آپ نے عابد بروہی کا نیا گانا سبی سانگ سنا ہے؟
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

آپ نے عابد بروہی کا نیا گانا ’سبی سانگ‘ سنا ہے؟

'میں نے اتنی لمبی لمبی عمارتیں کھبی نہیں دیکھیں۔ جب یہاں پہنچا تو مجھے ڈر تھا کہ اتنے بڑے شہر میں کہیں گم نہ جاؤں۔ کراچی بالکل دبئی جیسا ہے۔ ہمارے دیہات میں تو ایسے کچھ بھی نہیں ہے۔ میں کراچی پہلی مرتبہ آیا ہوں اور میرا واپس جانے کا دل نہیں چاہ رہا۔'

یہ الفاط ہیں بلوچستان کے علاقے ، سبّی کے رہائشی عابد بروہی کے جن کا سبی کی سٹرکوں پر کپڑے بیچنے سے کراچی کے سٹوڈیوز تک کا سفر بہت دلچسپ ہے۔

حال ہی میں پاکستان کی لائیو سٹریمنگ ویب سائٹ 'پٹاری' کے پلیٹ فارم سے عابد بروہی کا پہلا گانا 'سبی سانگ' انٹرنیٹ پر ریلیز ہوا جسے بہت مقبولیت مل رہی ہے۔ اس گانے کو اب تک فیس بک اور یوٹیوب پر ایک لاکھ سے زیادہ لوگ دیکھ چکے ہیں۔

پٹاری کی بدولت اٹھارہ سالہ عابد پہلی مرتبہ کراچی گانا ریکارڈ کروانے آئے ہیں۔ عابد کا گانا بلوچی زبان میں ہے اور وہ اپنے سُر پورے پاکستان میں بکھیرنا چاہتے ہیں۔

عابد بروہی کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے۔ آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد مالی مشکلات کی وجہ سے انھیں سکول چھوڑنا پڑا۔ ان پر 13 بہن بھائیوں کا خرچہ چلانے کی ذمہ داری بھی ہے۔

وہ چار ہزار روپے ماہانہ پر ایک دکان پر مزدوری کرتے تھے مگر گانے کے شوق کی وجہ سے مالک نے نوکری چھوڑنے کو کہا۔ اب وہ بے روزگار ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اپنے فن سے اتنے پیسے کما سکیں کہ گھر کا چولہا جلتا رہے۔

'میں نے اور میرے گھر والوں نے ایک ساتھ دس ہزار روپے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھے۔ اتنی بڑی رقم کا ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ جب پٹاری نے مجھے گانے کے پیسے دیے تو میں وہ لے کر سیدھا ماں کے پاس گیا۔ وہ بہت خوش ہوئیں۔'

لیکن ابتدا میں عابد کا گھرانا ان کے اس فن کو زیادہ پسند نہیں کرتا تھا۔

'میں سبّی میں شادیوں میں گانے گاتا تھا لیکن میرے گھر والے مجھے روکتے تھے کہ گانا غلط کام ہے اسے چھوڑ کر کوئی محنت مزدوری کرو جس سے گھر چلے۔ میں چار ہزار ماہانہ تنخواہ پر کپڑے کی دکان پر کام کرتا تھا مگر گانے کی ریکارڈنگ کے لیے شہر آنا پڑا اس لیے مالک نے کام سے نکال دیا۔'

کراچی میں جب ان سے ملاقات ہوئی تو ان کے معصوم سوالات سے سبی کی پسماندگی عیاں تھی۔ انھوں نے بڑے فخر سے مجھے بتایا کہ کراچی آ کر انھیں 'واٹس ایپ' کا پتہ چلا اور اب وہ اسے استعمال کرنا سیکھ چکے ہیں۔

عابد زیادہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے مگر اپنا گانا انھوں نے خود لکھا ہے۔

'مجھے پڑھنا لکھنا نہیں آتا لیکن میں لوگوں سے ملتا ہوں یا کسی نئی جگہ جاتا ہوں تو اپنے ذہن میں چیزیں نقش کر لیتا ہوں جس کے بعد میں اس بارے میں اپنی بلوچی ربان میں لکھتا ہوں۔ میں اردو میں بھی گانا چاہتا ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ مجھے سن اور سمجھ سکیں۔'

عابد بروہی کو پلیٹ فارم دینے والے پٹاری کے اس نئے پروجیکٹ کو کافی پذیرائی مل رہی ہے کیونکہ یہ منصوبہ غربت و افلاس کا شکار فنکاروں کو سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے فن کے اظہار کا موقع مہیا کر رہا ہے۔