لاطینی فلم میں بہاری نوجوان

فلم کا پوسٹر تصویر کے کاپی رائٹ PRABHAKAR SHARAN
Image caption پربھاکر شرن کی فلم کا ایک پوسٹر

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست بہار میں موتیہاری ضلعے کے 36 سالہ نوجوان پربھاکر شرن کی زندگی کسی رولر کوسٹر سے کم نہیں۔

دہلی سے ملحق ریاست ہریانہ سے تعلیم حاصل کرنے والے پربھاکر پہلی بار لاطینی امریکی سینیما میں ایک ہندوستانی ہیرو کا کردار نبھا رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: 'میری فلم کا ہسپانوی نام ہے 'انرے دادوس لا کنفیوژن' ہے جسے انگریزی میں 'انٹینگل دی کنفیوژن' کہہ سکتے ہیں' جبکہ اردو اور ہندی زبان میں اسے 'محبت اور گھن چكّر' کہا جا سکتا ہے۔ بہر حال ابھی تک اس کے لیے یہ عنوان طے نہیں ہوا ہے۔

لاطینی امریکی ملک کوسٹاریکا میں پربھاکر بالی وڈ کا مسالا لے کر پہلی بار پردۂ سیمیں پر نظر آنے والے ہیں۔

اپنی فلم کے بارے میں پربھاکر بتاتے ہیں: 'یہ دو نوجوانوں کی کہانی ہے جو اپنی غلطیوں کی وجہ سے مشکلات میں گھر جاتے ہیں۔ فلم میں میرا نام لیو ہے۔ مرکزی اداکار کے طور پر میں ان مسائل کو سلجھاتا ہوں۔'

پربھاکر نے بالی وڈ میں قدم رکھنے کے لیے بہت ہاتھ پاؤں مارے۔ اداکار منوج واجپئی کے والد کی جانب سے سفارش والا خط لے کر وہ ممبئی پہنچے لیکن کوئی کامیابی نہیں ملی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PRABHAKAR SHARAN
Image caption فلم کو بالی وڈ کے انداز میں مسالا فلم کے طور پر بنایا گيا ہے

پھر سنہ 1997 میں وہ کوسٹاریکا پہنچ گئے۔ وہاں تعلیم حاصل کی اور پھر کاروبار میں قسمت آزمائی کی لیکن ناکامیوں اور جدوجہد کا سلسلہ جاری رہا۔

انھوں نے بتایا: 'میری فلم میری زندگی کی طرح کسی رولر کوسٹر کی طرح اوپر نیچے جاتی ہے۔ کوسٹاریکا اور اس علاقے میں کبھی بھی ایکشن فلم نہیں بنی تھی۔ شروع سے میں بالی وڈ میں کچھ کرنا چاہتا تھا۔ وہاں ممبئی میں بھی میں نے کچھ کوشش کی تھی۔ موقع نہ ملنے پر میں یہاں آ گیا۔'

انھوں نے بالی وڈ فلموں کی لاطینی امریکہ میں تقسیم کاری کے کام میں بھی شرکت کی۔

وہ مزید کہتے ہیں: 'میں نے کوسٹا ریکا میں بالی وڈ کی پانچ چھ فلمیں خرید کر ریلیز کرائیں۔ میں نے 2006 میں لاطینی امریکہ میں اکشے کمار کی فلم 'گرم مسالا' ریلیز کی۔ میں بالی وڈ کے نزدیک آنا چاہتا تھا۔ اس وقت میں 20-25 لاکھ روپے میں فلمیں خریدتا تھا جس سے دو تین لاکھ کی آمدنی ہوتی تھی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ PRABHAKAR SHARAN
Image caption فلم کا ایک منظر

پربھاکر نے کہا: 'پھر بات ہوئی بالی وڈ کے کچھ ڈائریکٹروں سے کہا کہ کیا ہم کسی پروجیکٹ کو بالی وڈ کے انداز میں لاطینی امریکہ میں تیار کر سکتے ہیں؟ اس کے لیے میں نے فلم ہدایت کار جی وشوناتھ کو بھی بلایا۔ لیکن ہم ناکام ہو گئے۔ اس کے بعد میں نے یہاں ڈبلیو ڈبلیو ای سے منسلک کچھ تقریبات منعقد کروائیں، جن کا نام مونسٹر ٹرک ایونٹ تھا۔ کافی بڑی تقریب تھی۔ اس میں امریکہ سے 48 سابق چیمپیئنوں کو بلایا گيا تھا جو موٹر سائیکل اور ٹرک کے ذریعے اپنے ہنر کا مظاہرہ کرتے تھے۔'

اس تجربے کے بارے میں وہ کہتے ہیں: 'کوشش یہی تھی کہ کسی بھی طرح سے پیسہ آئے اور بڑی فلم بنائیں۔ میری کمپنی کو ان تقریبات میں سنہ 2010 میں انڈین روپے کے لحاظ سے تین سے چار کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ محنت سے پیسے کمانا اور یہ کام کرنا بیرون ملک آسان نہیں ہے۔ لیکن میں لگا رہا۔ بھارتی خون جب کھولتا ہے تو کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ کرتا ہی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ PRABHAKAR SHARAN
Image caption فلم میں ایکشن کے ساتھ گیت اور رقص بھی ہیں

انھوں نے کہا: 'فلم تو بنانی ہی تھی۔ میں نے بالی وڈ سے متاثر ہو کر کہانی لکھی۔ اس کے لیے فنکاروں کی تلاش مشکل تھی۔ لاطینی امریکہ میں بالی وڈ انداز کا اداکار کہاں سے ملتا جسے گانا بھی آتا ہو، ایکشن بھی آتا ہو۔'

پربھاکر کی فلم لاطینی امریکہ میں اگلے سال نو فروری کو ریلیز ہو رہی ہے۔ وہ اسے ہندی اور انگریزی میں ڈب کرانا چاہتے ہیں۔وہ فلم کو امریکہ اور بھارت میں بھی ریلیز کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

جبکہ اپنی آبائی ریاست بہار کے لیے وہ اسے بطور خاص بھوجپوری زبان میں ریلیز کرنا چاہتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں