لشکرِ طیبہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ممبئی کا تاج محل ہوٹل جو ستائیس نومبر 2008 کے حملے میں شدت پسندوں کا نشانہ بنا۔ا اس حملے کا الزام پاکستانی تنظیم لشکر طیبہ پر عائد کیا گیا۔ تصویراندرنیل مکھرجی۔ اے ایف پی۔

پاکستان کی یونیورسٹی آف انجینئرنگاینڈ ٹیکنالوجی لاھور میں اسلامیات کے سابق استاد حافظ محمد سعید انیس سو اکہتر میں سقوط ڈھاکہ سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے بھارت سے بدلہ لینے کی ٹھانی۔ اپنے مقاصد کی ترویج کا باضابطہ آغاز انہوں نے سنہ انیس سو چھیاسی میں ایک ماہانہ میگزین ’الدعوۃ‘ کی اشاعت سے کیا۔اسی وقت مرکز الدعوۃ والارشاد کی تشکیل بھی عمل میں آئی۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ اس تنظیم کا کام تبلیغ و فلاح تھا۔ اس مقصد کے لیے مختلف رسائل اور جرائد کے علاوہ مختلف فلاحی کاموں کا بھی سہارا لیا گیا۔

ان میں سرفہرست تعلیمی اداروں کا قیام تھا۔ مرکز الدعوۃ کے زیراہتمام ملک کے مختلف علاقوں میں مدارس کھولے گئے۔ حافظ سعید نے زیادہ توجہ پنجاب کے دیہات اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر پر مرکوز رکھی۔

حافظ سعید نے اپنی سرگرمیوں کا محور لاہور کے نواح میں واقع قصبے مریدکے میں قائم مرکز الدعوۃ والارشاد کو بنایا۔

اس دوران بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ایک نئی علیحدگی پسند تحریک نے جنم لیا۔ اب تو جیسے حافظ سعید کی برسوں پرانی خواہش ہو گئی۔ بعض لوگ تو اس امکان کو بھی مسترد نہیں کرتے کہ کشمیر میں آزادی کی نئی تحریک میں حافظ سعید اور انکے ساتھیوں کا اہم کردار تھا۔

اسی کی دہائی کے ختم ہوتے ہوتے، حافظ سعید نے کشمیر میں جاری تحریک میں باضابطہ طور پر شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے عسکریت پسندوں کی بھرتی کا کام شروع کر دیا گیا۔ انیس سو نوے تک انکے پاس اتنی تعداد میں تربیت یافتہ ہتھیار بند جنگجو موجود تھے جنکے بل بوتے پر انہوں نے لشکر طیبہ کے نام سے ایک جنگجو تنظیم کی بنیاد رکھی۔

دیکھتے ہی دیکھتے حافظ محمد سعید کی تنطیم لشکر طیبہ بھارتی کشمیر میں سرگرم عمل عسکری تنظیموں میں ایک مؤثر گروپ کے طور پر سامنے آئی۔ تنظیم کی زیادہ تر رکنیت پاکستانیوں کی تھی۔ یہ سلسلہ دس برس چلتا رہا۔ اس دوران لشکر طیبہ کی عسکری کارروائیاں اتنی زیادہ تعداد میں ہونے لگیں کہ خود حافظ سعید اپنی اصل تنظیم مرکز الدعوۃ کے بجائے لشکر طیبہ کے حوالے سے پہچانے جانے لگے۔

اور پھر امریکہ میں گیارہ سمتبر دو ہزار ایک کے حملے ہوگئے۔

ان حملوں نے پاکستان اور بھارت میں عسکریت پسندی کی تحریکوں کو جیسے ایک نئے دور میں داخل کر دیا اور کچھ گروہوں کو باضابطہ طور پر دہشت گرد قرار دیا گیا۔ لیکن لشکر طیبہ کو پاکستانی حکومت اور فوج کی پشت پناہی اس حد تک حاصل رہی کہ اسے کسی بھی موقع پر سرکاری غیظ و غضب کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

لشکر طیبہ اس وقت ایک نئی صورتحال سے دو چار ہوئی جب نومبر دو ہزار ایک میں بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے خودکش حملوں کے الزام میں اس پر حکومت پاکستان کی جانب سے پابندی عائد کر دی گئی۔

چھبیس نومبر دو ہزار آٹھ کو ممبئی میں شدت پسندوں کے حملوں کے دوران ممبئی پولیس نے اجمل امیر قصاب نامی حملہ آور کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔ اجمل قصاب نے اقبالی بیان میں بتایا کہ اسکا تعلق لشکر طیبہ سے ہے اور اسے دیگر حملہ آوروں کے ہمراہ مظفر آباد کے قریب ایک مرکز میں تربیت دی گئی۔ اس بیان کے حق میں شہادتیں منظر عام پر آنے کے بعد حکومت پاکستان نے لشکر طیبہ کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا اور اس کے سربراہ ذکی الرحمٰن لکھوی سمیت متعدد ارکان کا گرفتار کر لیا۔

لیکن بھارت اور امریکہ کے بار بار اصرار کے باوجود حافظ محمد سعید کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس کی وجہ، حکومت کے بقول حافظ سعید کے خلاف ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے شواہد کی عدم فراہمی ہے۔ البتہ ممبئی حملوں کے بعد سرکاری طور پر حافظ سعید کے حفاظتی اقدامات بڑھا دیئے گئے۔ ممبئی حملوں کے علاوہ بھی یہ تنظیم گزشتہ برسوں میں بھارت میں مختلف علیحدگی پسند تحریکوں کےنرو سینٹر‘ کے طور پر سامنے آئی ہے۔ لشکر طیبہ نے ہندوستان میں سرگرم شدت پسند تنظیم سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی) اور انڈین مجاہدین سے روابط پیدا کئے۔

بھارت میں اس تنظیم کا کردار جتنا تخریبی ہے، پاکستانی ریاستی اداروں بشمول خفیہ اداروں کے لیے لشکر طیبہ اپنی نوعیت کی دیگر تنظیموں کے مقابلے میں اتنی ہی قابل قبول ہے۔ اور اسکی وجہ مبصرین کی نظر میں ہندوستان دشمنی نہیں بلکہ پاکستانی اداروں کا احترام ہے۔کیونکہ اس تنظیم کے کسی رکن کو پاکستان کے اندر تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزا نہیں ملی جبکہ گزشتہ چند برسوں سے اس نوعیت کے بیشتر جنگجو گروپوں کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ لشکر طیبہ نے، جو کہ عملاً تو نہیں لیکن وہابی مکتبہ فکر کے لحاظ سے نظریاتی طور پر القاعدہ سے قریب ہے، بھارتی عسکریت پسندوں کو القاعدہ کے ساتھ روابط پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

دوسری طرف لشکر طیبہ، جو اب جماعت الدعوۃ کے نام سے پاکستان میں کام کرتی ہے، پاکستان کے ریاستی اداروں کے لیے باقی تمام جہادی تنظیموں کی طرح کبھی درد سر بنتے نظر نہیں آئی۔

افغان، کشمیر اور پھر دوبارہ افغان عسکری کارروائیوں میں شامل رہنے والی اسکے علاوہ باقی تمام جہادی تنظیمیں پاکستان میں فرقہ وارانہ اور اب حالیہ کچھ سالوں میں پاک فوج اور دیگر اداروں کے خلاف حملوں میں ملوث رہی ہیں۔

لشکر طیبہ کے بارے میں خاصے وثوق سے کہا جاتا ہے کہ ان سالوں میں نہ تو اس تنظیم کا ٹوٹ کر کوئی گروپ بنا جیسا کہ تقریباً ہر دوسری جہادی تنظیم کے ساتھ ہوا، اور نہ ہی یہ اسکا کوئی رکن پاکستان میں کسی تخریبی کارروائی میں ملوث پایا گیا۔