طالبان اینڈ انٹی طالبان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کتاب کا نام: طالبان اینڈ اینٹی طالبان

مصنفہ: فرحت تاج

صفحات: 219

سن اشاعت: 2011

ناشر: کیمبریج سکالرز پبلشنگ، 12 بیک چیپمن سٹریٹ، نیو کیسل آپان ٹائن ، این ای 6 ، 2 ایکس ایکس ، یو کے۔

پاکستان اور افغانستان میں پچھلی ایک دہائی سے دہشتگردی اور شدت پسندی کے خلاف جاری مبینہ جنگ کے متعلق ویسے تو کئی کتابیں لکھی گئی ہیں لیکن ان میں بیشتر کتابیں غیر ملکی یا غیر مقامی مصنفین نے تحریر کی ہیں۔

یہ بات بھی ایک عرصہ سے کہی جا رہی ہے کہ اس جنگ کےحوالے سے مقامی مصنفین نے بہت ہی کم کتابیں تحریر کی ہیں جس کی وجہ سے اس عالمی لڑائی کی اصل روح واضح نہیں ہو سکی ہے۔

لیکن اب خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون کالم نگار اور اوسلو یونیورسٹی میں ریسرچ فیلو فرحت تاج نے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔

انگریزی زبان میں تحریر شدہ اس کتاب میں مصنفہ نے انتہائی جارحانہ انداز اپنایا ہے۔ اس میں حساس اور حکومتی اداروں پر کڑی تنقید کی گئی ہے اور انھیں ہی اس جنگ کا ذمہ دار بھی قرار دیا گیا ہے۔

کتاب میں پشتونوں کے بعض روایات یعنی ’پشتون ولی‘ اور اسے شدت پسندی سے جوڑنے کے حوالے سے بعض نظریات پر بڑے موثر انداز میں تحقیق کی کوشش کی گئی ہے اور اس سلسلے میں دہشت گردی کے موضوع پر بعض اہم کتابیں لکھنے والے غیر ملکی اور ملکی لکھاریوں کے معلومات کو نہ صرف چیلنج کیا گیا ہے بلکہ اسے ’غلط بیانی‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

مصنفہ نے ان تمام مصنفین کے نام اور ان کی معلومات کو کتاب کے مختلف ابواب میں بیان کیا ہے اور پھر اس پر مختلف حوالوں سے اپنی رائے دی ہے۔

کتاب میں تحقیق کے لیے دو ہزار کے قریب انٹرویوز کا استعمال کیا گیا ہے اور اس کے لیے مصنفہ نے خود قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے جنگ زدہ علاقوں میں جا کر وہاں اس لڑائی کے متاثرین سے بالمشافہ ملاقات کی ہے۔

فرحت تاج نے قبائلی علاقوں میں جاری امریکی ڈرون حملوں، قبائلی لشکروں اور ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونے والے قبائلی ملکان کے حوالے سے الگ الگ باب تحریر کیے ہیں۔

بالخصوص ڈرون حملوں پر اپنے اخباری کالموں کی طرح یہاں بھی انہوں نے بڑا جارحانہ انداز اپنایا ہے۔ ان کا دعوٰی ہے کہ ان حملوں میں بہت ہی کم عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں جبکہ مرنے والوں کی اکثریت پاکستان مخالف شدت پسندوں کی ہے جو ان کے بقول حساس اداروں کے ہاتھوں سے نکل چکے ہیں یا ان کی ضرورت اب نہیں رہی اور انھیں پاکستانی اداروں کے معلومات پر ہی نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں یہ ایک اہم اور موثر حکمت عملی ہے اور اسے ابرہہ کے لشکر پر حملہ کرنے والے’ابابیل‘ کے نام سے پکارا گیا ہے۔

کتاب میں طالبان مخالف لشکروں پر بھی تفصیل سے لکھا گیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ بنیادی طورپر لشکر قبائلیوں کی ایک پرانی روایت ہے اور یہ حکومت کے کہنے پر نہیں بنائے گئے بلکہ قبائلی عوام بنیادی طور پر خود شدت پسندوں اور عسکریت پسندوں کے مخالف ہیں اور ان سے نفرت کرتے ہیں اس لیے وہ عسکریت پسندوں کے مخالفت پر نکل آئے۔

مصنفہ نے پاکستانی میڈیا کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے ’حکومت اور حساس اداروں کا حامی میڈیا‘ قرار دیا ہے۔ ان کا دعوٰی ہے کہ قبائلی علاقوں کے متعلق حکومت اور ان کے اداروں کی طرف سے متعدد ’جھوٹی کہانیوں‘ کو پھیلایا گیا ہے اور جس میں ان کے مطابق میڈیا کا بڑا اہم کردار رہا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت قبائلی علاقوں کے متعلق یہ جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ یہ ملک کے پسماندہ ترین علاقے ہیں اور یہاں حکومت کی عملداری نہ ہونے کے برابر ہے۔ مصنفہ سوال اٹھاتی ہے کہ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر انہی علاقوں سے سی آئی اے اور آئی ایس آئی نے کس طرح روس کے خلاف اتنی بڑی جنگ لڑی، کیا وہاں ان کی کوئی عملداری نہیں تھی۔

فرحت تاج نے غیر ملکی بالخصوص القاعدہ شدت پسندوں کی طرف سے مقامی قبائلی لڑکیوں سے شادیوں کو بھی ایک ’جھوٹی کہانی‘ سے تعبیر کیا ہے۔ ان کا دعوٰی ہے کہ پشتون معاشرے میں ایسی شادیوں کی ہمیشہ سے مخالفت ہوتی رہی ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے کچھ تاریخی حوالے بھی دیے ہیں۔

تاہم انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ کچھ شادیاں ضرور ہوئی ہیں لیکن وہ بھی ایسی صورت میں کہ کسی طالب نے اپنی بہن یا بیٹی کا ہاتھ کسی غیرملکی شدت پسند کے ہاتھ میں دیا ہو۔ تاہم اس بات کو رد کیا گیا ہے کہ غیر شدت پسند قبائلیوں نے اپنی مرضی سے اپنی بیٹوں کی شادیاں غیر ملکیوں سے کرائی ہو۔

فرحت تاج کی تحقیق اپنی جگہ لیکن کتاب میں بعض موضوعات پر جو سخت موقف اپنایا گیا ہے اس سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے۔

بالخصوص ڈرون حملوں کے حوالے سے انہوں نے اس چیز کو نظر انداز کردیا ہے کہ ان ہی حملوں کو شدت پسند ایک ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کررہے جس سے وہ نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کررہے ہیں۔ تاہم اس کتاب میں شدت پسندی کی جنگ کو سمجھنے کے لیے بہت کچھ ہے اور بعض موضوعات پر مصنفہ کی تحقیق قابل تعریف ہے۔