حرکت الانصار

حرکت الانصار تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان سے تعلق رکھنے والے جنگجو بھارت کے زیرانتظام علاقوں میں کارروائی کے لیے لائن آف کنٹرول عبور کرنے سے قبل تیاریوں میں مصروف ہیں۔

انیس سو ترانوے میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح جدوجہد کو تیز کرنے اور مؤثر بنانے کے لیے حرکت الجہاد الاسلامی اور حرکت المجاہدین کو مدغم کر کے حرکت الانصار قائم کرنے کی تجویز سامنے آئی۔

حرکت المجاہدین کے قریبی حلقوں کے مطابق یہ پاکستان کے خفیہ اداروں کا اشارہ تھا کیونکہ جنگجو تنظیموں کی تعداد اس قدر بڑھ چکی تھی کہ معاملات کنٹرول کرنا مشکل ہو رہا تھا لہٰذا اس تجویز کو عملی جامہ پہنا دیا گیا۔

اسی سال بھارتی حکام نے کشمیر میں حرکت الانصار کے رہ نما مولانا مسعود اظہر کو گرفتار کر لیا۔

مولانا مسعود اظہر کی رہائی کی خاطر بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے حرکت الانصار کے رہنما برطانوی نژاد عمر سعید شیخ نے نئی دہلی کے علاقے پہاڑ گنج میں واقع ہوٹل سے چار غیر ملکی سیاحوں کو اغواء کر لیا۔

بھارتی پولیس نے مغویوں کو اتر پردیش کے شہر سہارنپور سے برآمد کر کے عمر شیخ اور اس کے پاکستانی ساتھی عبدالرحیم کو گرفتار کر لیا۔ اس آپریشن کے دوران بھارتی پولیس انسپکٹر ابھے سنگھ یادیو مارے گئے۔

امریکہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے بعد تنظیم نے مولانا فضل الرحمان خلیل کی قیادت میں دوبارہ پرانا نام حرکت المجاہدین اختیار کر لیا۔