پیمرا نے مشرف دور میں انڈین مواد پر دی گئی یکطرفہ رعایت منسوخ کر دی

Image caption پیمرا نے اس نوعیت کی پابندیوں کا اعلان رواں ماہ کی چار تاریخ کو کیا تھا

پاکستان میں میڈیا کے نگراں ادارے پیمرا نے انڈین تفریحی مواد کے خلاف پابندیوں کو مزید سخت کرتے ہوئے ملک میں تمام سٹیلائیٹ ٹی وی چینلز اور ایم ایف ریڈیوز پر یہ انڈین مواد پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

پیمرا کے ایک بیان کے مطابق بدھ کو ہیڈکوارٹر پر اتھارٹی کے 20ویں اجلاس میں اس پابندی کا فیصلہ حکومت کی جانب سے سمری کا جواب موصول ہونے پر کیا۔

٭ پاکستان میں پیمرا کا انڈین مواد نشر کرنے پر لائسنس کی فوری منسوخی کا فیصلہ

٭ ’انڈیا سے کشیدگی کے معاملے میں تفریح کو کیوں گھسیٹتے ہو؟‘

٭ ’انڈین ڈراموں کی فینٹسی کبھی کبھی اچھی لگتی ہے‘

سمری میں حکومت نے پیمرا اتھارٹی کو مکمل اختیارات تقویض کیے ہیں کہ وہ انڈین مواد سے متعلق فیصلہ سازی کرنے میں مکمل بااختیار ہے اور اس کے تحت اتھارٹی نے اپنے فیصلے کے تحت 2006 میں اس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف کی جانب سے انڈیا کو دی گئی یکطرفہ رعایت کو منسوخ کر دیا ہے۔

پیمرا کی جانب سے نئی پابندیوں کا اطلاق 21 اکتوبر کو سہ پہر تین بجے ہو گا اور خلاف ورزی کرنے والے ٹی وی چینلز ارو ایف ایم ریڈیوز کا لائسنس بغیر شوکاز نوٹس جاری کیے معطل کر دیا جائے گا۔

پیمرا نے اسی نوعیت کی پابندیوں کا اعلان رواں ماہ کی چار تاریخ کو کیا تھا۔

اس وقت پیمرا کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ملک میں انڈین چینلز اور انڈین مواد دکھائے جانے پر ایسا مواد نشر کرنے والی کمپنی کا لائسنس بغیر کسی نوٹس کے فوری طور پر معطل یا منسوخ کر دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان میں 16 اکتوبر سے اکثر ٹی وی چینلز اور ایف ایم ریڈیوز نے انڈین تفریحی مواد نشر کرنا بند کر دیا ہے

اس وقت کہا گیا تھا کہ نئی پابندیوں کا طلاق رواں ماہ کی 16 تاریخ سے ہو گا اور ادارہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کر سکے گا۔

اس کے علاوہ اجلاس کے دوران ملک میں غیر قانونی انڈین ڈی ٹی ایچ ( ڈش ریسیورز) کی فروخت اور سمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

ملک میں 16 اکتوبر کے بعد ان پابندیوں کا اثر ہونا شروع ہو گیا ہے جس میں زیادہ تر ٹی وی چینلز اور ایف ریڈیو سٹیشنز نے انڈین مواد کی نشریات کو روک دیا ہے۔

پاکستان میں انڈین مواد پر پابندیوں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب گذشتہ ماہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے اوڑی میں فوجی کیمپ پر حملے اور بعد میں انڈیا کی جانب سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرجیکل سٹرائیکس کے دعویٰ کیا تھا۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جولائی سے جاری مظاہروں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کے پہلے سے سرد تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے تاہم اس موقع پر پاکستان میں انڈین مواد پر پابندی کے بارے میں زیادہ اقدامات سامنے نہیں آئے۔

تاہم گذشتہ ماہ اوڑی حملے اور سرجیکل سٹرائیکس کے دعوے کے بعد یہ حالات مزید بگڑ گئے۔

اس کے بعد پاکستان میں جہاں سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فام پر متحد ہوئی ہیں وہیں مقامی سینیماز کے مالکان اور کیبل آپٹرز بھی انڈیا کی فلموں اور دیگر تفریحی مواد پر پابندیاں لگائی وہاں پیمرا بھی سرکاری طور پر پہلے سے موجود قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرنے کا فیصلے کر رہی ہے۔

انڈین فلموں اور دیگر تفریحی مواد پر پابندی کے اقدامات کا چند حلقوں نے خیرمقدم کیا لیکن کچھ لوگوں کے خیال میں جنرل ضیاالحق کے دور میں تفریحی مواقع پر جو سختیاں کی گئی تھی ان کی تلافی اب جا کر کہیں ہونے لگی تھی اور اگر اس تسلسل میں رکاؤٹ آئی تو فائدے سے زیادہ نقصان ہمارا اپنا ہو گا۔

اسی بارے میں