’جشن ادب‘ میں ’ماورائے ادب‘ گفتگو

Image caption جشن ادب میں میڈیا اور زبان کے رشتے کے علاوہ ایک ناول 'مرزا واڑی' پر بھی بات ہوئی

انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں جشن ادب کے عنوان سے ہندی، اردو کے ادیب و شاعر اور صحافیوں کی گفتگو سرد موسم میں رشتوں کی گرمی کا احساس دلا رہی تھی۔

اس دو روزہ کانفرنس میں جاوید اختر سمیت کئی نامور شخصیات نے شرکت کی۔

جشن ادب کا پانچویں سالانہ پروگرام سنیچر اور اتوار یعنی دس اور 11 دسمبر کو منعقد کیا گیا ہے اور اسے ’جشن جاوید‘ کا نام بھی دیا گيا ہے کیونکہ اس میں جاوید اختر کو مختلف شعبوں میں ان کی نمایاں خدمات کے لیے ’جشن ادب ایوارڈ‘ سے نوازا گیا ہے۔

ان کے علاوہ ’پاسبان ادب‘ کا اعزاز شنکر شاد ٹرسٹ اور معروف مصنفہ رخشندہ جلیل کو دیا گيا جبکہ ’پاسبان صحافت ایوارڈ‘ ای ٹی وی (اردو) کو دیا گیا۔

جشن ادب کے سیکریٹری کنور رنجیت چوہان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’شان اردو‘ ایوارڈ بھی دیا جانا ہے اور یہ اعزاز پروفیسر شمیم حنفی کو اتوار کے روز جاری ایک تقریب کے دوران دیا جائے گا۔

Image caption جاوید اختر کو مختلف شعبوں میں ان کی نمایاں خدمات کے لیے 'جشن ادب ایوارڈ' سے نوازا گیا ہے

ہندی کے معروف مصنف ڈاکٹر اشوک چکردھر نے افتتاحی تقریب کے بعد ’کیا زبان ترسیل سے زیادہ کچھ ہے‘ کے عنوان پر سیرحاصل باتیں کیں اور انڈیا میں جاری نوٹ بندی کے بحران پر تنقید کی۔

پروفیسر شمیم حنفی نے اردو کے معروف شاعر اور ناقد فراق گھورکھپوری کے ایک شعر:

آنے والی نسلیں تم پر رشک کریں گی ہم عصرو

جب بھی ان کو دھیان آئے گا تم نے فراق کو دیکھا ہے

شمیم حنفی نے ’ہم نے فراق کو دیکھا ہے‘ کے تعلق سے ہندی اور اردو کے رشتے پر بات کی۔

اس سے پہلے معروف صحافی اور کالم نگار کلدیپ نیر نے ہندوستان میں اردو کی حالت اور اس کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہندوستان میں جمہوریت تو کسی طرح پاؤں جما سکی لیکن سیکولرازم پاؤں نہیں جما سکا۔‘

کلدیپ نیر نے اپنے زمانے کے معروف شاعر اور مجاہد آزادی حسرت موہانی سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنے ’کریئر کا آغاز اخبار انجام سے کیا تھا۔'

انھوں نے بتایا کہ حسرت موہانی انڈیا میں اردو کے مستقبل سے بہت مطمئن نہیں تھے، اس لیے انھوں نے اردو کے بجائے انھیں انگریزی صحافت کی جانب جانے کا مشورہ دیا تھا۔

Image caption جاوید اختر کے ساتھ ایک سیشن میں شاعری کے حوالے سے بات ہوئی جس میں انھوں نے 'شاعری کیا ہے؟' کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا

کلدیپ نیر نے کہا کہ تقسیم کے بعد اردو کو پاکستان نے اپنا لیا جس کے نتیجے میں ہندوستان میں وہ بے یارو مددگار ہو گئی۔

انھوں نے کہا کہ ’اردو کو مسلمانوں کی زبان قرار دیا گيا اور مسلمان انڈیا میں اب صرف اپنے جان و مال کی حفاظت چاہتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سیکولرازم یہاں پاؤں نہیں جما سکا۔‘

جبکہ شمیم حنفی نے کہا کہ ’جب تک ہندوستان میں اردو باقی ہے تب تک سیکولرازم باقی ہے۔‘

ہندی کے معروف صحافی راہل دیو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اردو کے مٹ جانے کا خوف ہے اور شاید اسی لیے وہ اس رسم الخط کو سیکھنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے انگریزی کے علاوہ تمام زبانوں کو خطرے سے دوچار بتایا لیکن ان کے مطابق ان میں سرفہرست اردو ہے۔

جاوید اختر کے ساتھ ایک سیشن میں شاعری کے حوالے سے بات ہوئی جس میں انھوں نے ’شاعری کیا ہے؟‘ کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

انھوں نے اسی دوران بتایا کہ انھوں نے اپنے دادا مضطر خیرآبادی کا پانچ جلدوں میں کلیات مرتب کیا ہے اور ’ایک ایک جلد چھ سو صفحات پر مشتمل ہے جبکہ ان کا مجموعی وزن تقریباً ساڑھے نو کلو ہے۔'

Image caption کلدیپ نیر نے کہا کہ تقسیم کے بعد اردو کو پاکستان نے اپنا لیا جس کے نتیجے میں ہندوستان میں وہ بے یارو مددگار ہو گئی

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’یہ قضیہ اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے کہ ’نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں، نہ کسی کے دل کا قرار ہوں‘، بہادر شاہ ظفر کی نہیں بلکہ ان کے دادا مضطر خیرآبادی کی کہی ہوئی غزل ہے۔‘

انھوں نے تمام تر حوالے سے یہ بتانے کی کوشش کی کہ اب ’وہ غزل مضطر خیرآبادی کی بیاض میں ان کے ہاتھ سے لکھی مل گئی ہے جس کا عکس انھوں نے کلیات میں شامل کر دیا ہے اس لیے اب یہ قضیہ ختم ہوتا ہے کہ یہ کس کی غزل ہے۔‘

جشن ادب میں میڈیا اور زبان کے رشتے کے علاوہ ایک ناول ’مرزا واڑی‘ پر بھی بات ہوئی۔

اس میں ناول کے خالق پرویز احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ناول تقسیم ہند پر نہیں بلکہ تقسیم کے بعد ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کے مسائل اور ان کے حل پر ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں