عمر بڑھنے کے ساتھ بالی وڈ کی ہیروئنوں کا کام کم ہو جاتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ SCREEN AWARD PR
Image caption بالی وڈ میں اداکاراؤں کو 30 کی عمر کے بعد کام ملنا ہی کم ہو جاتا ہے اور کام کے نام پر ماں یا بھابھی جیسے کردار ہی ملتے ہیں

فلمی دنیا کے سب سے بڑے ایوارڈ آسکرز کے لیے سنہ 2017 کی نامزدگیوں کا اعلان کر دیا گيا ہے۔

اس بار بہترین اداکاروں کی دوڑ میں ہالی وڈ کی جو بھی اداکارائیں نامزد کی گئی ہیں وہ سب 35 برس سے زیادہ عمر کی ہیں۔

اس میں سے دو اداکارائیں تو 60 سال کی اننگز بھی شروع کر چکی ہیں۔

لیکن دوسری جانب بالی وڈ میں اداکاراؤں کو 30 کی عمر کے بعد کام ملنا ہی کم ہو جاتا ہے اور کام کے نام پر ماں یا بھابھی جیسے کردار ہی ملتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ SAMEER SAMANTH
Image caption راجیش کھنہ، آشا پاریکھ

60 کے عشرے میں 'بندنی'، ’اناڑی‘، ’سجاتا‘ اور ’چھليا‘ جیسی فلموں میں با اثر کردار نبھانے والی ادکارہ نوتن 80 کی دہائی میں آتے آتے صرف ماں کے کردار میں سمٹ گئی تھیں جن میں 'میری جنگ' اور 'نام' جیسی فلمیں شامل ہیں۔

وحیدہ رحمان نے 60 کے عشرے میں گائیڈ، سی آئی ڈی، پیاسا، کاغذ کے پھول میں اپنی خوبصورت اداکاری سے لوہا منوایا تھا لیکن 70 کے عشرے میں کئی فلموں میں وہ بطور معاون اداکارہ بن کر رہ گئیں۔

فلم 'کبھی کبھی' اور 'عدالت' میں وحیدہ رحمان امیتابھ بچن کے اہلیہ کے کردار میں نظر آئیں تو 'ترشول' میں وہ ان کی ماں کے کردار میں دکھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ SPICE PR
Image caption ڈمپل کپاڈیا ، دیپیکا پاڈوکون اور پنکج کپور

اس کے بعد انھیں زیادہ تر ماں کے کردار ہی ملے۔ 'دھول کا پھول'، دیور بھابھی'، 'پیاسا' اور گمراه جیسی یادگار فلموں کا حصہ رہنے والی مالا سنہا بھی 80 کی دہائی میں ماں کے کردار میں سمٹ کر رہ گئیں۔

یہی کہانی آشا پاریکھ، راکھی، ڈمپل کپاڈیا اور امرتا سنگھ جیسی کئی ادکاراؤں کی بھی ہے۔

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈمپل كپاڈيا کہتی ہیں: 'زیادہ عمر کی اداکاراؤں کے لیے فلموں میں ہمیشہ سے سنجیدہ کردار رہے ہیں۔ یہاں نوجوانوں کا دبدبہ چلتا ہے۔ لیکن اب ناظرین کا نظریہ تبدیل بھی ہورہا ہے جو مختلف طرح کا سنیما دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس سے ہم جیسے اداکاراؤں کے لیے نئی دنیا کھل رہی ہے جہاں ہمیں بہتر کردار مل رہے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ HYPE PR
Image caption امرتا سنگھ بھی جب شادی کے بعد فلموں میں آئیں تو انھیں ماں کا رول ملا

شبانہ اعظمی کہتی ہیں کہ 'پہلے 30 سال کے بعد اداکاراؤں کا کریئر ختم ہو جاتا تھا اس کے بعد بھابھی اور ماں جیسے کردار ملا کرتے تھے۔ اب ہر عمر کے اداکاروں کے لیے کردار ہے اور ہم اداکاراؤں کے لیے بھی ہے۔'

آج کے دور کی اداکارہ ہما قریشی کا خیال ہے کہ اب اداکارائیں شادی کے بعد کام کرتی ہیں جبکہ پہلے شادی اور بچوں کے بعد خواتین کام کرنا بند کر دیتی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ SCREEN AWARD PR
Image caption ہما قریشی کے مطابق اب وقت بدل رہا ہے اور تبدیلی آرہی ہے

ان کا کہنا ہے کہ کرینہ کپور خان اس کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔

ہما کے مطابق زیادہ عمر کی اداکاراؤں کو کام کی مشکل ہالی وڈ میں بھی آتی ہے جہاں جوان نظر آنے کی شدید دوڑ لگی ہوئی ہے۔

انڈین فلم انڈسٹری میں فی الحال تبدیلی آ رہی ہے لیکن اس کی رفتار سست ہے۔

سری دیوی نے انگلش-ونگلش کر کے ثابت کر دیا ہے کہ بزرگ اداکارائیں صرف معاون کرداروں کے لیے ہی نہیں بنی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں