امریکی گلوکارہ میڈونا کی ملاوی کی جڑواں بہنیں گود لینے کی تصدیق

میڈونا تصویر کے کاپی رائٹ Instagram
Image caption میڈونا نے انسٹاگرام پر دونوں جڑواں بہنوں کے ساتھ اپنی ایک تصویر پوسٹ کی ہے

امریکی گلوکارہ میڈونا نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر افریقی ملاوی سے تعلق رکھنے والی دو جڑواں بہنوں کی تصویر پوسٹ کی ہے اور کہا ہے کہ اب یہ عمل پورا ہوگیا ہے اور انھیں اپنے خاندان میں شامل کرنے پر خوشی ہے۔

میڈونا نے لکھا کہ 'وہ ملاوی میں ان لوگوں کے بہت شکرگزار ہیں جنھوں نے اس کو یقنی بنانے میں میری مدد کی۔'

اس موقع پر انھوں نے ذرائع ابلاغ سے اس 'عبوری وقت' کے دوران پرائیویسی قائم رکھنے کی درخواست بھی ہے۔

منگل کو انھیں ملاوی کی ایک عدالت سے بچے گود لینے کی اجازت ملی ہے۔

اس سے قبل بھی وہ دو ملاوین بچوں کو گود لے چکی ہیں۔ انھوں نے سنہ 2006 میں انھوں ڈیوڈ کو اور سنہ 2009 میں مرسی کو گود لیا تھا۔

چند روز قبل میڈونا نے ملاوی کا ایک فلاحی دورہ کیا تھا اور اس دوران انھوں نے اس خبروں کی تردید کی تھی کہ انھوں نے مزید بچے گود لینے کی درخواست کی ہے۔

تاہم بدھ کو عدالتی کاغذات سے یہ امر افشا ہوا کہ ایستھر اور سٹیلا نامی چار سالہ بہنوں کے بارے میں اپنی فلاحی کام کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کے بعد انھوں نے ان بچیوں کو یتیم خانے سے گود لینا اپنا فرض سمجھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس سے قبل بھی وہ دو ملاوین بچوں کو گود لے چکی ہیں

کاغذات کے مطابق ان جڑواں بچیوں کی والدہ ان کی پیدائش کے وقت چل بسی تھیں اور ان کے والد نے کسی اور خاتون سے شادی کر لی تھی اور ان بچیوں اور ان کے بہن بھائیوں کی ذمہ داری ان کے دادا دادی سنبھال رہے تھے۔

جج فیونا موال کا کہنا تھا کہ گلوکارہ ان جڑواں بچوں کو امریکہ میں آرام دہ زندگی اور پیار کرنے والا گھر فراہم کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 58 سالہ میڈونا ’بچوں کی پرورش کے لیے سمجھی جانے والی عمر کی حد سے زیادہ ہیں‘ تاہم انھوں نے اپنی بہتر صحت کی دلیل کے طور پر میڈیکل ریکارڈ پیش کیا تھا۔

جج کا کہنا تھا کہ ان کے فلاحی کام کی وجہ سے وہ یتیموں کے ساتھ رابطے میں آئیں اور اس تعلق کے نتیجے میں ان میں ان کی زندگی کا خلا پورا کرنے کے کا احساس پیدا ہوا اور انھوں نے اپنے گھر کے دروازے ان کے لیے کھول دیے۔

اسی بارے میں