چریا ابا کی عید

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

جب تک آپ کو نئے کپڑے پہننے کے شوق میں رات بھر نیند نہ آئے، یہ خیال تنگ کرتا رہے کہ اس سال ماں باپ، ماموں، چچی، خالہ، داد دادی، نانا نانی اور ہمسائیوں سے کتنی عیدی ملے گی، اس عیدی سے کیا کیا کھلونے اور چٹپٹی چیزیں خریدنے کی آزادی ہوگی۔ گھر میں پکنے والی سویاں، شیر خرما یا پلاؤ بلا روک ٹوک کتنی دفعہ کھانے کو ملے گا۔ سیر کو کہاں کہاں جائیں گے، گھر میں کون کون آئے گا سمجھ لیجیے کہ آپ کی عید ہے۔

لیکن جب آپ کو رات بھر اس خیال سے نیند نہ آئے کہ صبح کتنے چھوٹوں کو عیدی دینی پڑے گی، اولاد کو کیسے قائل کروں گا یا کروں گی کہ بیٹا بڑوں کے لیے ضروری تو نہیں کہ وہ بھی بچوں کی طرح ہر سال نئے کپڑے پہنیں۔ گھر میں کونسی ایسی ایک میٹھی چیز اور ایک نمکین ڈش بنے کہ رمضان کی مہنگائی سے ادھڑ جانے والی جیب پر زیادہ بار نا پڑے، ہمسائیوں کے بچوں سے کس طرح نظریں بچا کر نکلا جائے مبادا عیدی مانگ بیٹھیں۔

ایسے کون کون سے رشتے دار و احباب ہیں جن کے گھر جانا زیادہ ضروری نہیں، ایسے کون کون سے عزیز و اقربا ہیں جو اپنے سب بچوں کو ساتھ لے کر ہمارے گھر آ دھمک سکتے ہیں۔ ایسا کیا کیا جائے کہ وہ نہ آئیں اور ان میں سے زیادہ تر صرف عید مبارک کے ایس ایم ایس پر ہی ٹل جائیں۔ اس طرح کے خدشاتی خیالات آنے کا سیدھا سیدھا مطلب ہے کہ آپ عید منانے کے دور اور عمر سے گذر چکے ہیں۔

آج جب میں اپنے بچوں کو بتاتا ہوں کہ ہم ایک ہفتے پہلے بہت سے عید کارڈ خریدا کرتے تھے، دور کے رشتے داروں کو پوسٹ کرتے تھے اور نزدیکی رشتے داروں، ہمسائیوں اور اساتذہ کو خود جا کر دیتے تھے۔ عید کی صبح جتنی سویاں ہم محلے میں بھیجتے ان سے زیادہ سویاں ہمارے گھر آتی تھیں، ابا جتنی عیدی محلے کے بچوں میں بانٹتے تھے اس سے کہیں زیادہ عیدی محلے والے ہمیں دیتے تھے۔

چاند رات کے وقت کائنات کا سب سے اہم شخص درزی ہوا کرتا تھا جو بہت منت سماجت کے بعد احسان کرتے ہوئے ہمارے نئے کپڑے بمشکل فجر کی اذان تک امی کے حوالے کرتا تھا اور ہم ان کپڑوں کو دیکھتے ہی حالتِ رقص میں آجاتے تھے اور ابا کی ڈانٹ سن کر ہی رکتے تھے۔ یہ باتیں سن کر میرے ای میل و ایس ایم ایس زدہ ریڈی میڈ کپڑوں کے عادی بچے پھٹی آنکھوں اور کھلے منہ کے ساتھ مجھے دیکھنا شروع کردیتے ہیں جیسے ابا چریا ہوگئے ہوں، جیسے ابا مریخ پر بسنے والوں کی کہانی سنا رہے ہوں۔

ہم عید کے دن کہیں اور جائیں نہ جائیں لیکن ابا کے ساتھ ایسے رشتے داروں اور محلے داروں کے ہاں ضرور جاتے تھے جنہیں ابا سفید پوش کہا کرتے تھے۔ اس زمانے میں ہمیں یہ اصطلاح سمجھ میں نہ آتی تھی لیکن آج خوب خوب آتی ہے۔ بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے سفید پوش آبادی اس قدر ہوگئی ہے کہ اب تو یہ اصطلاح ہی متروک لگتی ہے۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ اب ہمیں سفید پوشوں کے ہجوم میں ماضی کے برعکس سیاہ پوش بھی اچھی خاصی تعداد میں نظر آنے لگے ہیں۔اس کے معنی کراچی، بلوچستان اور قبائلی علاقے والوں کو بتانے کی ضرورت نہیں اور دیگر علاقوں کے لوگوں کو جاننے کی ضرورت نہیں۔ بس آپ سب کو عید مبارک ہو۔

اسی بارے میں