وار آن ٹیرر:کیا یہ پاکستان کی بھی جنگ ہے؟

Image caption پاکستانیوں کو یہ فیصلہ کرنا ہی ہوگا کہ یہ جنگ ان کی ہے یا نہیں۔

نیویارک میں گیارہ ستمبر سنہ دو ہزار ایک کے حملوں کے چند ہفتے بعد ہی امریکہ نے دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ چھیڑ دی تھی اور پاکستان نے اس جنگ میں امریکہ کا اتحادی بننا بھی قبول کر لیا تھا لیکن اس جنگ کے آغاز سے آج تک پاکستان میں یہ سوال اٹھتا رہا ہے کہ آیا یہ پاکستان کی جنگ ہے بھی یا نہیں۔

پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے امریکہ کا ساتھ دینے کے اس فیصلے نے پاکستان کو ایک ایسی جنگ کا حصہ بنا دیا تھا جس کے بارے میں واضح طور پر ملک میں دو آراء سامنے آئیں۔

جہاں ایک نقطۂ نظر یہ تھا کہ پاکستان کو اپنے آپ کو دہشت گردی کے اثرات سے بچانے کے لیے اس جنگ میں شریک ہونا چاہیے، وہیں ان خیالات کے مخالفین کا خیال تھا کہ یہ امریکی مفادات کی جنگ ہے اور پاکستان کو اس سے دور رہنا چاہیے۔

یہ بحث آج دس برس بعد بھی جاری ہے اور ان دونوں نقطۂ نظر کے ماننے والے اپنے مؤقف کی حمایت میں دلیلیں دیتے نظر آتے ہیں۔

جماعتِ اسلامی کے رہنماء فرید پراچہ کا کہنا ہے کہ نائن الیون اس عمل کا ایک درمیانی واقعہ ہے جس کا آغاز افغانستان سے روس کے نکلنے کے بعد امریکہ کی جانب سے ’تہذیوں کا تصادم‘ شروع کرنے سے ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس بابت اپنی پالیسی بنانی چاہیے تھی اور امریکہ کے مفادات کی جنگ نہیں لڑنی چاہیے تھی۔

’آج دس سال بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ اس جنگ میں پاکستان کو صرف نقصان ہی ہوا۔ ملک غیر محفوظ ہوگیا، دہشتگردی بڑھ گئی اور پاکستانی فوج کو اس جنگ میں الجھا دیا گیا جو کہ طویل ہوتی جا رہی ہے۔‘

فرید پراچہ کا کہنا تھا ’ہم نے اس جنگ سے کچھ حاصل نہیں کیا۔ یہ جنگ ہماری نہیں تھی ۔ وقت اور حالات نے ثابت کیا ہے کہ امریکہ اس جنگ سے خطے میں اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتا تھا۔ امریکہ اپنے ان عزائم میں افغانستان کی حد تک ناکام رہا ہے اور پاکستان کو اب سوچنا چاہیے کہ اس کی اس جنگ سے واپسی کیسے ہوگی۔‘

Image caption اس جنگ میں پاکستان کو صرف نقصان ہی ہوا: فرید پراچہ

تاہم تجزیہ کار حسن عسکری اس مؤقف سے متفق نظر نہیں آتے۔ ان کے مطابق نائن الیون کے بعد جب پاکستان اس مہم میں شامل ہوا تو خیال یہ تھا کہ یہ ایک ڈیڑھ سال کی مہم ہے جس میں طالبان کا خاتمہ ہو جائے گا اس وقت نہ امریکہ اور نہ پاکستان کو اندازہ تھا کہ صورتحال وہ ہو گی جو آج ہے۔

’دوسری بات یہ پاکستان کے پاس اس وقت عملی طور پر چوائس نہیں تھی۔ آج ہم باتیں کر لیتے ہیں لیکن اس وقت پاکستان دنیا میں طالبان کا سب سے بڑا حامی تھا۔ پاکستان اگر اس پالیسی کو جاری رکھتا تو پاکستان کے قبائلی علاقے ان مشکلات سے دوچار ہو جاتے جن سے افغانستان ہوا۔‘

انہوں نے کہا ’آج چونکہ معاملات پیچیدہ ہوگئے ہیں اس لیے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ فیصلہ غلط تھا تاہم اس وقت یہ سوچ نہیں تھی اور میرے خیال میں ان حالات میں اس سے بہتر فیصلہ ہو نہیں سکتا تھا۔‘

اگر پاکستان میں گزشتہ دس برس کے دوران دہشتگردی کے واقعات کا بھی جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ دو ہزار ایک سے دو ہزار چھ تک دہشتگردی کے جو بڑے واقعات پیش آئے ان میں سے حکومتی شخصیات اور مغربی اہداف کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کو تو وار آن ٹیرر میں پاکستان کی شمولیت کا ردعمل سمجھا جا سکتا ہے لیکن اس عرصے کے دوران دہشتگردی کے بیشتر واقعات فرقہ وارانہ طرز کے تھے۔

پاکستانیوں نے نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی اس جنگ کا پہلا براہِ راست اثر اس وقت محسوس کیا جب امریکی ڈرون طیاروں نے پاکستانی سرزمین کو نشانہ بنایا۔

قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں شدت پسند کمانڈر نیک محمد کی ایسے ہی ایک حملے میں ہلاکت سے ڈرون حملوں کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو آج بھی جاری ہے۔ بلا شبہ ان حملوں میں القاعدہ اور طالبان کے کئی اہم رہنماء مارے گئے لیکن بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتیں بھی ہوئیں اور انہیں پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات کے پنپنے کی اہم وجہ بھی قرار دیا گیا۔

تاہم تجزیہ کار ڈاکٹر خادم حسین کے نزدیک صرف ڈرون حملوں کی وجہ سے امریکہ مخالف جذبات پنپنے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے بعد اگرچہ غیر ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگ بڑی تعداد میں فاٹا میں آ گئے تھے لیکن پاکستان کے عوام کے لیے بالعموم اور فاٹا اور پختونخواہ کے عوام کے لیے بالخصوص جنگ واضح طور پر سامنے نہیں آئی تھی اور اس لیے اس وقت ایسا سمجھا جاتا تھا کہ شاید یہ پاکستان کی سلامتی یا استحکام پر حملہ ہے۔

Image caption وار آن ٹیرر میں امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے کیا تھا۔

اس کے بعد لوگوں کے سامنے یہ بات آتی گئی کہ یہ جنگجو ان پر سماجی طور پر غلبہ پانے کے لیے کوشاں ہیں اور ان پر اپنا مخصوص نقطۂ نظر نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ ’دو ہزار سات سے نو تک فاٹا کے اکثریتی حصے کے عوام یہ سمجھ چکے تھے کہ وہ عرب فاشسٹ انتہاپسندوں کے نرغے میں پھنس چکے ہیں اور وہ انتظار میں تھے کہ انہیں بچایا جائے۔‘

خادم حسین کا کہنا ہے کہ فاٹا کے عوام کے نزدیک اس دور میں ڈرون حملے انہیں انتہا پسندوں کے اس غلبے سے نجات دلانے کا ذریعہ تھے جس کا وہ خود مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔

انہوں نے یہ بھی کہا گزشتہ دو سال میں ڈرون حملوں میں ان تنظیموں کو نشانہ بنایا گیا جو افغانستان میں لڑ رہی ہیں اور اس دور میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے یہ سلسلہ شروع کیا کہ یہ قومی سلامتی پر حملے کے مترادف ہے۔

اس صورتحال میں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں بنیادی طور پر وار آن ٹیرر میں اس کے کردار کا نتیجہ ہیں۔

اس بارے میں ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا ہے کہ نائن الیون یا وار آن ٹیرر میں پاکستان کی شمولیت ملک میں دہشت گردی کی وجہ نہیں بلکہ یہ ملک میں تعلیم کی کمی، غربت اور امریکہ مخالف جذبات جیسے عوامل کے ساتھ مل کر ان کارروائیوں کے آغاز کی وجہ ضرور بنی۔

انہوں نے کہا کہ نائن الیون نے پاکستان میں دہشت گردی کو جنم نہیں دیا۔ یہ سلسلہ پہلے سے جاری ہے ، اس کے لیے نظریاتی ڈھانچہ پہلے سے موجود تھا۔ انتہا پسند اور شدت پسند تنظیمیں سنہ اسّی کی دہائی سے پاکستان کے اندر نیٹ ورکنگ کر رہی تھیں۔

ان کے مطابق ’یہ فکر پہلے سے معاشرے میں سرایت کر چکی تھی اور اسے سامنے آنا ہی تھا۔ نائن الیون نے بس یہ کیا کہ وہ اس عمل کو واضح طور پر سامنے لے آیا۔‘

ڈاکٹر حسن عسکری کے مطابق ’نائن الیون سے پہلے آپ طالبان کے حامی تھے اور جب آپ نے ان کا ساتھ چھوڑا تو طالبان کے نزدیک یہ بڑا دھوکا تھا اور ہمارے ملک میں ایسے عناصر موجود ہیں جو ان سے ہمدردی رکھتے ہیں یا ان کی مدد کرتے ہیں اور یہی عناصر دہشتگردی کے پھیلاؤ کی وجہ بنے’۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی پاکستان کا پورا معاشرہ دہشتگردی کے خلاف نہیں ہے اور اسی لیے ملک میں دہشتگردی کو پنپنے میں مدد ملی ہے۔

اب جبکہ دہشتگردی کے خلاف اس عالمی جنگ کو شروع ہوئے دس برس ہونے کو ہیں پاکستانیوں کو یہ فیصلہ کرنا ہی ہوگا کہ یہ جنگ ان کی ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں