دہلی کا عالمی کتاب میلہ، خواتین سکالرز کو خراج تحسین

کتاب میلہ
Image caption مذہبی کتب کی سٹالوں پر بھی خاصی بھیڑ تھی

انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے قلب پرگتی میدان میں عالمی کتاب میلہ جاری ہے اور کتاب کے شیدائیوں کی بھیڑ بھی ہے تاہم حکومت کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ ڈی مونیٹائیزیشن کے اثرات نمایاں ہیں۔

کتاب خریدنے والوں کی کمی ہے لیکن ان کی خوشبو لینے والوں کی کمی نہیں۔ کھانے پینے کے سٹال بھی پہلے سے زیادہ نظر آئے۔

ان سب سے قطع نظر رواں عالمی کتاب میلے کی سب سے اہم بات اس کا تھیم ہے جو 'مانوشی' کے عنوان کے تحت ہندوستان کی قدیم، عہد وسطیٰ جدید عہد کی خواتین مصنفین کو خراج تحسین ہے۔

Image caption 60 ویں عالمی کتاب میلے کی تھیم ہندوستان کی خواتین سکالرز پر منبی ہے

کتاب میلے کا انعقاد سرکاری ادارے نیشنل بک ٹرسٹ (این بی ٹی) کے تحت ہر سال کیا جاتا ہے۔

این بی ٹی میں انگریزی کے ایڈیٹر اور عالمی کتاب میلے کے کوارڈینیٹر کمار وکرم نے بتایا کہ ادارے کی کوشش ہے کہ ہندوستان کی خواتین لکھاریوں کو قارئین میں متعارف کرایا جائے اور اس کے لیے انھوں نے خواتین کی تصانیف پر مبنی ایک سیریز کی اشاعت بھی کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'ادارے نے قدیم اور عہد وسطی کی خواتین مصنفین کی تصاویر کے لیے ایک مقابلہ منعقد کرایا تھا اور اس میں سے نمائندہ پینٹنگ کو این بی ٹی نے ایک کیلنڈر میں پیش کیا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ NBT
Image caption 700 قبل مسیح کی شاعرہ گارگی کے ساتھ عہد قدیم اور عہد وسطی کی 11 مزید خواتین سکالرز کو ایک کلینڈر کی زینت بنایا گيا ہے

انھوں نے بتایا کہ کلینڈر کے لحاظ سے انھوں نے صرف 12 تصاویر کا انتخاب شائع کیا ہے۔

این بی ٹی کے چیئرمین بلدیو بھائی شرما کا خیال ہے کہ ہندوستان خواتین سکالرز کا وجود زمانہ قدیم سے ہی ملتا ہے اور جن کے سبب ہندوستان میں محبت، عقیدت، بغاوت اور مرد و زن کے درمیان آپسی رشتے پر متبادل نظریات ملتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ NBT
Image caption شیو سے عقیدت رکھنے والی شاعرہ اککا مہا دیوی

ادارے کی ڈائرکٹر ڈاکٹر ریتا چوہدری کا کہنا ہے کہ وہ بذات خود ایک ادیبہ ہیں اس لیے انھیں بخوبی یہ اندازہ ہے کہ اس تھیم کا مطلب خواتین لکھنے والیوں کے لیے کتا اہم ہو سکتا ہے۔

کمار وکرم کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں 'خواتین سکالرز کی روایت پانچ ہزار سال پر محیط ہے اور سب کا احاطہ بہت مشکل ہے تاہم ان کی یہ کوشش ہے کہ نئی نسل کو ان کے کارناموں سے روشناس کرایا جا سکے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ NBT
Image caption گنگا ستی سوراشٹر کی سنت کے طور پر معروف ہیں

کلینڈر میں سب سے پہلے گارگی کو پیش کیا گیا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ 700 قبل مسیح تھیں اور انھیں ویدوں کا سکالر تسلیم کیا جاتا ہے۔

گارگی کے تصور کو تصویر میں اتارنے کا کام بڑودہ کی ایم ایس یونیورسٹی کی فائن آرٹس کی طالبہ متھرا کے نے کیا ہے اور ان کا تعلق جنوبی ریاست کیرالہ سے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NBT
Image caption مغل شاہزادی گلبدن بیگم اپنے تصنیف 'ہمایوں نامہ' اور سکالرشپ کے لیے اس کیلنڈر کی زینت ہیں

ان کے علاوہ تمل زبان کی شاعرہ اویار ہیں اور ان خواتین کی زبان بے حد آسان ہوتی تھی اور وہ سادگی سے زندگی کی حقیقتوں کو رکھنے کا ہنر جانتی تھیں۔

انڈال جنوبی ہند کی الور روایت کی واحد خاتون شاعرہ ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ نویں صدی میں تھیں۔

جبکہ اککا مہا دیوی بارھویں صدی میں کرناٹک میں تھیں اور وہ شو سے عقیدت رکھنے والی ادبی مہم کا حصہ تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ NBT
Image caption راجستھان کی شاعرہ میرا کو ہندوستان میں عقیدت اور محبت کی علامت تصور کیا جاتا ہے

جنا بائی چودھویں صدی میں مہاراشٹر کے ورکری سلسلے کی شاید سب سے مشہور شاعرہ تھیں۔

گنگا ستی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بارھویں سے 14ویں صدی کے درمیان تھی۔

اس کلینڈر میں لال دید بھی شامل ہیں جنھیں صوفی شاعری کی ایک صنف واکھ کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ چودھویں صدی کے اختتام میں تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ NBT
Image caption آتوکری مللا 16ویں صدی کی تیلگو شاعرہ ہیں

16 ویں صدی کے راجستھان کی سب سے معروف شاعرہ میرا آج بھی اپنی عقیدت کے لیے یاد کی جاتی ہیں۔ ان کا ذکر بھی ہے۔ ان کے ساتھ ان کی ہم عصر تیلگو شاعرہ اتوکوری موللا بھی ہیں۔

شہنشاہ بابر کی بیٹی اور ہمایوں نامہ کی مصنفہ گلبدن بیگم بھی اس کلینڈر کی شان ہیں۔ کمار وکرم کا کہنا ہے کہ وہ یہاں شہزادی کے طور پر نہیں بلکہ فارسی اور تاریخ کے سکالر کے طور پر شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC/ Mirza
Image caption جمعے کو تھیم پویلین میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی جانب سے شاعرات کا مشاعرہ بھی منعقد کیا گيا

ان کے علاوہ بنگال کی چندرابتی اور مراٹھی زبان کی شاعرہ بہن بائی بھی اس میں شامل ہیں۔

کتاب میلے میں ہندی اور اردو کتابوں پر بھی بھیڑ نظر آئی لیکن لوگوں کے ہاتھوں میں زیادہ تر مذہبی کتابیں نظر آ رہی تھیں۔ پوسٹر کا سٹال لگانے والے شیراز حسن نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ بھی ہے بہت سے مذہبی کتابیں مفت تقسیم کی جا رہی ہیں۔ جیسے گیتا، بائبل یا پھر قرآن مجید ہدیے کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں