’اب میں بولوں کے نہ بولوں‘ سے شہرت پانے والے اداکار افتخار قیصر چل بسے

تصویر کے کاپی رائٹ Google

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں اردو، پشتو اور ہندکو زبان میں صدارتی ایوارڈ یافتہ فنکار اور شاعر افتخار قیصر انتقال کرگئے ہیں۔ ان کی عمر 61 برس تھی۔

'اب میں بولوں کہ نہ بولوں' کے مکالمے سے دنیا بھر میں شہرت پانے والے افتخار قیصر کا فنی کریئر تقریباً 40 سال پر محیط رہا۔

افتخار قیصر کے رشتہ دار اور پشاور کے سینئر اداکار عشرت عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے دوست کو گذشتہ چند دنوں سے پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہپستال میں وینٹی لیٹر پر رکھا جا رہا تھا، جہاں اتوار کی صبح وہ انتقال کر گئے۔ انھیں ذیابیطس اور بلڈ پریشر تھا جس کے بعد انہیں چند روز قبل برین ہیمرج بھی ہوا تھا۔

’سٹیج کی رانی’ معشوق سلطانہ وفات پاگئیں

’نصرت فتح علی خان آج بھی ہمارے دلوں میں رہتے ہیں‘

ان کے اہلِ خانہ کے مطابق 13 گھنٹوں تک سٹریچر پر کھلے آسمان تلے پڑے رہنے کے بعد جب سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیو وائرل ہوئی تو ذرائع ابلاغ کے نمائندے وہاں پہنچے تھے۔

صوبائی وزیر صحت شہرام ترکئی نے بھی ذرائع ابلاغ پر خبر آنے کے بعد نوٹس لیا، جس کے بعد افتخار قیصر کو آئی سی یو میں داخل کیا گیا تھا۔

افتخار قیصر کا شمار خیبر پختونخوا کے ان فنکاروں میں ہوتا تھا جو نہ صرف صوبے کی سطح پر مقبول تھے بلکہ قومی سطح کے ساتھ ساتھ وہ بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں میں بھی خاصی شہرت رکھتے تھے۔ وہ نہ صرف ایک ورسٹائل اداکار تھے بلکہ ایک زبردست شاعر اور ادیب بھی تھے۔

عشرت عباس کے مطابق افتخار قیصر نے اپنے فنی سفر کا آغاز بچپن میں چھٹی جماعت میں پاکستان ٹیلی ویژن سے کیا جب وہ مشہور پروگرام 'نندارہ' میں پہلی دفعہ منظر عام پر آئے تھے۔ تاہم انہیں حقیقی شہرت پشاور ٹیلی ویژن کے ایک ہندکو پروگرام 'دیکھتا جاندارہ' سے ملی جس میں انھوں نے ایک مزاحیہ اداکار کے طورپر اپنا لوہا منوایا۔ یہیں سے ان کی شہرت بطور ایک مزاحیہ اداکار ہونے لگی۔ لیکن انھوں نے شہرت کی حقیقی بلندیوں کو اس وقت چھوا جب ان کا ایک مکالمہ 'اب میں بولوں کہ نہ بولوں' دنیا بھر میں مشہور ہوا۔

بعد میں انھوں نے اس مکالمے کے نام سے اردو میں ایک ٹی وی پروگرام کا آغاز بھی کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ 'اب میں بولوں کہ نہ بولوں' کے تمام مکالمے وہ خود لکھا کرتے تھے اور بیشتر مکالمے مزاحیہ ہوتے تھے جس میں ملک میں ہونے والی ناانصانیوں پر تنقید کی جاتی تھی۔

مرحوم افتخار قیصر کو کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا جن میں اردو، پشتو، ہندکو، فارسی، پنجابی، سرائیکی اور پوٹھوہاری شامل ہیں۔

افتخار قیصر کے ایک دیرینہ دوست اور سینئیر صحافی سید حسن علی شاہ کا کہنا ہے کہ ان کے دوست کا کمال یہ تھا کہ وہ نہ صرف اعلیٰ پائے کے اداکار تھے بلکہ کئی زبانوں میں شعر و شاعری بھی کرتے تھے اور ان کے لکھے ہوئے کئی گانے ٹیلی ویژن پر مقبول ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ مرحوم کو حکومتی ایوانوں کی طرف سے وہ مقام نہیں دیا گیا جس کے وہ حقدار تھے۔

مرحوم افتخار قیصر نے زندگی کے آخری ایام انتہائی کسمپرسی اور تکلیف دہ حالت میں گزارے۔ موت سے پہلے انہیں پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہپستال لے جایا گیا تھا تاہم کئی گھنٹے گزارنے کے باوجود وہ سٹریچر پر پڑے رہے، لیکن بعد میں کسی نے ان کی تصویر سوشل میڈیا پر جاری کی تو تب جا کر ہسپتال انتظامیہ حرکت میں آئی اور انہیں وارڈ میں داخل کیا گیا۔

مرحوم نے ایک بیوہ، دو بیٹے اور دو بیٹیوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔

اسی بارے میں