مادام تسود میوزیم کو شکایات کے بعد بیونسے کا مجسمہ ’ٹھیک‘ کرنا پڑا

میڈم تسود

مومی مجسموں کے لیے مشہور مادام تسود کے نیویارک میں میوزیم نے سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد گلوکارہ بیونسے کے مومی مجسمے کو ’ٹھیک‘ کر کے دوبارہ نمائش کے لیے پیش کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر چند افراد نے کہا تھا کہ بیونسے کا یہ مجسمہ 35 سالہ گلوکارہ سے بالکل نہیں ملتا اور اس بات پر بھی سوال اٹھائے کہ آخر اس مجسمے کی کس نے منظوری دی ہے۔

چند افراد نے سوشل میڈیا پر میوزیم پر الزام عائد کیا تھا کہ بیونسے کی رنگت ’گوری‘ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق بیونسے کا مومی مجسمہ اچانک ہٹا دیا گیا تھا۔

اس مجسمے کی تصاویر منگل کی رات کو سوشل میڈیا پر گردش کرنی شروع ہوئی تھی۔

اگرچہ لوگوں نے اس بات کو سراہا تھا کہ بیونسے کے مجسمے کو اس مشہور میوزیم میں شامل کیا گیا ہے لیکن لوگوں کو ساتھ ہی یہ شکایت بھی تھی کہ یہ مجسمہ بیونسے سے باکل بھی مشابہت نہیں رکھتا۔

ٹوئٹر پر لوگوں نے کہا کہ یہ مجسمہ بیونسے سے زیادہ سیاسی تجزیہ کار ٹومی لہرن، گلوکارہ مرایا کیری، برٹنی سپیئرز اور اداکارہ لنڈسے لوہان سے مشابہت رکھتا ہے۔

اس بارے میں مادام تسود کا کہنا ہے کہ 'مادام تسود میں ہماری مجسمہ بنانے والی ٹیم ہر ممکن کوشش کرتی ہے کہ ہم ہر مجسمے کا رنگ سلیبرٹی کے رنگ کے مطابق رکھیں۔ تاہم ہال میں روشنی اور کیمرے کی فلیش کے باعث رنگ مختلف نظر آسکتا ہے اور مجسمے کو بناتے وقت ہماری ٹیم اس بات کا خیال رکھنے سے قاصر ہے‘۔