جب رکشہ چلانے والے رضوان الدین فلم سٹار بن گئے

تصویر کے کاپی رائٹ PM TEWARI
Image caption انڈین ریاست ریاست مغبری بنگال کے ضلع كھڑگپور سے متصل ایک گاؤں میں پیدا ہونے والے رضوان الدین آس پاس رکشہ چلانے کا کام کیا کرتے تھے پھر ڈرائیور کی نوکری کی تلاش میں وہ ایک دن کولکتہ پہنچے۔

رکشہ کھینچنے سے لے کر فلم میں ہیرو کا کردار ادا کرنے والے 29 سالہ رضوان الدین محمد کے سفر کی کہانی بھی پوری طرح سے فلمی لگتی ہے۔

انڈین ریاست ریاست مغبری بنگال کے ضلع كھڑگپور سے متصل ایک گاؤں میں پیدا ہونے والے رضوان الدین آس پاس رکشہ چلانے کا کام کیا کرتے تھے پھر ڈرائیور کی نوکری کی تلاش میں وہ ایک دن کولکتہ پہنچے۔

کولکتہ میں ان کی ملاقات فلمساز سبريش مجمدار سے ہوئی اور انھوں نے رضوان کی چال ڈھال سے متاثر ہوکر اپنی فلم میں ہیرو بنانے کا سٹہ کھیلا اور کامیاب بھی ہوگئے۔

حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم 'ٹیرر ازم' میں رضوان نے ہیرو کا رول کیا ہے جو مغربی بنگال کے سینما گھروں میں کافی اچھی کمائی کر چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PM TEWARI
Image caption حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم 'ٹیرر ازم' میں رضوان نے ہیرو کا رول کیا ہے جو مغربی بنگال کے سینما گھروں میں کافی اچھی کمائی کر چکی ہے

كھڑگپور کے جس سنیما ہال کے سامنے رضوان کے چچا اسرائیل اور والد جلال الدین روزی روٹی کے لیے ٹھیلہ لگاتے تھے آج اسی سنیما ہال میں رضوان کی فلم مستقل ہاؤس فل چل رہی ہے۔

سات بھائیوں اور بہنوں پر مشتمل بڑے خاندان میں پرورش پانے والے رضوان کو غربت کی وجہ سے چھٹی کلاس کے بعد پڑھائی چھوڑنی پڑی تھی۔ پہلے وہ اپنے والد کی چائے کی دکان میں ان کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ بعد میں انھوں نے ٹرک پر خلاصی کا کام شروع کیا۔ پھر اپنے خالہ زاد بھائی کے کہنے پر وہ کولکتہ آ گئے۔

یہاں انہوں نے ڈرائیونگ سیکھی۔ لیکن جب کام نہیں ملا تو وہ كھڑگپور لوٹ کر رکشہ چلانے لگے۔ بعد میں بمبئی کی ایک کمپنی نے ان سے کچھ پیسے لے کر بہتر ملازمت کا لالچ دے کر سعودی عرب بھیج دیا لیکن وہاں انہیں اونٹ چرانے کا کام ملا۔ پولیس کی مدد سے وہ کسی طرح ملک واپس آنے میں کامیاب رہے۔

كھڑگپور کے مقامی صحافی رگھوناتھ پرساد ساہو نے رضوان کے سفر کو قریب سے دیکھا ہے۔

ساہو بتاتے ہیں: 'غربت اور معاشی تنگی کے باوجود رضوان کی آنکھوں میں شروع سے کچھ کر دکھانے کی چمک تھی۔ اسی وجہ سے ڈرائیونگ کے ساتھ ہی انھوں نے اوپن سکول سے دسویں پاس کر لی۔ وہ آگے بھی پڑھنا چاہتے ہیں۔'

رضوان نے اپنے سفر کے بارے میں بتایا: 'میں شروع سے ہی کار چلانا چاہتا تھا۔ کولکتہ میں ایک ایجنسی کے ذریعے گذشتہ سال جون میں مجھے مجمدار کی کار چلانے کی ملازمت ملی۔ یہی میری زندگی کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔'

گانے اور اداکاری کے تئیں رضوان کی دلچسپی کو ​​دیکھ کر مجمدار نے انھیں اپنے سٹوڈیو میں گیت ریکارڈ کرنے کا کام سونپا۔ اسی دوران انھیں ایک بنگلہ فلم میں چھوٹا سا کردار بھی ملا۔ وہ فلم اب تک ریلیز نہیں ہو سکی ہے، لیکن شوٹنگ کے دوران اس فلم میں رضوان کے لڑائی والے مناظر سے متاثر ہو کر مجمدار نے انھیں اپنی اگلی فلم میں اہم کردار میں لینے کا فیصلہ کیا۔

گذشتہ ماہ ریلیز ہونے والی ان کی فلم سپر ہٹ ثابت ہوئی ہے اور اب اچانک ان کی زندگی بہت مصروف ہو گئی ہے۔ فی الحال وہ بنگلہ زبان کے بعض ٹی وی سیریلوں کے علاوہ ایک ہندی ٹیلی فلم میں کام کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی کچھ دیگر بنگلہ فلموں کی بھی شوٹنگ چل رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PM TEWARI
Image caption رضوان فی الحال وہ بنگلہ زبان کے بعض ٹی وی سیریلوں کے علاوہ ایک ہندی ٹیلی فلم میں کام کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی کچھ دیگر بنگلہ فلموں کی بھی شوٹنگ چل رہی ہے

رضوان بالی وڈ میں بھی کام کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں 'میری جدوجہد ابھی جاری ہے۔ اپنی محنت اور لگن سے میں اس صنعت میں اپنی شناخت بنانا چاہتا ہوں۔'

وہ ہیئر ڈریسر آشا گپتا کا نام لینا نہیں بھولتے جنہوں نے رضوان کو رہنے کا ٹھکانا دیا تھا۔ اب كھڑگپور سمیت پورے بنگال میں انہیں لوگ پہچاننے لگے ہیں۔

رضوان کہتے ہیں: 'فی الحال میں کچھ پیسے کما لینا چاہتا ہوں تاکہ اپنی امّی اور ابّا کو حج کرا سکوں۔'

بیٹے کی بات سن کر ان کے پاس بیٹھے بوڑھے باپ کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں کہ آخر ایک نئے نوجوان کو ہیرو بنانے کا رسک کس طرح لیا؟ اس پر فلم ساز سبريش مجمدار کہتے ہیں: 'میں نے اس میں ٹیلنٹ دیکھا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک تھی جو کم نوجوانوں میں ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس لیے میں نے اس پر بازی کھیلی۔ مجھے خوشی ہے کہ اس نوجوان کی صلاحیت کے بارے میں میرا اندازہ درست ثابت ہوا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں