ذرا ہوشیار رہیے گا!

تصویر کے کاپی رائٹ fawad khan
Image caption پاکستانی اداکار فواد خان فلم ’اے دل ہے مشکل‘ کی کاسٹ میں شامل ہیں

کرن جوہر کی مشکل تو آسان ہوگئی، اب ان کا دل سکون میں ہوگا، ان کی فلم پوری شان و شوکت کے ساتھ ریلیز ہوگی، وہ فوج کے ایک ویلفیئر فنڈ میں پانچ کروڑ روپے جمع کرائیں گے اور پھر سب ہنسی خوشی اپنی زندگی گزار سکیں گے۔

٭ پاکستانی اداکاروں والی فلمیں نہ دکھانے کا فیصلہ

فواد خان کی مشکل بھی آسان ہوگئی۔ انھیں اب کبھی بالی وڈ تو کبھی لالی وڈ کے درمیان چکر نہیں کاٹنے پڑیں گے، ان کے لیے بھی اپنا ’ورک لائف بیلنس‘ بحال کرنے کا یہ بہترین موقع ہے، اب وہ پاکستانی فلموں میں سکون سے کام کرسکیں گے، ہاں بس یہ دعا کرتے رہیں کہ پاکستان میں ان کی فلموں اور ڈراموں پر پابندی نہ لگا دی جائے۔ آخر انھوں نے کچھ پیسوں اور تھوڑی سی شہرت کے لیے ’دشمنوں‘ کی فلموں میں کام جو کیا تھا۔

پاکستان میں ٹی وی دیکھ کر اپنی زندگی تمام کرنے والوں کی بھی مشکل آسان ہوگئی۔ اب وہ صرف پاکستانی ڈرامے دیکھیں گے اور انھیں روزانہ حب الوطنی کی سخت آزمائش سے نہیں گزرنا ہوگا۔ وہ کھلے ذہن سے سوچ سکیں گے، پاکستانی فنکاروں کے لیے ترقی کے راستے کھل جائیں گے، مقامی ڈراموں کا معیار بہتر ہوتا چلا جائے گا اور کچھ ہی دنوں میں ساس بہو کی کبھی نہ ختم ہونے والی تکرار والے ڈرامے ایک دھندلی سی یاد بن جائیں گے۔ اس سے گھروں کا ماحول بھی بہتر ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PAkistanidrama.com
Image caption پاکستانی ڈرامہ زندگی گلزار ہے حالیہ برسوں میں انڈیا میں مقبول ہونے والے ڈراموں میں صفِ اول پر تھا

انڈیا میں پاکستانی ڈراموں کے شیدائیوں کی بھی مشکل آسان ہوگئی کیونکہ زی گروپ نے اپنے زندگی چینل پر پاکستانی ڈرامے دکھانا خود ہی بند کر دیے ہیں۔ ان ڈراموں کو دیکھ کر بہت سے ہندوستانیوں کی زبان میں اردو کے الفاظ شامل ہوتے جارہے تھے۔ یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ آیا انھیں ’ساحل سمندر‘ اور ’مجاز خدا‘ جیسے الفاظ بھلانے ہوں گے یا وہ چھپ کر انھیں اب بھی استعمال کرسکیں گے۔

ہم جیسے لوگوں کی بھی مشکل آسان ہوگئی جن سے اردو کے مشکل الفاظ کے معنی پوچھے جاتے تھے اور اکثر یہ سننا پڑتا تھا کہ ’اچھا، آپکو بھی نہیں معلوم؟‘

لیکن سارے مسائل ابھی حل نہیں ہوئے ہیں۔ ان فلموں کے بارے میں بھی کچھ کیا جانا چاہیے جو کشیدگی کے اس نئے دور سے پہلے ریلیز ہوگئی تھیں۔ ’ہیپی بھاگ جائے گی‘ ان میں سے ایک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ DHARMA PRODUUCTIONS
Image caption کرن جوہر کو فوجی ویلفیئر فنڈ میں پانچ کروڑ روپے جمع کروانا ہوں گے

یہ فلم آجکل ٹی وی پر دکھائی جارہی ہے، اس میں پاکستانی اور ہندوستانی اداکاروں نے مل کر کام کیا ہے، وہ کئی جگہ ایک دوسرے کو گلے بھی لگاتے ہیں، اور فلم میں ہی سہی، ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے ہیں!

ایسی فلموں پر ابھی ہندوستان میں پابندی عائد نہیں کی گئی ہے جن میں دونوں ملکوں کے فنکار شامل ہوں لیکن سینسر بورڈ کو تو چوکنہ رہنا چاہیے۔ ہیپی ایک لڑکی ہے جو گھر سے بھاگ کر غلطی سے پاکستان پہنچ جاتی ہے، وہاں ایک پاکستانی نوجوان اس کی پسند کے نوجوان سے اس کی شادی کراتا ہے، بس غنیمت یہ ہے کہ یہ نوجوان ہندوستانی ہے۔ دونوں طرف کے کردار ایک دوسرے سےمحبت کرتے ہیں، ایک دوسرے کی تعریف کرتے ہیں، اور جب کوئی فلم اس طرح کا گمراہ کن پیغام دے تو اسے روکنا سینسر بورڈ کی ذمہ داری ہے۔

اور یہ کوشش بھی کی جانی چاہیے کہ ’ہیپی بھاگ جائے گی‘ جیسی فلمیں اچانک ٹی وی پر نہ دکھائی جائیں، اور اگر دکھانا ناگزیر ہی ہے تو پہلے یہ نوٹس ضرور نشر کیا جانا چاہیے کہ فلم میں پاکستانی اداکاروں نے بھی کام کیا ہے، جو لوگ نہیں دیکھنا چاہتے وہ یا تو چینل بدل لیں یا اٹھ کر چلے جائیں۔

لیکن ’ہیپی بھاگ جائے گی‘ اور ’بجرنگی بھائی جان‘ جیسی فلمیں کہیں زیادہ گہرا سوال بھی اٹھاتی ہیں۔ ان دونوں میں ہندوستانی کردار کافی آسانی سے پاکستان پہنچ جاتے ہیں، نہ ویزے کی ضرورت اور نہ پاسپورٹ کی۔ یہ دونوں ملکوں کی مسلح افواج اور نیم فوجی دستوں کو خراب روشنی میں دکھانے کی ایک سازش ہوسکتی ہے!

ذرا ہوشیار رہیے گا۔

اسی بارے میں