شدت پسندی کے اندھیرے میں روشن خیالی معدوم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان رواداری، برابری، اقلیتوں کےمساوی حقوق اور مذہبی آزادی کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا۔ آج ملک میں موجود روشن خیال یا لبرل طبقہ ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی جنونیت، لاقانونیت اور انتہا پسندی کے شور میں کہیں دبا ہوا نظر آتا ہے ۔ چند مٹھی بھر لوگ ہیں جو کسی بھی دہشت گردی کے واقعے یا دن دہاڑے قتل کی مذمت کے لیے آج کل سماجی رابطے کی ویب سائٹس کا استعمال کرتے ہیں یا پھر گورنر سلمان تاثیر اور وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے قتل کے بعد سڑک پر نکل کر نعرے بازی کرتے ہوئے مقتولین کے لیے شمعیں جلاتے نظر آئے ہیں۔

وہ سڑک پر نکلتے ہیں تو لوگ انہیں کھڑے ہو کر دور سے دیکھ کر مسکراتے ہیں ان کا ساتھ نہیں دیتے۔ ملک میں سماجی تبدیلیوں کی آواز لگانے والے یہ افراد تریسٹھ سال اور بالخصوص امریکہ میں گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان میں پیدا ہونے والی صورتحال کے نتیجے میں اپنی آواز حکومت کے ایوانوں تک تو کیا عوام تک بھی نہیں پہنچا سکے۔

معدوم ہوتی روشن خیالی: سنیے

خالد احمد لاہور میں مقیم ایک صحافی اور تجزیہ کار ہیں جو خود کو روشن خیال مانتے ہیں عوامی مقبولیت نہ ہونے کی وجہ وہ خوف کو گردانتے ہیں۔

’جہاں ریاست کمزور ہو وہاں خوف کام کرتا ہے، لبرل بھی خوفزدہ ہے اور وہ اپنے خیالات کا اظہار کھل کر نہیں کر سکتا، اور جس معاشرے میں لبرل اپنے خیالات کے اظہار کرنے سے رک جائے یہ اس معاشرے کی بہت بڑی بدقسمتی ہے۔‘

اسلام آباد میں مقیم سول سوسائٹی کی نمائندہ اور سرگرم کارکن، خود کو سماجی لبرل کہنے والی ماروی سرمد تسلیم کرتی ہیں کہ لبرل خوفزدہ ہیں۔ ’عملی طور پر اس میں خطرہ ہے پاکستان میں، خطرہ پہلے صرف یہ تھا لوگ آپ کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے۔ اگر آپ جناح صاحب پر سوال اٹھائیں گے تو آپ کو اچھا نہیں سمجھا جائے گا۔ اب وہ خطرہ جان کا خطرہ بن چکا ہے۔ پہلے لاٹھیوں کا زمانہ تھا، اب بلیٹس (گولیوں) کی گیم ہے۔‘

تاہم صحافی اور ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن (سیفما) کے نیشنل کوآرڈینیٹر سرمد منظور کا کہنا ہے کہ لبرلز کو سیاسی حمایت حاصل نہیں ہے۔ ’لبرلز میں ڈر اور زیادہ اس لیے پیدا ہوا ہے کہ ان کو سیاسی حمایت حاصل نہیں ہے۔ باہر وہ اب بھی نکل آتے ہیں کبھی چار تو کبھی پچیس لوگ۔ ان کی جرات کو سلام کریں لیکن سیاسی کارکن، سیاسی قیادت خود اس وقت نہ تو پارلیمنٹ میں بات کرتے ہیں نہ ہی جلسے جلوس، سیاسی افراد بنکرز میں بیٹھ گئے ہیں۔‘

سرمد منظور کے مطابق لبرلز کی اس وقت جس نے حمایت کرنی ہے وہ لبرل اور سیکولر کہلانے والی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی ہیں۔ ’لیکن شرمناک بات ہے کہ گورنر سلمان تاثیر کے لیے سینیٹ میں دعا کے معاملے پر تنازعہ اٹھا، افسوس کی بات ہے کہ شیری رحمان نے توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کا بل پیش کیا تو پارٹی ان کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی۔‘

ماروی سرمد کہتی ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت لبرل لوگوں کے پاس عہدہ ہے اختیار نہیں ہے۔ اختیار دائیں بازو کے ہاتھ میں ہی ہے۔ اور اگر آج پیپلز پارٹی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہے تو یہ روایت محمد علی جناح اور ان کے بعد آنے والے متعدد رہنماؤوں نے ہی قائم کی تھی۔

سیاسیات کے پروفیسر اور تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کے نزدیک اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم معروضی حقائق کو ہی تسلیم نہیں کر رہے۔ ’آپ کو ماننا پڑے گا کہ ہمارے معاشرے میں گزشتہ بیس پچیس سالوں میں ہوا کیا ہے۔ بیٹھ کے ضیاء الحق کو گالیاں دے لینا برا بھلا کہہ لینا۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان میں اب ایک حقیقت پیدا ہو گئی ہے، اس حقیقت کو تسلیم کریں۔‘

حکومتی سطح پر تو مجبوریاں نظر آ رہی ہیں لیکن سول سوسائٹی کے نمائندہ یہ لوگ عوامی سطح پر کیوں نہیں آتے؟ کیوں انگریزی زبان میں ہی لکھنے بولنے اور فلمیں بنانے کو ترجیح دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ بیرون ملک پاکستان کا اچھا تاثر دینے کے لیے یہ ضروری ہے۔ کیا یہ سب مارکیٹنگ یا تشہیر نہیں؟ کیسے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ اس قسم کے اقدام سے ملک میں سماجی تبدلیاں لائی جا سکتی ہیں؟

ماروی سرمد اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتی ہیں ’ایک پیمفلیٹ بنانے یا فیشن شوز کرنے اور دستاویزی فلمیں بنا کر باہر ممالک کو بھیجنے سے ملک کا اچھا تاثر نہیں بنتا۔ آپ کو مسائل کو سمجھنا ہے ورنہ نہ تو ملک میں سیاحت بڑھے گا، نہ سوفٹ امیج بن سکے گا، بلکہ بیماریاں ملک میں بڑھتی جائیں گی۔‘

لیکن سرمد منظور اس بات پر مصر ہیں کہ کنفیوژن اتنی زیادہ کیوں ہے کہ آج تک لبرلز آپس میں یہی فیصلہ نہیں کر سکے کہ ملک میں فتویٰ کون دے گا، آج تک پارلیمنٹ میں بحث تک نہیں کر سکے۔ اور ہم سے کہتے ہیں کہ ہم بھی خاموش رہیں۔ جب تک ریاستی ادارے، سیاسی قیادت اپنی کمزوریوں پر غلبہ نہیں پائیں گے ان باتوں پر عمل تو کیا بحث تک نہیں ہو سکتی۔

لیکن ماروی سرمد کے نزدیک کنفیوژن کا لفظ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ’ہم الگ الگ ہیں، یکسانیت نہیں ہے۔ اگرچہ مذہبی جماعتیں بھی انفرادیت رکھتی ہیں، لیکن وہ پھر بھی ضرورت پڑنے پر ہاتھ میں ہاتھ ڈال لیتی ہیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے ہم لبرلز خود کو راہ راست پر سمجھنے کا شکار ہیں۔‘

تجزیہ کار حسن عسکری رضوی کے نزدیک ’لبرلز کا اکٹھے ہونا اس لیے ممکن نہیں ہے کہ نظریاتی طور پر ہم آہنگی نہیں ہے۔ مثلاً اسی موضوع پر بحث رہتی ہے کہ پاکستان کو سیکولر ہونا چاہیے، اور بہت سے لوگ انہی میں سے ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ سیکولر کا لفظ استعمال کریں گے تو کمیونیکیشن ٹوٹ جاتا ہے۔ میرے نزدیک یہ بحث کہ مذہب کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے یہ عملی طور پر ممکن ہی نہیں ہے۔‘

نظریاتی اختلاف تو اپنی جگہ ہے لیکن جہاں تک عملی اقدامات کرنے کی بات ہے لبرل طبقہ مانتا ہے کہ تریسٹھ سال سے اب تک جدوجہد ہی ہو رہی ہے ۔ خصوصاً نائن الیون کے بعد ملک میں انتہا پسندی اور شدت پسندی کے بڑھنے والے اندھیرے میں روشن خیالی یقیناً معدوم ہو رہی ہے۔ اس وقت ضرورت اسی بات کی ہے کہ اس خوف سے باہر نکل کر حقیقت کا سامنا کرتے ہوئے کم سے کم آواز تو اٹھائی جائے۔

اسی بارے میں