2016 میں پاکستانی ڈرامہ نڈر ہو گیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ HUM TV

دو ہزار سولہ میں پاکستان کے درجنوں تفریحی چینلز پر ڈراموں کی بہتات رہی لیکن ہمیشہ کی طرح ڈرامے کا مسئلہ یہی رہا کہ محبت کی پینگ کیسے جھولی جائے، بہو کو قابو کیسے کیا جائے، ساس کی زبان کا توڑ کیا ہو۔

دوسری شادی اور طلاق کے جھمیلے کیونکر نمٹیں، رشتہ داروں کی سیاست کے وبال اورداماد ڈھونڈ نے کے جنجال جیسے مو ضوعات پر بنے ڈرامے دھڑا دھڑ چلے اور ہاتھوں ہاتھ بکے لیکن اس بھیڑ چال میں چند ایسے ڈرامے سکرین پر آئے جنھوں نے روایت سے بغاوت کی اور جنسی زیادتی، خواجہ سراؤں کے متعلق مسائل اور غیرت کے نام پر قتل جیسے حساس موضوعات پر بات کی اور کچھ ایسے انداز سے کی کہ سیدھا ناظرین کے دل میں اتری۔

بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے موضوع پر بنا ڈرامہ ’اڈاری‘ بھی انہی ڈراموں میں سے ایک ہے۔

ریپ جیسے موضوع پر ڈرامے تو بہت بنے لیکن ’اڈاری‘ کی پروڈیوسر مومنہ درید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسے موضوعات پر مناسب طریقے سے کام نہیں کیا گیا، یعنی جنسی زیادتی کو سنسنی خیزی کے لیے استعمال کیا گیا اور یہی وجہ تھی کہ انھیں اڈاری جیسا موضوعاتی ڈرامہ بنانے کی تحریک ملی۔

اڈاری میں دس سالہ زیبو کو اس کا سوتیلا باپ زیادتی کا نشانہ بناتا ہے اور ڈرامے میں اسی عمر کی اداکار بچی سے یہ سین اس طرح عکس بند کروانا کہ مقامی ناظرین اس کو ہضم کر پائیں مومنہ کے خیال میں ایک چیلنج تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ڈرامہ کی تیاری کے دوران انھوں نے سوچا تھا کہ عکس بندی جو وہ خود اپنی بیٹی سے نہ کروا سکیں کسی دوسرے کی بیٹی سے نہیں کروائیں گی۔

عوام میں مقبولیت ملنے کے ساتھ ان ڈراموں پر تنقید بھی ہوئی۔ کہا گیا کہ ڈرامہ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔

اڈاری کو پاکستان میں میڈیا کے نگران ادارے پیمرا نے نوٹس بھی جاری کیا جو ڈرامے کی پروڈیوسر کے کہنے کے مطابق کئی شکایات درج ہونے پر کیا گیا تھا۔

مہوش بدر ایک بلاگر ہیں اور پاکستانی ڈرامہ اکثر ان کے بلاگز کا مو ضوع ہوتا ہے۔ ڈرامے کی ناقد ہونے کے ساتھ ساتھ وہ دو بچوں کی ماں بھی ہیں۔

ڈرامے کے موضوعات کے بولڈ ہونے کے متعلق وہ کہتی ہیں کہ اس معاملے میں والدین پر کڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچوں کو ایسے موضوعات پر مبنی مواد اپنی نگرانی میں دکھائیں لیکن ان موضوعات پر بات نہ کرنا اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔

دو ہزار سولہ میں ڈگر سے ہٹ کر بننے والے ڈراموں میں ایک ڈرامہ ’سنگ مر مر‘ بھی ہے۔ سوات کی حسین وادی میں عکس بند ہونے والے اس ڈرامے میں دکھایا گیا کہ کس طرح ایک مخصوص کلچر میں غیرت اور بے غیرتی کے بیچ جھولتی زندگی گیت سے زیادہ گولی کی زبان سمجھتی ہے۔

ڈرامے کی کہانی غیرت کے نام پر قتل اور قتل کے نام پر عورتوں کے لین دین سے متعلق ہے۔ ڈرامے کے کردار زندگی کے اس قدر قریب ہیں کہ دیکھنے والے کو اپنے قریبی ساتھی ہی معلوم ہوتے ہیں۔

سنگ مر مر کو ریٹنگ میٹرز پر پانچ اور چھ کی ریٹنگ ملی جو سپر ہٹ سمجھی جاتی ہے۔

بے ساختہ اور دلچسپ مکالموں نے ڈرامے کو مردوں میں بھی کافی مقبول بنایا۔ اس ڈرامے کے رائٹر مصطفیٰ آفریدی کہتے ہیں کہ انھوں نے کرداروں پر زیادہ توجہ صرف کی کیونکہ کردار کہانی کو تخلیق کرتے ہیں، کہانی کرداروں کو نہیں۔

ڈرامہ ساس بہو اور گھر داری کے چکروں سے نکلا تو اس تاثر سے بھی آزاد ہوا کہ ڈرامہ صرف گھر بیٹھی بیکار ہاؤس وائف کے دیکھنے کی چیز ہے۔ دو ہزار سولہ میں پاکستانی ڈرامے نے مردوں کی توجہ بھی خوب حاصل کی۔

ٹی وی ڈرامے میں جینز کی پینٹ پہنی عورت کو برا دکھایا جائِے، عورت کو مظلوم بنا کر روتا دھوتا دکھایا جائے یا مختصر لباس پہنا دیا جائے تو عورت کا کردار ریٹنگ ہتھیانے کے فارمولے کے طور پر استعمال ہوتا ہے، لیکن مصطفیٰ آفریدی کے مطابق اگر کہانی اچھی ہو تو ریٹنگ کے اس فارمولے کو غلط ثابت کیا جا سکتا ہے۔

ڈرامے میں سے ڈر نکال دینا خالہ جی کا گھر نہیں ہے اور جن ٹیموں نے یہ کام کیا انھوں نے نِڈر ہونے کا ثبوت دیا۔

دو ہزار سولہ کا ایک اور قابل ذکر ڈرامہ ’خدا میرا بھی ہے‘ رہا۔

اس ڈرامے میں ایک جوڑے کے ہاں ایک خواجہ سرا بچے کی پیدائش ہوتی ہے، جسے ماں خاندان اور سماج سے جھگڑا مول لے کر ایک عام بچے کی طرح پالنے کا کٹھن سفر طے کرتی ہے۔

ندیم کشش نے جو خود ایک خواجہ سرا ہیں اور ڈرامہ شوق سے دیکھتے ہیں بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسا پہلی دفعہ ہوا ہے کہ کسی ڈرامے میں خواجہ سرا بچہ پیدا ہونے کے بعد والدین کی ذمے داری اور ان کی مشکلات کا احساس دلایا گیا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ DASTAAN

ان کے بقول والدین کو ایسے بچوں کو عام بچوں کی طرح پالنے کی ترغیب دینا انہونی بات ہے۔

حساس موضوعات پر بنے نِڈر ڈراموں نے نہ صرف ناظرین کو جھنجھوڑا بلکہ ان ڈراموں میں کام کرنے والے اداکار بھی انھیں بطور آرٹسٹ اور انسان اپنے لیے اہم سنگ میل قرار دیتے ہیں۔

احسن خان نے اڈاری میں جنسی زیادتی کرنے والے سوتیلے باپ کا کردار انتہائی کامیابی سے نبھایا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کردار کے بعد انھوں نے اس معاملے پر باقاعدہ سماجی کام کرنے کا آغاز کیا۔

احسن خان کا کہنا ہے کہ اس ڈرامے کے بعد بہت سے لوگوں نے ان سے رابطہ کیا، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مسئلہ پر سنجیدگی سے بات کی اور آغاز اپنے گھروں میں بچوں کی بات پر کان دھرنے سے کیا۔

دو ہزار سولہ میں پاکستان میں ٹی وی ڈرامے سے ڈر کافی حد تک نکلا۔ معیاری تفریح کے ذریعے معاشرتی مسائل پر بات چیت کی ریت آ گے بڑھائی گئی۔

موضوعاتی ڈرامے کی کامیابی نے آنے والے وقت میں اس انڈسٹری میں نئے رجحان کے فروغ کا رستہ کھولا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں