خمینی چاہیے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ یہاں پر مچھر مارنا زیادہ مشکل ہے شیعہ کو مارنا نسبتا آسان‘

مستونگ میں زیارت پر جانے والے اہل تشیع کے جنازوں کو دیکھ کر مجھے وہ نادان پاکستانی یاد آئےجو ہمیشہ یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ اس ملک کو ایرانی انقلاب کی ضرورت ہے۔

ہمارے کئی اداریہ نویس اور دانشور ایران کے صدر احمدی نژاد کو اپنا ہیرو مانتے ہیں۔ دن رات یہ ماتم کرتے ہیں کہ اس مٹی سے کوئی ایسا سادہ دل اور جرآت مند رہنما پیدا کیوں نہیں ہوتا جو امریکہ کو آنکھیں دکھا سکے۔

رکشہ ڈرائیور، بینکار حتّی کہ عبدالستار ایدھی بھی یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ اس ملک کو ایک خمینی کی ضرورت ہے۔

کیا ان محب وطن شہریوں کو احساس ہے کہ اگر اس ملک میں اگر احمدی نژاد یا خمینی پیدا ہو تو اُس کی عمر کتنی طویل ہو گی، اور اُسکے بعد کیا ہو گا؟

غالباً وہی جو مستونگ میں ہونے والی بربریت کے بعد ہوا۔ تاسف، مذمت، سوگ اور پھر خفیہ ہاتھ پر الزام۔

ملک کے حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ یہاں پر مچھر مارنا زیادہ مشکل ہے شیعہ کو مارنا آسان۔ رحمان ملک یہ کہہ کر اپنی ذِمے داری سناتے ہیں کہ اِن زائرین کو چاہیے تھا پہلے ہمیں بتا تو دیتے کہ جا کہاں رہے تھے۔

ہلاک ہونے والوں کی لاشیں ابھی مردہ خانے بھی نہیں پہنچی تھیں کہ لشکر جھنگوی نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔ ٹی وی اینکرز اپنی ازلی معصومیت کے ساتھ رات کو پھر یہ پوچھتے پائے گئے کہ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے؟

چند ماہ پہلے پاکستان میں شیعہ کافر، مُسلح مہم کے سالار ملک اِسحاق جب لاہور کی ایک عدالت سے اپنی معصومیت کا سرٹیفکیٹ لے کر رہا ہوئے تو اُن کا اِستقبال پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے کیا گیا۔

ایک ٹی وی اینکر نے لائیو ٹی وی پر اُن سے پوچھا کہ اب اُن کا لائحہ عمل کیا ہو گا۔ ملک اِسحاق نے اُتنی ہی معصومیت سے فرمایا کہ وہ کریں گے جو پہلے کرتے تھے۔ نہ انٹرویو کرنے والے نہ ٹی وی دیکھنے والوں کو یہ جاننے کے ضرورت تھی کہ اُن کا مشن کیا ہے۔ اُن پر درجنوں شیعہ شہریوں کے قتل کا الزام تھا جن میں سے ایک بھی ثابت نہ ہو سکا۔

لیکن یہ ظاہر ہے کہ ملک اِسحاق کا لشکر جھنگوی سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ لشکر جھنگوی پر پابندی ہے (یہ ابھی تک کسی کو معلوم نہیں کہ لشکر پر کیا کرنے کی پابندی ہے ) سپاہ صحابہ پر بھی پابندی ہے جو ایک زمانے میں انجمن سپاہ صحابہ ہوا کرتی تھی ۔ ملک اِسحاق تو اہل سُنت والجماعت کے ادنٰی کارکن ہیں۔

لیکن یہ انجمن ، یہ سپاہ، یہ لشکر، یہ جماعت کیا چاہتے ہیں اس بارے میں ہمیں کوئی اہل کار کوئی اداریہ نویس نہیں بتاتا۔ اور وہ بتائیں بھی کیوں؟ کیا پوری قوم نہیں جانتی کہ ہماری گلیوں مسجدوں اور منبروں سے کافر کافر شیعہ کافر کے جو نعرے گونجتے ہیں اُنہیں فوج، پولیس، اور خفیہ ایجنسیوں نے تو کیا روکنا تھا کبھی کسی محلے دار یا غازی کو بھی یہ توفیق ہوئی ہے کہ مودب ہو کر کہے کہ بھائیو، یہ فیصلہ اللہ پر چھوڑ دو کہ کون کافر ہے اور کون نہیں۔

اور تو اور مولانا فضل الرّحمن بھی سانحہ مستونگ کے بعد یہ کہتے پائے گئے کہ یہ خفیہ اداروں کی سازش ہے، مسلمان کو مسلمان سے لڑانے کی سازش ہے اور مذہبی جماعتیں اس کی ہمیشہ سے مخالف رہی ہیں۔

کیا وہ سپاہ صحابہ اور اُس پر پابندی کے بعد بننے والی تنظیموں کو غیر مذہبی قرار دے رہے ہیں۔ کیا اس مسلح مہم کے سالار حق نواز جھنگوی مولانا فضل الرّحمن کی جماعت کے ہی رہنما نہ تھے ۔کیا جھنگوی صاحب کے فرمودات آج تک جمیعت علمائے اسلام کے تنظیمی پرچوں میں نہیں چھپتے۔

پنجاب پر تیس سال سے حکومت کرنے والے جھنگ اور وہاں سے پھوٹنے والی اس تشدد کی لہر کا نام لیتے ہوئے ایسے شرماتے ہیں جیسے نوبیاہتا دُلہن اپنے شوہر کا نام لیتے ہوئے شرماتی ہے ۔

تو پاکستان میں احمدی نژاد اور خمینی جیسے نجات دہندہ کے خواب دیکھنے والوں کی خدمت میں مودبانہ عرض ہے کہ اگر اس نام کا کوئی شخص پاکستان میں پیدا ہو جائے تو اُس سے نمٹنے کے لیے کسی انجمن، کسی لشکر، کسی جماعت کا ایک ادنی کارکن ہی کافی ہے۔

بلکہ احمدی نژاد اور خمینی جیسے ناموں کو مٹا کر ’ثوابِ دارین‘ حاصل کرنے سے پہلے اُن کا شناختی کارڈ بھی چیک کرنے کی زحمت گوارا نہ کرنی پڑتی اور اگر اُس کے قتل کے الزام میں کوئی گرفتار ہوتا تو ثبوت کی عدم دستیابی کی وجہ سے باعزت بری پاتا اور پھولوں کی پتیوں کی بارش میں اس عزم کا اعادہ کرتا کہ جو کیا تھا وہ بار بار کریں گے۔

اسی بارے میں