جماعت الدعوۃ

جماعت الدعوۃ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید جنہیں ممبئی حملوں کے بعد نظر بند کر دیا گیا، عدالت سے رہائی پانے کے بعد عوامی جلسے سے خطاب کر رہے ہیں۔۔ تصویر عارف علی۔

بھارتی پارلیمنٹ پر سنہ دو ہزار ایک میں ہونے والے خودکش حملوں کے بعد پاکستان میں لشکر طیبہ نامی شدت پسند تنظیم پر پابندی عائد کر دی گئی۔ پابندی کے اعلان کے ساتھ ہی اس تنظیم کے بانی حافظ محمد سعید نے اس سے اعلان لا تعلقی کرتے ہوئے اپنے دیرینہ ساتھی ذکی الرحمٰن لکھوی کواس تنظیم کا سربراہ مقرر کر کے اسکے دفاتر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر منتقل کر دیئے اور خود مرکز الدعوۃ کے کاموں میں مصروف ہو گئے جس کی بنیاد انہوں نے اسی کی دہائی میں رکھی تھی۔ لیکن اس مرکز کا نام انہوں نے بدل کر جماعت الدعوۃ رکھ دیا۔

جماعت الدعوۃ کے ترجمان یحییٰ مجاہد کا البتہ اصرار ہے کہ حافظ محمد سعید نے لشکر طیبہ سے لاتعلقی کا اعلان اس تنظیم پر پابندی لاگو ہونے سے پہلے ہی کر دیا تھا۔

”یہ حقیقت ہے کہ حافظ سعید صاحب لشکر طیبہ اور جہاد کشمیر سے منسلک رہے لیکن یہ اب پرانی بات ہو گئی ہے۔ وہ اور ان کی تنظیم اب کئی سالوں سے ان سارے معاملات سے لا تعلق ہو کر صرف اور صرف دعوۃ اور فلاح کے کاموں میں مصروف ہے۔”

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جماعت الدعوۃ پاکستان میں موجودہ وقت میں اور ماضی میں سرگرم کسی بھی مذہبی شدت پسند گروپ سے زیادہ طاقتور ہے۔ اور اسکا اندازہ اس گروپ کی اکتوبر دو ہزار پانچ کے زلزلے اور دیگر مواقع پر فوری اور بڑی امدادی کارروائیوں سے بھی لگایا گیا ہے۔

اس پس منظر میں مبصرین سمجھتے ہیں کہ پاکستانی ریاستی اداروں اور اس گروپ کی قیادت کے درمیان ایک دوسرے کو نہ ’چھیڑنے’ کا خاموش معاہدہ کسی نہ کسی سطح پر موجود ہے، اور بھارتی اور امریکی دباؤ میں اگر پاکستانی حکومت برسوں سے قائم اس معاہدے کو توڑتی ہے تو اس بات کا اندیشہ ہے کہ جماعت الدعوۃ اور لشکر طیبہ کی تخریبی صلاحتیوں اور کارروائیوں کا رخ پاکستان کی جانب ہو جائے۔