بالی وڈ میں کیا خواتین اداکاروں کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے؟

Image caption رنویر کے مطابق بالی وڈ میں ایسی کہانیاں بھی لکھی جانی چاہیں جن کے ذریعے خواتین اور اداکارائیں اس بات پر سوال اٹھائیں کہ آخر وہ ایک اداکار کے مقابلے میں کم تر درجے کا کام کیوں کریں یا پھر ان سے کم پیسوں پر کام کس لیے کریں۔

بالی وڈ کی اداکارہ نیہا دھوپیا کہتی ہیں کہ بالی وڈ میں اب پہلے کے مقابلے میں حالات بہتر ہوئے ہیں لیکن اداکار رنویر شوری کے مطابق اداکاراوں کے ساتھ امیتازی سلوک عام بات ہے۔

اس سے متعلق بی بی سی کے نامہ نگار سوشانت موہن نے دونوں اداکاروں سے بات چيت کی اور ان سے کچھ سوال کیے۔

انھوں نے پوچھا کہ کیا بالی وڈ میں مرد اداکاروں کے مقابلے میں اداکاراؤں کو کم کام ملتا ہے اور کیا خواتین کے مقابلے میں مردوں کے کیرئیر کے اختتام کا کوئی وقت نہیں ہوتا؟

اس سوال کے جواب میں اداکارہ نیہا دھوپيا نے کہا کہ ان کی نظر میں اب ایسا نہیں ہے اور اس میں پہلے کے مقابلے میں کافی بہتری آئی ہے۔

لیکن انھیں کے ساتھ بیٹھے اداکار رنویر شوری نے تسلیم کیا کہ یہ بات بالکل درست ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

رنویر کا کہنا تھا: 'امتیازی سلوک صرف ہمارے ہی بزنس میں نہیں ہر ایک بزنس میں ہے، کہ عورتوں کو بغیر کہے انھیں دوسرا درجہ دیا جاتا ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا: 'مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ آپ اور بہت سے لوگ اس بارے میں باتیں کر رہے ہیں لیکن یہ 'مردوں کی دنیا' ہے اور ایسے میں خواتین کو برابری دلانے میں کافی وقت لگے گا۔'

رنویر نے کہا کہ بالی وڈ میں ایسی کہانیاں بھی لکھی جانی چاہیں جن کے ذریعے خواتین اور اداکارائیں اس بات پر سوال اٹھائیں کہ آخر وہ ایک اداکار کے مقابلے میں کم تر درجے کا کام کیوں کریں یا پھر ان سے کم پیسوں پر کس لیے کام کریں۔

وہیں پر موجود اداکارہ نیہا دھوپيا کا کہنا تھا کہ 'پہلے کے مقابلے میں برابری کے مسئلے پر کئی تبدیلیاں آئی ہیں اور میں مانتی ہوں کہ 'کہانی' 'تنو ویڈز منو' یا پھر 'کوئن' جیسی فلمیں اس مرد کے تسلط والی فلم انڈسٹری میں تبدیلی لا رہی ہیں۔'

نیہا نے کہا کہ خواتین کے ایسے مسائل پر بات ہونے کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ آج مادھوری، سری دیوی اور کاجول جیسی اداکارہ ایک بار پھر سے بالی وڈ میں سرگرم ہو رہی ہیں۔ وہ خود برسوں سے انڈسٹری میں ہیں اور اب بھی ان کو کام مل رہا ہے۔'

رنویر شوری اس بات کو تسلیم کرتے ہیں لیکن وہ مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیا کاجول کو اتنا ہی کام مل رہا ہے جتنا 90 کے عشرے میں ملا کرتا تھا؟

ان کا کہنا تھا کہ شاہ رخ، سلمان، عامر یا اکشے کماراور رجنی کانت جیسے ستارے اب بھی سال میں 2 سے 3 فلمیں کرتے ہیں اور لیڈ رول میں نظر آتے ہیں۔

رنویر کہتے ہیں: 'مجھے اچھا لگا کہ اس بارے میں بات ہو رہی ہے لیکن خواتین کو خود بھی اس بارے میں آواز اٹھانی ہوگی، ورنہ ایسی آوازیں ایک محدود دائرے میں ہی رہ جائیں گی اور تبدیلی بھی ایک محدود دائرے تک ہی پہنچ پائےگی۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں