ایران اور ترکی کی فلموں کی نمائش، ’تجربہ کرنے میں کوئی حرج نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ china.org

پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کے بعد انڈیا نے پاکستانی فنکاروں کو بالی وڈ میں کام کرنے سے منع کیا تو پاکستان نے سینما ہاؤسز میں انڈین فلموں کی نمائش پر پابندی عائد کر دی ۔

پاکستان کے سینما گھروں میں انڈین فلموں کی نمائش کے بعد سے سینما گھر اگر ویران نہیں ہوئے تو کم از کم وہاں رش میں کافی کمی ضرور دیکھی جا رہی ہے۔

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایران کا سینما پاکستان میں ایرانی فلموں کی سکریننگ کے لیے دلچسپی رکھتا ہے۔ اس سلسلے میں ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق پاکستانی سینما ہاؤسز نے نہ صرف ایرانی بلکہ ترکی کی فلموں کو حاصل کرنے کے لیے رابطے شروع کیے ہیں۔

چند سال قبل اس قسم کا تجربہ پہلے کیا جا چکا ہے اور کراچی میں ترکی کی ایک فلم کی نمائش کی گئی تھی۔ اس فلم کی ڈبنگ ترکی کے ڈراموں سے کہیں بہتر تھی لیکن یہ تجربہ ناکام رہا۔

اس سلسلے میں فلم ڈسٹریبیوٹر اور سینما کے مالک ندیم مانڈوی والا نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کو اس سلسلے میں رابطوں کا علم نہیں ہے۔

'سینما میں فلموں کے چلنے کا دارومدار فلم کی مقبولیت پر ہے۔ اور فلموں کی مقبولیت کا ہم سب کو علم ہے۔ ہمیں ان فلموں پر توجہ دینی چاہیے جن کا ہمیں معلوم ہے کہ مقبول ہوں گی اور انہی فلموں کو زیادہ مارکیٹ کرنا چاہیے۔'

تاہم انھوں نے ایرانی یا ترکی کی فلموں کی نمائش کے تجربے کو بالکل رد نہیں کیا اور کہا کہ تجربہ کرنا چاہیے۔

'میں بالکل یہ نہیں کہہ رہا کہ تجربہ نہیں کرنا چاہیے۔ جیسے ترکی کے ڈرامے مشہور ہو گئے ہیں ہو سکتا ہے یہ فلمیں بھی مشہور ہو جائیں۔ لیکن میرے خیال میں ایسا ہونا مشکل ہے۔'

پاکستان سینی پیکس سینماؤں کے جنرل مینیجر مارکیٹنگ محسن یاسین نے کہا کہ ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا ایرانی فلموں کی سکریننگ میں پاکستانی سینما گھر دلچسپی لیں گے۔ 'میں نے کہا تھا کہ کیوں نہیں۔'

ان کے مطابق 'ہم دنیا بھر کی فلموں کو پروموٹ کرنے کے حق میں ہیں۔ اگر ترکی یا ایران سے مخصوص فلمیں آتی ہیں جو اس خطے کے لیے موزوں ہیں تو کیوں نہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AP

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران یا ترکی کی یا کسی اور ملک کی فلم کی نمائش اتنا آسان نہیں ہے۔ 'بہت سی چیزوں کو دیکھنا ہو گا۔ پہلے تو ایک دو فلمیں منگوائیں گے اور دیکھیں گے کہ وہ چلتی ہیں یا نہیں، آمدنی کتنی ہوتی ہے وغیرہ۔ اس کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔'

یاد رہے کہ 90 کی دہائی میں ہانگ کانگ کی فلموں کی نمائش بھی پاکستان میں کی جاتی تھی اور وہ کافی مقبول رہیں۔

تاہم ندیم مانڈوی والا کا کہنا ہے کہ عوام میں فلم کی مقبولیت صرف ایک عنصر ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ آیا ایران یا ترکی یا کسی اور ملک کی فلموں کی سپلائی کیا ہے۔ ہالی وڈ کو آپ دیکھیں تو نئی فلمیں آتی رہتی ہیں۔ کیا ایران یا ترکی یا کسی اور ملک کی فلموں کی سپلائی اتنی تواتر سے ہو گی؟'

انھوں نے مزید کہا کہ ایک یا دو یا تین فلمیں تو ہر ملک سے مل جائیں گی جو بہت اچھی ہوں گی لیکن سپلائی کو جاری رکھنا اصل چیلنج ہے۔

'سینما گھروں میں رش کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے جب تک تواتر سے فلمیں نہیں آئیں گی تب تک کوئی فائدہ نہیں ہے۔ بہت عرصے سے ہالی وڈ کی فلمیں آ رہی ہیں۔ سینما گھروں میں دوسری سٹریم پاکستان کی فلمیں تھیں اور پھر گذشتہ آٹھ دس سالوں میں تیسری سٹریم آئی جو کہ انڈین فلمیں تھیں۔ اب اگر یہ تجربہ کرنا بھی ہے تو ان فلموں کا تواتر سے آتے رہنا ضروری ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں