’تفریحی مواد بیرونِ ملک برآمد کرنے کے لیے نظام بنایا جائے‘

پاکستان

پاکستان میں تفریح یا انٹرٹینٹمنٹ کی صنعت سے وابستہ افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں تیار کیے جانے والی تفریحی مواد کی بیرونِ ملک برآمد کے حوالے مربوط نظام تشکیل دیا جائے۔

اتوار کو کراچی میں وفاق ایوانِ ہائے صنعت و تجارت کے زیر انتظام پروڈکشن اور انٹرٹینٹمنٹ کانفرنس میں اس صنعت سے وابستہ افراد نے انڈسٹری کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے۔

ایف پی سی سی آئی کی ذیلی کمیٹی برائے پروڈکشن اور انٹرٹینٹمنٹ کی سربراہ عتیقہ اوڈھو نے بتایا کہ کانفرنس کے ذریعے مختلف لوگوں کو ایک جگہ لاکر ان کے درمیان ایک مکالمہ شروع کروایا گیا اور اب ان سفارشات پر مبنی ایک رپورٹ تیار کر کے حکومت کو دی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں مقامی مواد کی کمی ہے کیونکہ جتنے پیسے سینیما بنانے میں لگائے گئے ہیں ان میں کچھ یہاں کہ انسانی وسائل پر بھی صرف ہونے چاہیے تھے۔

کانفرنس میں شریک شرکا کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کے سیاسی معاملات کی وجہ سے درپیش مسائل اپنی جگہ مگر پاکستان میں مقامی سطح پر ایسا مواد بنانے کا کوئی نظام نہیں ہے، جیسے بیرون ملک برآمد کیا جا سکے۔

کانفرنس میں کہانی نویسی، ریٹنگز کا کھیل، تھیٹر، کسی خیال کی تشہیر، سینیما اور متبادل سینیما اور سینسرشپ، فلم فیسٹیولز، فلمی موسیقی اور آڈیو انجینئرنگ سمیت مختلف چیزوں پر تفصیلی سیشنز ہوئے۔

دورانِ گفتگو یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ پاکستان میں موسیقی کے چینل سات سے گھٹ کر تین رہ گئے ہیں۔

کانفرنس میں نجی پروڈکشن کے مابین ہونے والے تنازعات، سرمایہ کاری، اینیمیشن ، غیرملکی مواد، مقامی زبانیں، ریڈیو اور ایف ایم، ایکٹرز اور پروڈیوسرز کے معاملات، ڈیجیٹل ایکٹیویشن اور مارکیٹنگ ، بچوں کے پروگرام پر بھی بات کی گئی۔