزار ایک کو فرانس کے شہر پیرس سے امریکی شہر میامی تک پرواز کے دوران امریکی مسافر طیارے کو اڑانے کی ناکام کوشش کرنے والے رچرڈ ریڈ کی کہانی پر کام کرنے والے ڈینیئل پرل کے پاس یہ اطلاع تھی کہ رچرڈ ریڈ نے ناکام واردات سے قبل پاکستان کا دورہ کیا تھا اور اس دوران اس نے شیخ مبارک علی گیلانی سے بھی ملاقات کی تھی۔

پاکستانی اور امریکی تفتیشی اداروں نے ڈینیئل پرل کیس میں شیخ مبارک علی گیلانی سے پوچھ گچھ بھی کی لیکن پھر انہیں رہا کر دیا گیا۔

الفقراء کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ وہ صوفی ازم کا پرچار کرتے ہیں لیکن ان کے حلقے میں ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی مبینہ آمدورفت کے باعث یہ الزام بھی آتا ہے کہ الفقراء اگر مسلح سرگرمیوں میں براہ راست ملوث نہیں بھی ہے تو اسے یورپ اور امریکہ سے حاصل ہونے والے فنڈز ان مقاصد کے لیے بہرحال استعمال ہوتے ہیں۔