لاہور سے آگے، بہت آگے

لاہور سے آکے کا پوسٹر تصویر کے کاپی رائٹ lahore se aage
Image caption فلم لاہور سے آکے باکس آفس پر اتنی کامیاب نہیں دکھتی

کبھی کبھی کچھ فلمیں آپ کو ششدر کر دیتی ہیں۔ 'لاہور سے آگے' اُن فلموں میں سے ایک ہے۔ اس کو دیکھنے کے بعد میں کافی عرصے تک یہ سوچتا رہا کہ اس کے بارے میں کہوں تو کیا کہوں۔

فلمی تنقید کے بیشتر اوزار اس فلم کے آگے ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ 'اچھی،‘ ’بُری' جیسے معیار اس فلم کے سامنے بے معنی سے لگتے ہیں۔ کیونکہ یہ فلم کم اور فقرےبازی اور مسالے دار خاکوں کا مجموعہ زیادہ ہے۔

یہ فلم اس طرح کی 'پوسٹ ماڈرن' فلموں سے مشابہت رکھتی ہے جن میں کردارسازی، ربط اور کہانی غیر ضروری عناصر سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن اس سے آپ یہ ہرگز نہ سمجھیے گا کہ میں فلم کی برائی کر رہا ہوں، کیونکہ فلمسازوں نے یہ فلم میرے جیسے نقادوں کے لیے نہیں بلکہ عوام کی اُس بھیِڑ کے لیے بنائی ہے جو سنیما ہالوں کی رونق بڑھاتی ہے، اور جن کو شاید فلمی نقادوں کی مین میخ سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ lahore se aage
Image caption اگر اس فلم میں کسی چیز نے متاثر کیا ہے تو وہ صبا قمر کی پرفارمنس ہے

اگر کہانی کا بے ہنگم پن، کرداروں کا ناقابلِ یقین ہونا اور فلم کے مناظر میں بے ربطی اُن کو پریشان نہیں کرتی اور وہ صرف جملے بازی اور گانوں سے خوش ہوتے ہیں تو پھر شاید مسئلہ نقادوں کے ساتھ ہے۔

'لاہور سے آگے' ہدایت کار اور پروڈیوسر وجاہت رؤف کی دوسری پیشکش ہے اور ایک طرح سے اُن کی پہلی فلم 'کراچی سے لاہور' کا سیکوئل ہے۔ دونوں فلمیں ایک خاص ’زمرے‘ کی فلمیں ہیں جنھیں 'روڈ مُوویز' کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ اِن کا بیشتر ایکشن کسی سفر کی کہانی کے گِرد گھومتا ہے۔

یہاں دونوں فلموں میں مُشترکہ کردار صرف 'موتی' (یاسر حسین) کا ہے، جس کا ہکلاپن ہی اس کے کردار کی پہچان ہے۔ موتی پچھلی فلم میں لاہور پہنچنے کے بعد اب سوات کا رُخ کرتا ہے کیونکہ اس کے مُنہ بولے ماموں (بہروز سبزواری)، جو سوات میں رہتے ہیں، اس کو اپنی جائیداد کا وارث بنانا چاہتے ہیں۔ راستے میں اس کو ایک لڑکی 'تارا' (صبا قمر) مل جاتی ہے جو مشہور گلوکارہ بننے کے خواب دیکھتی ہے اور اپنے منگیتر سے جان چھُڑا کر موسیقی کے ایک مقابلے میں حصّہ لینے اسلام آباد جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ lahore se Aage
Image caption 'لاہور سے آگے' فلم ہدایت کار اور پروڈیوسر وجاہت رؤف کی دوسری پیشکش ہے اور ایک طرح سے اُن کی پہلی فلم 'کراچی سے لاہور' کا سیکوئیل ہے۔

موتی کے پیچھے دو بیوقوف غُنڈے (عبداللہ فرحت اللہ اور عمر سلطان) لگے ہوئے ہیں جن کو اس کی ممانی (روبینہ اشرف) نے بھیجا ہے تاکہ جائیداد موتی کے ہاتھ نہ لگ سکے۔ اُن میں سے ایک پختون ہے اور اپنے آپ کو انگریز سمجھتا ہے، دوسرا بہاری ہے اور امیتابھ بچّن کے ڈائیلاگ بولتا رہتا ہے۔ باقی کہانی بتانا ضروری نہیں ہے۔

کہانی (اگر آپ اس کو کہانی کا درجہ دینا چاہتے ہیں) موٹروے بننے سے پہلے والے سوات کے راستے سے زیادہ موڑ کاٹتی ہے اور اس میں لمبے لمبے مناظر ایسے ہیں جن کا فلم کو آگے بڑھانے سے کوئی دور دراز کا تعلق بھی نہیں ہے۔

کچھ سین تو صرف پروڈیوسر کی فیملی یا فلم کے کارپوریٹ سپانسرز کو خوش کرنے کے لیے ڈالے گئے ہیں، جن میں ایک بینک اور فاسٹ فوڈ چین شامل ہیں۔ لیکن 15 سے 20 منٹ کا ایک سین خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، جس کا مقصد صرف اور صرف ناچ گانا اور سیاہ فام لوگوں کے حوالے سے مسخرہ پن ہے۔ کمال یہ ہے کہ 21ویں صدی میں بھی کچھ فلمسازوں کو دقیانوسی نسلی تصورات میں ہنسی مذاق کا پہلو نظر آتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Lahore se Aage
Image caption اس میں کوئی بھی سین آپ کو حیرت میں نہیں ڈالتا لیکن اس کی عکاسی یا تدوین کو کمزور بھی نہیں کہا جا سکتا

بہر کیف، اگر اس فلم میں کسی چیز نے متاثر کیا ہے تو وہ صبا قمر کی پرفارمنس ہے۔ وہ اس فلم پر چھا جاتی ہیں، باوجود اس کے کہ اُن کے کردار اور یاسر حسین کے کردار کا رومانس (جو اس فلم کا محور ہے) اُتنا ہی قابلِ یقین ہے جتنا اسلام آباد کے جنگلوں میں آدم خور قبیلے کی موجودگی کا تصوّر۔

یاسر حسین اس فلم کے مصنف بھی ہیں اور انھوں نے موتی کے ہکلاتے کردار کا ایک مقام بنا لیا ہے۔ لیکن یہ کردار مزاحیہ اور تُند و تیز فقروں سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔

یہ بات نہیں کہ فلم میں مزاح کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ کچھ جملے بے ساختہ ہنسی پر ضرور مجبور کرتے ہیں اور شیراز اُپل کی موسیقی بھی سچ مُچ میں دیگر پاکستانی فلموں کی موسیقی سے کئی درجے بہتر ہے۔ تکنیکی حوالے سے بھی 'لاہور سے آگے' ٹھیک ٹھاک فلم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Lahore se Aage
Image caption یہ بات نہیں کہ فلم میں مزاح کا کوئی پہلو نہیں ہے۔۔۔۔ کچھ جملے بے ساختہ ہنسی پر ضرور مجبور کرتے ہیں

اس میں کوئی بھی سین آپ کو حیرت میں نہیں ڈالتا لیکن اس کی عکاسی یا تدوین کو کمزور بھی نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ وجاہت رؤف نے ہدایت کاری کے گُر اِنڈیا کے ڈیوڈ دھون کی فلموں کو دیکھ کے سیکھے ہیں، جن میں انٹ شنٹ ہونا باعثِ فخر سمجھا جاتا ہے۔

بات ہو رہی تھی کہ اس طرح کی فلم کا سنجیدگی سے تجزیہ کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں ہے۔ جب فلمسازوں کو باکس آفس کی چمک کے علاوہ کسی اور چیز سے غرض نہ ہو تو مثبت تنقید کرنا بھی اپنے آپ کو بیوقوف بنانے کے مترادف لگتا ہے۔ اور جب فلم ہی مذاق میں بنائی گئی ہو تو نقاد اپنا مذاق کیونکر اُڑوائے؟

پسِ تحریر: شاید یہ کہنا قبل از وقت ہو، اور میں عموماً باکس آفس اور فلمی تنقید کو الگ رکھنے کا قائل ہوں، لیکن کیا ایسا ممکن ہے کہ وہ عوام جن کے لیے یہ فلم بنائی گئی ہے، انھوں نے بھی اس فلم سے مُنہ پھیر لیا ہو؟

میں نے فلم جمعے کی شام کو ساڑھے نو بجے کے شو میں دیکھی۔ فلم کو لگے ابھی ایک ہفتہ ہوا تھا۔ دوسری فلمیں بھی مقابلے میں نہیں تھیں۔ لیکن مجھے ٹکٹ پانچ منٹ پہلے بھی بآسانی مل گیا۔ سنیما کے اندر، ویک اینڈ کی شام کو، ہال صرف 60 سے 70 فیصد بھرا ہوا تھا!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں