حرکت المجاہدین (تنظیمِ نو)

انیس سو ستانوے میں امریکہ نے حرکت الانصار کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تو مولانا فضل الرحمان خلیل نے تنظیم کو حرکت المجاہدین کے نام سے دوبارہ منظم کیا۔

حرکت المجاہدین کو کشمیر میں سرگرم مسلح تنظیموں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت ملنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس کے قائد مولانا فضل الرحمان خلیل کے بارے میں خبریں آتی رہی تھیں کہ انہیں القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کی قربت حاصل ہے یا رہی ہے۔

خود مولانا فضل الرحمان خلیل نے بھی کبھی اس کی تردید نہیں کی اور اپنے دوستوں کے حلقے میں وہ اس تعلق کا ناطہ افغان جنگ کے ان دنوں سے جوڑتے تھے جب صوبہ خوست کے محاذ پر سوویت فوجوں کے خلاف یہ دونوں شانہ بشانہ سرگرم عمل تھے۔

دوسری وجہ یہ بنی کہ حرکت المجاہدین کچھ ایسے ہائی پروفائل معاملات میں الجھی کہ جن کی وجہ سے اسے زیادہ شہرت ملی۔

الفاران کے نام پر کشمیر میں غیر ملکی سیاحوں کے اغواء کا معاملہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ دسمبر انیس سو ننانوے کے آخری ہفتے میں بھارتی مسافر طیارے کے اغواء کے واقعے نے ایک بار پھر حرکت المجاہدین کو عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ اور تنقید کا مرکز بنا دیا۔

اغواء کاروں کا مطالبہ تھا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی جیلوں میں قید تین بڑے جنگجو رہنماؤں مولانا مسعود اظہر، مشتاق احمد زرگر اور عمر سعید شیخ کو رہا کیا جائے۔ انتہائی کشیدہ ماحول میں طویل گفت و شنید کے بعد آخر کار بھارتی حکومت کو جھکنا پڑا اور تینوں مذکورہ افراد کو افغانستان کے شہر قندہار پہنچا کرطیارہ مسافروں سمیت ہائی جیکروں سے آزاد کرا لیا گیا۔

مولانا مسعود اظہر کی رہائی اس لحاظ سے مولانا فضل الرحمان خلیل کے لیے کوئی خوشگوار لمحہ لے کر نہیں آئی کیونکہ انہوں نےجلد ہی اپنی راہ حرکت المجاہدین سے الگ کرنے اور نئی تنظیم جیش محمد کے قیام کا اعلان کر دیا۔

ان کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ حرکت کے تمام جنگجو اور اثاثے ان کے حوالے کر دیے جائیں۔ ان کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا جس کے بعد انہوں نے زبردستی کا راستہ اختیار کیا اس طرح کئی روز تک حرکت المجاہدین کے مختلف دفاتر پر قبضے اور جھگڑے کا سلسلہ جاری رہا۔

مولانا فضل الرحمان خلیل نے سرکاری سرپرستوں سے مولانا مسعود اظہر کےاس رویے کے خلاف شکایت کی تو کسی نے توجہ نہ دی کیونکہ ہائی پروفائل مسعود اظہر کے گرد جوشیلے نوجوانوں کے نئے گروہ اکٹھے کر لینا ان کے لیے زیادہ پر کشش ترجیح تھی۔

مولانا فضل الرحمان خلیل کو حرکت المجاہدین کا ڈھانچہ بچانے کی لیے کراچی میں بنوری ٹاؤن کے مدرسے میں مولانا مسعود اظہر کے استاد مفتی نظام الدین شامزئی سے درخواست کرنا پڑی جس کے بعد سوات میں منعقد کیے جانے والے ایک مشترکہ اجلاس میں مفتی نظام الدین شامزئی نے دونوں گروپوں میں صلح کرا دی۔

لیکن سرکاری عناصر کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے نتیجے میں بہت جلد مولانا فضل الرحمان خلیل نے تنظیم کی امارت فاروق کشمیری کے سپرد کر دی اور خود سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز ہو گئے۔

مولانا فضل الرحمان کا نام فروری انیس سو اٹھانوے میں اسامہ بن لادن کی طرف سے عیسائیوں اور یہودیوں کے خلاف جاری کیے جانے والے فتوے پر دستخط کرنے والے پانچ افراد میں شامل تھا

اگست انیس سو اٹھانوے میں امریکہ نے افغان علاقے خوست میں قائم القاعدہ کے ٹھکانوں کو ٹام ہاک کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا، افریقہ میں امریکی سفارتخانوں پر القاعدہ کے حملوں کے رد عمل میں کیے جانے والے ان حملوں میں حرکت المجاہدین کے عسکری تربیت کے کیمپ بھی نشانہ بنے۔ خود حرکت المجاہدین کے ذرائع نے تصدیق کی کہ ان کے ایک بڑے جنگجو تربیت کار ابو ہریرہ سمیت نو افراد اس حملے میں کام آئے۔

نائن الیون کے بعد مولانا فضل الرحمان خلیل پر پھر کڑا وقت آیا جب امریکی دباؤ پر آئی ایس آئی نے اسامہ بن لادن کا ٹھکانہ معلوم کرنے کی خاطر انہیں حراست میں لے لیا۔

ایسی اطلاعات بھی آئیں کہ ان پر بہت سختی کی جا رہی ہے لیکن پھر انہیں رہا کر دیا گیا اور انہوں نے راولپنڈی اسلام آباد کے سنگم پر مدرسہ قائم کر لیا-

دو مئی دو ہزار گیارہ کو ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز کے ہاتھوں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد مولانا فضل الرحمان خلیل کا نام ایک بار پھر سنا گیا۔ امریکی حکام کا دعوی ہے کہ اسامہ کے موبائل فون سے ان کا فون نمبر بھی ملا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں میں رابطہ تھا تاہم مولانا فـضل الرحمان خلیل اس کی تردید کرتے ہیں۔