پاکستان میں پہلابین الاقوامی خواتین فلم فیسٹیول

  • عبداللہ فاروقی
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا کیپشن

اگلے فیسٹیول میں غیر ملکی فلم ساز خواتین کو مدعوع بھی کیا جائے گا

پاکستان میں خواتین کے پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا آغاز ہو گیا ہے جس میں 18 غیر ملکی اور پاکستانی خواتین فلم سازوں نےاپنی فلمیں سکریننگ کے لیے بھیجی ہیں۔

فیسٹیول کی بانی اور منتظمہ مدیحہ رضا نے بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دس خواتین نے پاکستان کے مختلف شہروں سے شرکت کی ہے جبکہ باقی آٹھ فلمیں بیرون ملک سے موصول ہوئی ہیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ نیپال، ملیشیا، نائیجیریا، انڈیا، بنگلادیش اور برمنگھم سے فلمیں خواتین کے اِس بین الاقوامی فلم فیسٹیول میں دکھائی جائیں گی جو کہ صنفی مساوات، خواتین پر تشدد اور کمال خواتین کے موضوعات پر بنائی گئی ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

مدیحہ رضا کا کہنا تھا اگر بین الاقوامی اور مقامی فلموں کا آپسں میں مقابلہ کیا جائے تو تربیت اور فلموں کو لے کر چلنے کا طریقہ بین الاقوامی فلم سازوں کا زیادہ بہتر ہے

مدیحہ رضا نے بتایا کہ غیر ملکی فلم سازخواتین نے صرف اپنا کام بھیجا ہے اور وہ خود اِس لیے نہیں آپائیں کہ یہ پہلا پراجیکٹ ہے جو بغیر کسی مالی مدد کے منعقد کروایا گیا ہے۔ البتہ اُنھوں نے اُمید ظاہر کی اگلے فیسٹیول میں وہ غیر ملکی خواتین کو مدعو کرسکیں گی۔

فلم جیسے شعبے کو صرف خواتین تک ہی کیوں محدود کیا گیا اِس سوال کے جواب میں اُنھوں نے بتایا کہ 'میں یہ محسوس کرتی تھی کہ اِس میدان میں نوجوان خواتین بہت کم ہیں، تو میں نے یہ پلیٹ فارم خالصتاً خواتین کے لیے اِس لیے بنایا کہ اُنھیں پتہ ہو کہ یہاں اُن کی آواز ضرور سنی جائے گی اور اِس کا مقصد مردوں کو اِس جگہ سے نکال دینا نہیں تھا اگلے سال اُنہیں بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔'

مدیحہ رضا کا کہنا تھا اگر بین الاقوامی اور مقامی فلموں کا آپسں میں مقابلہ کیا جائے تو تربیت اور فلموں کو لے کر چلنے کا طریقہ بین الاقوامی فلم سازوں کا زیادہ بہتر ہے۔

،تصویر کا کیپشن

فلم میں ایسی خاتون کو دکھایا ہے جسے شادی سے پہلے زندگی گزارنے اور سماجی برتاؤ کے بارے میں سکھایا جاتا ہے

ایک خاتون فلم ساز سیما فاروق نے بتایا: 'میں نے اپنی فلم میں ایسی خاتون کو دکھایا ہے جسے شادی سے پہلے زندگی گزارنے اور سماجی برتاؤ کے بارے میں سکھایا جاتا ہے۔ شادی کے بعد عورت کے ہاں ایک کے بعد ایک چار بیٹیاں پیدا ہوتی ہیں تو شوہر کا برتاؤ بھی تبدیل ہو تا رہتا ہے اور وہ اُسے چھوڑنے پر تل جاتا ہے۔'

کشمیر سے تعلق رکھنے والی ایک اور خاتون فلم ساز مہ جبین نے بتایا اُن کی فلم کا موضوع عورت کی رائے کو دبانے سے متعلق ہے۔

اُنھوں نے اپنی فلم میں سوالات اُٹھائے ہیں کہ 'ایک لڑکی کیوں چپ کر کے گھر اور معاشرے کے مظالم سہتی رہتی ہے؟ کیوں وہ بول نہیں پاتی؟ کیوں وہ اِس سوسائٹی میں اپنی آواز بلند نہیں کر پاتی؟ اِس سب کی وجوہات کا ذکر میری فلم میں ہے۔'