حرکت الجہاد الاسلامی

حرکت الجہاد الاسلامی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حرکت الجہاد الاسلامی کے سربراہ الیاس کشمیری سنہ 2011 میں جنوبی وزیرستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے۔

افغانستان میں سوویت مداخلت کے خلاف جنگ کے دوران حرکت الجہاد الاسلامی کا قیام انیس سو چوراسی میں حزب اسلامی افغانستان (مولوی یونس خالص گروپ) کے ایک ونگ طور پر وجود میں آیا جس میں دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی جنگجو شامل تھے اور ان کی قیادت مولانافضل الرحمان خلیل اور قاری سیف اللہ اختر کر رہے تھے۔

گروپ کے لیے افرادی قوت پاکستان کے اس وقت کے صوبہ سرحد(اب خیبر پختون خواہ)، صوبہ پنجاب کے جنوبی اضلاع اور کراچی سے کی گئی اور انہیں تربیت دینے کا آغاز افغان صوبہ پکتیا میں جلال الدین حقانی کے کیمپ میں کیا گیا جن کا تعلق حزب اسلامی یونس خالص کے ساتھ تھا۔

بعد ازاں حرکت الجہاد الاسلامی نے میران شاہ کے علاقے میں اپنے تربیتی کیمپ بھی قائم کر لیے۔

حرکت الجہادالاسلامی کی قیادت کا تعلق دیوبندی مکتبہ فکر سے تھا لیکن ان کے جنگجوؤں میں مدرسے کے طلبہ کی تعداد کبھی نمایاں نہیں رہی۔

افغانستان میں لڑنے والے دیگر مسلح گروپوں کی طرح حرکت الجہاد الاسلامی کو وسائل پاکستان کے خفیہ ادارے نے ہی فراہم کیے جن کا منبع دراصل امریکی سی آئی اے تھی ۔

افغانستان سے سوویت انخلاء کے بعد حرکت الجہاد الاسلامی نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کا رخ کیا جہاں اسے الیاس کشمیری کی قیادت میسر آئی بعد ازاں اس گروپ نے پنجابی طالبان کے نام سے پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا۔