پاکستان میں شاہ رخ اور ماہرہ کی فلم ’رئیس‘ نہیں دکھائی جائے گی

تصویر کے کاپی رائٹ Spice PR
Image caption رئیس میں شاہ رخ خان نے ایک مسلمان گینگسٹر کا کردار ادا کیا ہے

پاکستان کے سینسر بورڈ نے ملک میں شاہ رخ خان اور پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کی بالی وڈ فلم ’رئیس‘ کو نمائش کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

پاکستان میں فلم کے تقسیم کار ایورریڈی پکچرز نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ مرکزی سینسر بورڈ نے فلم کو سینسر سرٹیفیکیٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

’میں نے ایک گیت میں آپ کو اٹھایا تو تھا‘

’رئیس کے لیے دماغ گھر پر چھوڑ جائیں‘

سینسر بورڈ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا فلم کو سرٹیفیکیٹ جاری نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ فلم میں اسلام اور خصوصاً مسلمانوں کے ایک فرقے کو بدنام کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فلم میں مسلمانوں کو جرائم پیشہ اور دہشت گرد بنا کر پیش کیا گیا ہے۔

اہلکار کے مطابق فلم جمعے کو سینسر بورڈ کے سامنے پیش کی گئی تھی اور طویل غوروخوص کے بعد پیر کو اسے نمائش کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ عموماً فلم پر اس قسم کے اعتراضات آنے کے بعد اسے فل بورڈ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تاہم رئیس کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں حال ہی میں انڈین فلموں کی نمائش کا سلسلہ حال ہی میں دوبارہ شروع ہوا ہے اور پابندی ہٹنے کے بعد اس وقت دو انڈین فلمیں 'قابل' اور 'اے دل ہے مشکل' پاکستانی سنیماؤں میں دکھائی جا رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Spice PR
Image caption رئیس پاکستان کی مقبول اداکارہ ماہرہ خان کی پہلی بالی وڈ فلم ہے

یاد رہے کہ گذشتہ سال ستمبر میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں واقع اُڑی کیمپ پر ہونے والے حملے کے دو ہفتے بعد انڈین موشن پکچرز ایسوسی ایشن نے پاکستانی فنکاروں کے انڈیا میں کام کرنے پر پابندی عائد کرنے کی قرارداد منظور کی تھی جس کے جواب میں پاکستان میں سینیما مالکان نے اپنے طور پر انڈین فلموں کی نمائش روک دی تھی۔

یہ خود ساختہ پابندی دسمبر میں اٹھا لی گئی مگر اس کے باوجود انڈین فلمیں فروری میں ہی پاکستانی سینیما کی زینت بن سکیں۔

گذشتہ سال اگست میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ درآمد کی پالیسی کے 19ویں پیرا کے مطابق استثنٰی کا اختیار وزیرِ تجارت سے لے کر وفاقی حکومت کو دے دیا گیا تھا۔

اس سے پہلے انڈین فلموں کو وزارتِ تجارت، وزارتِ اطلاعات و نشریات کی سفارش پر استثنٰی کا سرٹیفیکیٹ یا این او سی جاری کیا کرتی تھی۔ ترمیم کے بعد اب وزیرِاعظم ہی انڈین فلموں کی درآمد کی اجازت دے سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں