کیا مصباح کو چلے جانا چاہیے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جب مصباح آؤٹ ہو کر پویلین کی جانب چلنا شروع ہوئے تو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں لوگ اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور تالیوں کی گونج کے بیچ، ایک ہارے ہوئے لشکر کا جرنیل، شاید ہمیشہ کے لیے، اس میدان سے رخصت ہو گیا۔

شاید یہ ٹیسٹ کرکٹ میں مصباح کا آخری دن ثابت ہو۔

پاکستان کو 220 رنز سے شکست، آسٹریلیا کا کلین سوئپ

پاکستان کا ہدف 465 رنز مگر 55 پر ایک وکٹ

جب میچ کی اختتامی تقریب میں انھیں سٹیج پر بلایا گیا تو ایک بار پھر سڈنی کا گراؤنڈ تالیوں سے گونج اٹھا اور اب کی بار یہ تالیاں صرف سٹیڈیم کی نشستوں سے ہی نہیں بج رہی تھیں بلکہ سٹیون سمتھ کی ٹیم اور مصباح کی ٹیم بھی تالیاں بجا رہی تھی۔

لیکن کیوں؟

وہ سیریز تو ہار چکے ہیں بطور کپتان یہ ان کی سب سے بری سیریز تھی، بطور بیٹسمین بھی یہ دورہ اس کے لیے ایک ڈراونا خواب تھا۔

کیا مصباح کو چلے جانا چاہیے؟

ورلڈ چیمپئین بننے کے بعد سات میچوں میں پاکستان کی کپتانی کرنے والے مصباح اب تک صرف دو میچ جیت سکے ہیں۔ یہ مسلسل تیسری سیریز ہے کہ انھوں نے کوئی سینچری نہیں بنائی۔ انھوں نے پچھلی دو سیریز میں کوئی نصف سنچری بھی نہیں بنائی لیکن میرے خیال میں مصباح کو اس وجہ سے ریٹائر نہیں ہونا چاہیے۔

مصباح کو اس لیے چلے جانا چاہیے کیونکہ یہ وہ مصباح نہیں رہے جو میرا رول ماڈل تھے۔ یہ وہ مصباح نہیں رہے جس کی فیلڈ پر موجودگی سکون کی علامت ہوتی تھی۔ یہ وہ مصباح نہیں رہے جو نہایت باریکی سے مخالفین کے اعصاب پہ سوار ہوا کرتے تھے۔ یہ وہ مصباح نہیں رہے جو ماڈرن کرکٹ کی بھگدڑ میں بھی وقت کو روک لیا کرتے تھے۔

جب مصباح نے ٹیم کی قیادت سنبھالی تب پاکستان کی کپتانی کوئی اعزاز کی بات نہیں تھی۔ سابقہ کپتان انگلینڈ کی کسی جیل میں پڑے تھے اور پاکستان کرکٹ دنیا بھر میں رسوائی کا استعارہ بن چکی تھی۔ جائلز کلارک، جو پاکستان میں کرکٹ کی واپسی کا سب سے بڑا وکیل تھے، انھوں نے لارڈز میں مین آف دی سیریز محمد عامر سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا تھا۔

ٹھیک چھ سال بعد، یہی پاکستانی ٹیم جب دوبارہ لارڈز کے میدان میں اتری تو پاکستان کے کپتان گراؤنڈ میں پش اپ لگا رہا تھے۔ سابق انگلش کرکٹرز اور انگلش فین سبھی ان کے پش اپ کو کاپی کر رہے تھے۔ وہ برطانوی میڈیا جو پاکستان کے لیے کبھی بھی مدح سرا نہیں رہا تھا اب کی بار پاکستان کی تعریفوں کے پل باندھ رہا تھا۔

اس دورے سے بہت پہلے جب پاکستان نے عرب امارات میں انگلینڈ کو وائٹ واش کیا تو برطانوی اخبار گارڈین نے مصباح کو 'معزز ترین ماڈرن کرکٹر' کا خطاب دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Sport

جب مصباح کو قذافی سٹیڈیم میں ٹیسٹ چیمپئین شپ کا میس تھمایا گیا تو آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو نے پاکستان کرکٹ کے لیے ان کی خدمات کو سراہا اور ساتھ ہی اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ مصباح کی یہ ٹیم اگر بے گھر ہو کر بھی نمبر ون بن گئی ہے تو اسے اس کے گھر میں کرکٹ ضرور ملنی چاہیے۔

مصباح نے پاکستان کرکٹ کے لیے جو بھی فتوحات حاصل کیں، جو بھی ریکارڈز بنائے، جو بھی ٹرافیاں اٹھائیں، وہ سب ثانوی اہمیت کی حامل ہیں۔

مصباح کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ انھوں نے مشکل ترین حالات میں سات سال تک پاکستان کرکٹ کو زندہ رکھا۔ وہ بے گھر ہو کر بھی اسی کوشش میں لگے رہے کہ پاکستان کرکٹ دنیا بھر میں اتنی معتبر ہو جائے کہ کرکٹ ایجاد کرنے والے بھی پاکستان کے خلاف کھیلنے کو ایک اعزاز سمجھیں۔

جب مصباح نے لارڈز کے میدان میں سینچری کی تو ناصر حسین نے کہا کہ اگر یہ مصباح 42 سال کے ہیں تو ان کی خواہش ہے کہ وہ 52 سال کی عمر تک کھیلیں۔

وہ مصباح جو لارڈز میں کسی جواں سال کی طرح پش اپ لگا رہا تھے، اب چلتے ہیں تو ان کے قدم بوجھل دکھائی دیتے ہیں۔ جو مصباح گراؤنڈ پر ہمیشہ مجسم سکون نظر آتے تھے، اب اکثر مضطرب رہنے لگیں ہیں۔ جس پلاننگ سے وہ انگلینڈ اور آسٹریلیا جیسی نمبرون ٹیموں کو دھول چٹاتے تھے اب اس کی پے در پے شکستوں کی وجہ بننے لگی ہے۔ ان کے بولر جو ڈسپلن کی مثال ہوا کرتے تھے اب بالکل بے بس دکھائی دینے لگے ہیں۔ یہ مصباح وہ مصباح نہیں رہے اور یہ ٹیم وہ ٹیم نہیں رہی۔

کریز پر جو اعتماد مصباح کی بیٹنگ کا خاصہ ہوا کرتا تھا، اب وہ یکسر غائب ہے۔ اس کی جگہ کنفیوژن اور جلدبازی نے لے لی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ خود سے لڑنا چاہتے ہیں، خود کو غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں، مگر وہ ایسا کر نہیں پا رہے ہیں۔

جب انھوں نے میلبرن میں شکست کے بعد ریٹائرمنٹ کی بات کی تھی تو وہ اپنی یا ٹیم کی پرفارمنس پر غصے کے سبب نہیں تھی۔ وہ مایوسی بھی نہیں تھے۔ وہ اس کرب کا اظہار تھا جس سے انھیں پچھلے چند مہینوں میں گزرنا پڑا ۔ وہ سڈنی میں اس لیے اترے کہ ایک آخری بار وہ وقت سے لڑ لیں، فطرت کے تقاضوں کو ایک بار پھر شکست دے ڈالیں، مسلسل پانچ میچ ہارنے والی ٹیم کو ایک بار پھر جیت کی راہ پر ڈال دیں۔ مگر وہ ایسا نہ کر سکے۔ شاید وہ بوڑھے ہو گئے ہیں۔ شاید یہ ٹیم ان کے کنٹرول میں نہیں رہی۔ انھیں چلے جانا چاہیے۔

میرے خیال میں مصباح پاکستان کے لیے جو کر سکتے تھے، انھوں نے اس سے کہیں بڑھ کر کیا۔ لوگ کل بھی اس کے خلاف تھے، آج بھی ہیں اور شاید کل بھی رہیں گے مگر اس سے مصباح کے قد پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

مصباح کوئی عام پاکستانی کپتان نہیں جنھیں دس سال بعد اس کی فتوحات کے تناسب اور ٹرافیوں کی تعداد سے یاد رکھا جائے۔ انھیں اس لیے یاد نہیں رکھا جائے گا کہ انھوں نے کس کو کلین سویپ کیا اور کس سے وائٹ واش ہوئے۔ وہ یاد رکھے جائیں گے تو صرف اس لیے کہ وہ مصباح تھے۔

وہ صرف ایک اچھے سپورٹس مین یا بہترین کپتان ہی نہیں تھے، وہ ایک سکول آف تھاٹ کا نام تھے۔ انھوں نے پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار ڈسپلن، پلاننگ اور ٹرانسپیرنسی جیسے الفاظ متعارف کرائے۔ مصباح کے سبب پہلی بار پاکستان کرکٹ کے شائقین دو نظریاتی دھڑوں میں بٹے اور کرکٹ پر اصل بحث کا آغاز ہوا۔ اس کی وجہ سے پاکستان میں پہلی بار کرکٹ کو انٹرٹینمنٹ سے بڑھ کر کچھ سمجھا گیا۔

الوداع مصباح! آپ صرف عہد حاضر کے کامیاب ترین سپورٹس مین ہی نہیں تھے۔ آپ ایک آئیڈیل سٹیٹس مین بھی تھے۔ آپ کی قوم شاید آپ سے کبھی محبت نہ کر پائے لیکن کرکٹ آپ کو کبھی بھلا نہ پائے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں