بالی وڈ راؤنڈ اپ: 'پرینکا مس ورلڈ بنیں تو میں سکول میں تھی'

دیپکا اور پرینکا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دپیکا پاڈوکون اور پرینکا چوپڑہ بالی وڈ کی دو بڑی اور کامیاب اداکارائیں ہیں

کہتے ہیں کہ بالی وڈ میں کوئی کسی کا دوست نہیں ہوتا اور دو ہیروئنوں کی رقابتوں کے قصے تو بہت سنے ہیں لیکن دوستی کی مثال شاید ہی ہو۔

دپیکا پاڈوکون اور پرینکا چوپڑہ بالی وڈ کی دو بڑی اور کامیاب اداکارائیں ہیں جنھوں نے انڈیا ہی نہیں ہالی وڈ میں بھی اپنی ایک پہچان بنا لی ہے۔ اس کام میں پہل پرینکا نے کی۔ دونوں ہی باصلاحیت بھی ہیں اور خوبصورت بھی۔

پرینکا نے سیریئل 'کوانٹیکو' سے امریکی ٹی وی دنیا میں قدم رکھا اور اب وہ ہالی وڈ کی فلم 'بے واچ' میں نظر آئیں گی تو دپیکا 'ٹرپل ایکس' سے ہالی وڈ میں قدم رکھ رہی ہیں۔

ایسے میں ان کا موازنہ کیا جانا بھی لازمی ہے اور ان کے درمیان پروفیشنل مقابلہ یا سرد جنگ کی باتیں بھی میڈیا میں گردش کرتی ہیں۔ حال ہی میں ایک میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں دپیکا نے کہا کہ ان کے اور پرینکا کے درمیان موازنہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جب پرینکا مس ورلڈ بنی تھیں تو وہ سکول میں تھیں۔

اب میڈیا نے دپیکا کے انٹرویو کے اس حصے کو تو خوب سرخیوں میں شامل کیا لیکن یہ نہیں لکھا کہ کس طرح دپیکا نے واضح کیا کہ انڈسٹری میں آنے کا دونوں کے وقت، حالات، راستے اور واقعات مختلف تھے اس لیے ان کا موازنہ درست نہیں۔ دپیکا نے یہ بھی کہا کہ ان کے اور پرینکا کے درمیان کوئی دشمنی نہیں ہے۔

'پدماوتی' کے لیے جیسا کام ویسا دام

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دیپکا اور رنویر سنگھ ایک بار پھر ایک تاریخی فلم کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں

فلمساز سنجے لیلا بھنسالی اپنے مختلف انداز کے لیے مشہور ہیں اور اب ایک بار پھر وہ ایک تاریخی فلم بنانے کی تیاری میں ہیں اور اس بار وہ رانی پدما وتی پر فلم 'پدما وتی' بنا رہے ہیں۔ اس کے لیے انھوں نے دپیکا پاڈوکون کا انتخاب کیا ہے اور ان کے ساتھ پھر وہی یعنی رنویر سنگھ ہوں گے۔

اس میں دلچسپ خبر یہ ہے کہ اس فلم کے لیے دپیکا کو 11 کروڑ روپے کی رقم پیش کی گئی ہے جب کہ ان کے 'ہیرو' رنویر سنگھ کو اس سے کہیں کم فیس ادا کی جا رہی ہے۔

اب میڈیا میں اس بات کو مختلف انداز سے پیش کیا جا رہا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ کچھ اخبارات میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے جیسے ہیروئن کو فلم کے ہیرو سے زیادہ فیس ادا کر کے ہیرو کی انا کو چیلنج کیا گیا ہو۔

شاید لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ وہی دپیکا ہیں جنھیں حال ہی میں فوربز میگزین میں دنیا کی دس مہنگی ترین ہیروئنز کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ تو جیسا کام ویسا دام چاہے وہ ہیرو ہو یا ہیروئن۔

ابھی دلی دور ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انیل کپور کے بیٹے کا خیال ہے کہ سٹارز کے بچوں پر فلم ساز پیسے لگانے کے لیے تیار نہیں ہوتے

انیل کپور کے صاحبزادے ہرش وردھن حال میں'مرزیا' جیسی فلاپ فلم دینے کے بعد پریشان ہیں۔ ہرش کا کہنا ہے کہ فلم سٹارز کے بچوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دوسرے اداکاروں کے مقابلے میں ان کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی پروڈیوسر فلم سٹارز کے بچوں کے نام پر اپنے پیسے گنوانے کا خطرہ نہیں مول لینا چاہتا۔

یہاں ہرش کو دو باتیں سمجھنی ہوں گی ایک تو سٹارز کے خاندان سے ہونے کا مطلب کامیابی کی گارنٹی نہیں۔ پروڈیوسر اپنا پیسہ وہیں لگاتے ہیں جہاں فائدہ ہوتا ہے۔

آپ کے والدین کا نام آپ کو ایک آدھ مرتبہ تو کام دِلا سکتا ہے لیکن کامیابی آپ کی اپنی صلاحیتیں ہی دلواتی ہیں اور انڈسٹری میں ایسی ایک نہیں کئی مثالیں ہیں۔ مثلاً شاہ رخ خان انڈسٹری کے کنگ اپنی صلاحیتوں کے سبب کہلائے جب کہ امیتابھ بچن سمیت بالی وڈ کے کئی بڑے سٹارز کے بچے لاکھ کوششوں کے باوجود بھی انڈسٹری میں کوئی خاص مقام حاصل نہیں کر پائے اور آپ کے لیے تو ابھی دلی دور ہے۔

نام جوڑا جاتا ہے تو اچھا نہیں لگتا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شردھا کپور فلم راک آن ٹو میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں

اداکارہ شردھا کپور کہتی ہیں کہ جب ان کا نام کسی کے ساتھ جوڑا جاتا ہے تو انھیں اچھا نہیں لگتا کیونکہ انھیں ایسا لگتا ہے کہ اس سے لوگوں کی توجہ ان کے کام سے ہٹ کر ان کی ذاتی زندگی پر مرکوز ہو جاتی ہے۔

شردھا کپور فرحان اختر کی فلم 'راک آن ٹو' میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور حال ہی میں فرحان اختر کے ساتھ ان کی دوستی کی افواہیں گردش کر رہی تھیں۔

شردھا کہتی ہیں ایک فلم کے لیے کوئی بھی فنکار جی توڑ محنت کرتا ہے لیکن جب اس کے کام کی بجائے غلط افواہیں اور پھر ان سے جڑے سوال پوچھے جاتے ہیں تو تکلیف ہوتی ہے۔

اب معلوم نہیں کہ شردھا واقعی بہت سادہ ہیں یا پھر بہت سمارٹ کیونکہ یہ تو اب بالی وڈ کا چلن بن چکا ہے کہ افواہیں اور تنازعات فلم کی کامیابی میں بہت مدد کرتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں