استاد فتح علی خان: پٹیالہ گھرانے کے گائیک سمراٹ

استاد فتح علی خان تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption استاد فتح علی خان کو سنہ 1969 میں تمغہ حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا

پاکستان میں ہندوستانی کلاسیکل سنگیت کے انمول رتن اور سربرآورده گائیک خان صاحب فتح علی خان بھی چل بسے جو کم و بیش نصف صدی تک گائیکی کے چھ ثقہ گھرانوں میں سے ایک یعنی پٹیالہ گھرانے کے سربراه تھے۔

گو کہ آپ کسی وقت میں مہاراجہ پٹیالہ کے دربار سے وابستہ رہے مگر فی الواقع آپ کلاسیکی موسیقی کی قلمرو کے شہنشاه تھے۔ آپ کے فن کی شمع اپنی پوری آب و تاب سے ایک ایسے زمانے اور ایسے ملک میں جگمگائی جب کلاسیکی موسیقی کا ذوق اور سننے والے دونوں ہی نایاب ہوتے جارہے ہیں۔

استاد فتح علی خاں کی ولادت اغلباً 1935 میں غیرمنقسم ہندوستان کی ریاست پٹیالہ میں استاد اختر حسین خاں کے ہاں ہوئی جو خود باکمال گائیک تھے۔ استاد فتح علی خاں بتاتے ہیں کہ پٹیالہ گھرانے کی داغ بیل ان کے پردادا میاں کلو صاحب نے 19ویں صدی کے دوسرے نصف میں ڈالی۔

میاں کلو کا وطن پٹیالہ تھا اور جب وه کسبِ کمال کر کے وہاں لوٹے تو مہاراجہ کے درباری گائیک مقرر کر دیے گئے۔ ان کے بعد ان کا سر سنگیت ان کے بیٹے جرنیل علی بخش خان اور علی بخش کے دوست اور ہمکار کرنیل فتح علی خان کو ورثے میں ملا۔ یہ سنگت علیا پھتو کی جوڑی کے نام سے ہند سندھ میں جانی جاتی تھی۔

اس وقت کے انگریز وائسرائے لارڈ بروس الیگزینڈر ایلگن نے بھی ان کا شہره سنا اور دونوں کو بلوا بھیجا۔ وائسرائے گانا سن کر بیک وقت متحیر و محظوظ ہوا۔ گائیکوں کے گلے اور کپڑوں کا معائنہ کروایا گیا کہ کوئی مشین تو پوشیدہ نہیں ہے۔ جب وائسرائے اطمینان کر چکا تو علی بخش خان کو جرنیل اور فتح علی خان کو کرنیل کا خطاب دیا۔ انھی کرنیل صاحب کے نام پر استاد فتح علی خان کا نام رکھا گیا تھا۔

استاد فتح علی خان نے موسیقی کی تعلیم اپنے والد اختر حسین خان سے حاصل کی مگر وہ پٹیالہ گھرانے کے ایک اور چشم و چراغ استاد عاشق علی خان سے بھی بہت متاثر تھے جو کرنیل فتح علی خان کے فرزند تھے۔ عاشق علی خاں عجب باغ و بہار شخصیت تھے کہ جنھوں نے زندگی تو فقیروں کے تکیوں اور درگاہوں پر گزاری مگر موسیقی بسا اوقات سوٹ ٹائی زیبِ تن کر کے پیش کیا کرتے تھے۔

فتح علی خان کی گائیکی میں نہ صرف عاشق علی خان کا رنگ عود کر آتا ہے بلکہ وہ اس کا برملا اظہار بی کرتے تھے۔ کئی مرتبہ گاتے گاتے کہتے 'میرے تایا عاشق علی خاں مجھے یاد آ گئے ہیں' اور پھر اسی انداز میں تان پلٹے اور گمک کا مظاہرہ کرتے۔

البتہ استاد فتح علی خان کی جوڑی اپنے چھبیلے بھائی استاد امانت علی خان کے ساتھ جمی اور ایسی جمی کہ پھر عزرائیل کے پنجے نے ہی آ کر توڑی۔

دونوں بھائیوں نے لڑکپن میں ہی مہاراجہ پٹیالہ یدوندر سنگھ جی کے سامنے فن کا مظاہره کیا اور مہاراجہ کے گائیک مقرر کر دیے گئے۔ دونوں نوجوان گلوکاروں نے اپنے زمانے کے نامی گرامی اساتذہ کے سامنے بھی گائیکی کے جوہر دکھائے۔ استاد فتح علی خان بتاتے تھے کہ وہ بزرگوں کے ساتھ چھوٹے غلام علی خاں کی محفلِ عروسی میں شریک تھے جہاں بڑے غلام علی خان بھی آئے ہوئے تھے۔ جب سب گا چکے تو امانت علی اور فتح علی سے بھی گانے کو کہا گیا۔ انھوں نے عذر کیا کہ جب بزرگ گا چکے تو ہماری کیا گنجائش ہے۔ مگر بڑے غلام علی خان نے اصرار کیا اور کہا کہ گاؤ، تم ہمارے خلیفہ، یعنی اساتذہ کی اولاد ہو۔ اور جب دونوں گا چکے تو خوب داد بھی دی۔

ملکی سطح پر امانت علی، فتح علی نے 1949 میں کلکتہ میں منعقدہ کُل ہند موسیقی کانفرنس میں گایا اور ازاں بعد کامیابی اور تحسین ان کے قدم چومتی ہی رہے۔

تقسیمِ ہند کے بعد دونوں بھائی والد کے ہمراہ پاکستان آ گئے جہاں تک ان کو امانت علی فتح علی کی جوڑی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ پاکستان کے کلاسیکی موسیقاروں میں سب سے ممتاز اور باکمال جوڑی تھی تو غلط نہ ہو گا۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ یہ جوڑی برابری کی بنیاد پر قائم تھی۔ ایک بھائی کے محاسنِ فن دوسرے کی تکمیل کرتے تھے۔ فتح علی خان گویا راگ کی بنیاد رکھتے اور عمارت اٹھاتے جبکہ امانت علی خان اس کی آرائش کرتے اور اس پر خوشنما نقش و نگار بناتے چلے جاتے۔ الاپ میں دونو ں آواز میں آواز ملا کر شروع کرتے۔ امانت علی خان کے مترنم بہلاوے اور بڑھت کے دوران سیدھے بولوں کو متنوع انداز سے پیش کرنا اور پھر ترانے کے دوران پکڑ جس کے ساتھ ہی فتح علی خان کی پیچدار تانیں اور گمک اور لے کاری، راگ گائیکی کو اوجِ کمال تک پہنچا دیتے تھے۔ پٹیالہ گھرانے کا مخصوص راگ رام ساکھ دونوں خان صاحبان کا پسندیدہ راگ تھا اور ان کا ادائیگی کلاسیکی گائیکی میں میزان کا درجہ رکھتی ہے۔ اس راگ کی بندش ان کے پردادا میاں کلو نے مرتب کی تھی اور مہاراجہ پٹیالہ کے دربار میں پیش کر کے اپنا کمال منوایا تھا۔ الاپ کے بول ہیں 'پیا تورے نیناں، مورے من بھائے' اور استھائی اور انترہ ہیں:

کرو مو پہ کرم، غریب نواز / میں دکھیاری آئی شرن تہار / رکھیو موری لاج

تقسیمِ ہند کی نفسا نفسی ایسی تھی کہ دونوں بھائیوں کو پاکستان آنا پڑا جہاں فتح علی خان ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے اور دونوں بھائیوں نے پاکستان ٹیلی وژن پر بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔

فتح علی خان کو بھائی سے اس قدر محبت تھی کہ امانت علی خان کے انتقال کے بعد وہ گانا چھوڑنا چاہتے تھے مگر گھر والوں، بالخصوص اپنی والدہ، اور مداحین کے اصرار پر ایسا کرنے سے گریز کیا۔ مگر پھر بھی وہ بھائی کے ساتھ گائی گئی چیزیں تادیر نہیں گاتے تھے۔ راگ رام ساکھ دوبارہ انھوں نے اس وقت گایا جب امانت علی خان کے صاحبزادے اسد امانت علی نے ان کے ساتھ گایا۔ بھیرویں میں مشہور ٹھمری 'کب آؤ گے تم آؤ گے، مورا تم بن جیا را اداس' انھوں نے کئی سال تک نہ گائی۔

فتح علی خان کی گائیکی جتنی جڑاؤ اور مرصع تھی باتیں اور طبیعت اتنی ہی سادہ تھیں۔ شاگردوں اور مداحوں، چاہے وہ ہم ایسے سنگیت ناشناس ہی ہوں، بے حد سے شفقت پیش آتے تھے۔ معاصرانہ چشمک ان کی سرشت میں نہ تھی۔ بڑا بول نہ بولتے تھے نہ پسند کرتے تھے۔ حالی نے اپنے استاد غالب کے لیے کہا تھا کہ

خاکساروں سے خاکساری تھی / سر بلندوں سے انکسار نہ تھا

بس یہی طریقہ فتح علی خان کا بھی تھا۔ منہ زوری کو مانتے نہ تھے اور پیار کی بات کو انکار نہ کرتے تھے۔ ایک واقعہ انھوں نے سنایا کہ جب فلم 'وعدہ' بن رہی تھی جس میں نعمت خان سدارنگ کی مشہور بندش 'نین سو نین ملائے رکھنے کو منوا مورا چاہت تم کو بلما درباری میں ریکارڈ ہو رہی تھی۔ یہ دوگانا تھا جو استاد فتح علی خان اور زاہدہ پروین، جو منجھی ہوئی گلوکارہ اور استاد عاشق علی خان کی شاگردہ تھیں، گا رہے تھے۔ فلم کا تقاضا تھا کہ مردانہ آواز گانے کے آخر میں مات کھا جائے۔ موسیقار اور ہدایتکار نے کچھ زور ضرب سے کام چلانے کی کوشش کی تو خان صاحب منغض ہوئے۔ ان کی انا اور فن اس کی اجازت نہ دیتے تھے کہ ناجائز مات کھا لی جائے چاہے فلمی اور فرضی ہی کیوں نہ ہو۔ حاضر باشوں نے فلم پر پندھکوں کو صلاح دی کہ ایسے کام نہیں چلے گا تو وہ سمجھے اور معاملہ آگے بڑھا۔ گانے کو بہرحال زبردست کامیابی ملی اور اس کی فرمائش خان صاحب سے بار بار ہوتی۔

امر واقع یہ ہے کہ جیسی سنگت ان دو بھائیوں نے کی ایک دوسرے کی شاید ہی کوئی اور گائیک جوڑی کبھی ان تک پہنچ سکے۔ امانت علی خان کا سُر اونچا اٹھانا اور پھر ہارمونیم کی آواز میں مدغم کر دینا ایسا لگتا تھا جیسا کوئی طائر نورس آسمان تک اڑان بھرے اور پھر غوطہ مار کر سمندر کے نیلے پانے کے ساتھ یکجان ہو جائے۔ اس کے برعکس فتح علی خان کی گمک یوں محسوس ہوتی تھی کے کوئی بلوان سمندر کی موج کے سینے پر اٹھلاتا پھسلتا آ رہا ہو۔ امانت علی خان کی آواز میں ملاحت تھی جب کہ فتح علی خان کی آواز میں مٹھاس اور تسکین تھی۔ اگر امانت علی کے رنگ میں طنازی تھی تو فتح علی خان کے آنگ میں طنطنہ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Dr. Muhammad Taqi
Image caption استاد فتح علی خان، محمد اجمل خان اور ڈاکٹر محمد تقی

مگر افسوس کہ امانت علی اپنے اور فتح علی خان کے عین عروج کے دور میں رحلت کر گئے۔ ایسے میں فتح علی خان کو اپنے انداز میں کچھ ترمیم کرنی پڑی۔ بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ فتح علی خان کو بھی کرنا پڑا جو امانت علی خان کیا کرتے تھے مگر ایسا ہرگز نہیں ہے۔ فی الواقع فتح علی خان نے اپنے وسیع کینوس کو مزید پھیلایا۔ گمک اور لے کاری کہ ساتھ ساتھ اپنی ادائیگی یعنی بول، سرگم اور آکار کو انھوں نے اور نکھارا۔ منجھی ہوئی بول تان ان کا خاصہ ہے جس میں عاشق علی خان کی گائیکی جھلک جھلک جاتی تھی۔ متنوع اور پیچدار تانوں کو کمالِ فن سے ایسا مترنم بنایا کہ داؤد رہبر کے الفاظ میں موجوده عہد کے تان کپتان قرار پائے۔ کرنیل فتح علی خان کو بھی اپنے وقت کا تان کپتان کہا جاتا تھا۔ پٹیالہ گھرانے کی گائیکی کو چار گھرانوں کی گائیکی بھی کہتے مگر فتح علی خان کا انگ خاص پنجابی تھا۔

استاد فتح علی خان نے بعد میں اپنے بھتیجوں یعنی اسد امانت علی اور امجد امانت علی اور پھر اپنے بیٹوں رستم فتح علی اور سلطان فتح علی کے ساتھ گایا۔ ایسا نہ تھا کہ ان کو گائیکی کے لیے کسی سہارے کی ضرورت تھی مگر پٹیالہ گھرانے کی گائیکی کو محفوظ کرنا اور نئی نسل تک پہنچانا ایسی ذمہ داری تھی جس کو انھوں نے ایسے وقت میں جب پاکستان میں کلاسیکی موسیقی پر کڑا وقت ہے، بڑی سنجیدگی سے نبھایا۔

فتح علی خان نے یوں تو بیشتر راگ گائے مگر ان کے اپنے پسندیده راگوں میں تلک کامود، میگھ، مالکونس، جونپوری اور ادانا شامل ہیں۔ ادانا انھوں نے کلکتے کی محولہ بالا اس یادگار کانفرنس میں بھی گایا تھا۔ آپ کو ٹھمری اور دادرا بھی مرغوب تھے۔آپ کا گایا دادرا 'مورے انگنا سہاگ برسن لاگا' برصغیر کی کلاسیکل موسیقی کی چند رومانی ترین چیزوں میں سے ایک ہے۔ آواز کا رچاؤ اور مٹھاس دادرا اور ٹھمری انگ کے لیے خاص مناسب تھے۔ آپ کو پہاڑی راگنی بھی بہت پسند تھی اور گائیکی میں کبھی کبھی خاص کہہ کر اس کا مظاہره کرتے تھے۔

گو کہ آپ نے غزل بھی گائی مگر بن کہے ہی یہ اندازه ہوتا تھا کہ وه اس کو کسرِ شان سمجھتے تھے جس کے لیے انھیں اپنے مقام سے نیچے آنا پڑتا جس کے لیے وه تیار نہ تھے۔

پٹیالہ گائیکی کے سمراٹ استاد فتح علی خان نے راگ سنگھاسن پر راج کیا۔ آپ استاد عبدالکریم خان، استاد فیاض خان، استاد امیر خان، استاد بڑے غلام علی خان، روشن آرا بیگم، پنڈت اومکرناتھ ٹھاکر اور ڈی وی پلسکر کے ہم پلہ کلاونت گائیک تھے۔

آپ کی آواز، فن اور مہارت تامہ بے نظیر اور ناقابلِ فراموش ہیں۔ پاکستان میں اب پٹیالہ گھرانہ کی نمائندگی استاد حامد علی خان اور ان کے باکمال صاحبزادے نایاب علی اور انعام علی، اور فتح علی خان کے بیٹے رستم اور سلطان فتح علی کریں گے۔ مگر فتح علی خان ایسے جغادری گائیک کا خلا پُر کرنا کارے دارد۔ نطشے کے الفاظ سے اکتساب کرتے ہوئے کہنا پڑتا ہے استاد فتح علی خاں کی موسیقی کے بغیر زندگی عبث ہوتی۔

اسی بارے میں