کیا پاکستانی فلم ’ساون‘ آسکر کے لیے نامزد ہو جائے گی؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ساون کو اس مرتبہ آسکر ایوارڈز میں غیر ملکی فلموں کے زمرے میں پاکستان کی جانب سے نامزد کیا گیا ہے

حقیقی واقعات پر مبنی دو فلمیں رواں سال آسکر 2018 میں نامزدگی کے لیے روانہ کی جا رہی ہیں۔ یہ دونوں فلمیں پاکستان یا بیرونِ ملک مقیم پاکستانی نژاد افراد نے بنائی ہیں اور دونوں فلمیں اردو میں ہیں۔

ان میں سے ایک فرحان عالم کی فلم ’ساون‘ (2016) ہے جسے پاکستان کی جانب سے غیرملکی زبان کی بہترین فلم کے زمرے میں بھیجنے کے لیے منتخب کیا گیا ہے جبکہ دوسری سرمد مسعود کی 'میری پاک زمین' (2017) ہے اور یہ برطانیہ کی جانب سے اسی درجے میں روانہ کی جا رہی ہے۔

٭ شرمین عبید چنائے کے لیے ایک اور ایوارڈ

٭ ’ماہ میر‘ کے لیے انڈیا میں بہترین فلم کا اعزاز

آج تک پاکستان کی کوئی بھی فلم کبھی بھی آسکر جیوری کی جانب سے 'بیسٹ فارن لینگویج فلم' کے لیے نامزد نہیں ہو سکی ہے۔

برطانیہ سے دو بار (1993 اور 1999) میں فلمیں اس زمرے میں نامزد کی گئی ہیں اور دونوں ہی بار ویلش فلمیں بھیجی گئی تھیں۔ یہ پہلی بار ہے کہ اب کوئی اردو فلم برطانیہ کی جانب سے بھیجی جا رہی ہے۔

ساون ایک سنسنی خیز فلم ہے جو بلوچستان کے ایک دور دراز کے علاقے کی کہانی پر مبنی ہے۔ ایک پولیو زدہ بچہ گاؤں میں ایسے حال میں رہ جاتا ہے جب اس کے اہل خانہ قحط سالی سے بچنے کے لیے گاؤں چھوڑ کر بھاگ رہے ہوتے ہیں۔

وہ کسی طرح اپنا ایک پاؤں بنا کر لگاتا ہے اور اس ویران علاقے کا چکر لگاتا ہے جہاں اسے اغوا شدہ بچوں کا ایک گروپ ملتا ہے جسے وہ آزاد کراتا ہے اور مختلف قسم کے بچوں کا یہ گروپ بنجر زمین کے پار کا سفر کرتا ہے۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ساون میں بنیادی پلاٹ سے گریز ہوتا ہے اور ذیلی پلاٹ در آتے ہیں۔ جیسے ایک ٹی وی کے نیوز رپورٹر کی کہانی اور پھر پاکستانی فوجیوں کا اچانک آ جانا۔ ان کی وجہ سے فلم اکتاہٹ والے میلوڈرامے میں تبدیل ہوتی نظر آتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SAAWAN
Image caption ساون کا کردار ٹی وی اداکار کرم حسین نے بہت اچھے انداز میں ادا کیا ہے

فرحان عالم کی فلم واقعی اچھی ہوتی اگر اس میں پورے طور پر ساون (ساون کا کردار ٹی وی اداکار کرم حسین نے بہت اچھے انداز میں ادا کیا ہے) اور دوسرے بچوں پر توجہ مرکوز کی جاتی جو سنگلاخ وادی میں پھر رہے ہیں اور بڑے سماجی مسائل اٹھا رہے ہیں۔ بچوں کی فطری اور منفرد اداکاری نے فلم میں قوت اور جوش بھر دیا ہے۔

میرے خیال سے اگر مشہود قادری کا سکرپٹ قدرے مختصر ہوتا اور فرحان عالم نے صرف ایک کہانی پر توجہ مرکوز رکھی ہوتی تو یہ فلم زیادہ دلچسپ اور مرکوز ہوتی۔

ایسے میں فلم 'ساون' کے آسکر میں منتخب ہونے کے کیا امکانات ہیں؟

اسے بین الاقوامی سطح پر یقینا چند ایوارڈز ملے ہیں جو اس بات کے غماز ہیں کہ اسے چھوٹے یورپی میلوں میں ہی سہی پذیرائی ضرور ملی ہے۔

اسے میڈرڈ کے بین الاقوامی فلمی میلہ2017 میں بہترین غیر ملکی زبان کی فلم کا ایوارڈ ملا جبکہ 'سوشل ورلڈ فیسٹول' میں اسے بہترین فلم اور بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ ملا۔

حال ہی میں اٹلی میں منعقدہ 'سیلنٹو بین الاقوامی فلم فیسٹیول' میں اسے بہترین فلم اور بہترین ساؤنڈ ٹریک کے ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔ بہرحال اسے کانز، وینس یا برلن جیسے بڑے فلمی میلوں میں نہیں دیکھا گيا جو بہت حد تک آسکر میں شارٹ لسٹ ہونے کا اشارہ ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Saawan
Image caption بچوں کی ٹولی فلم میں جوش پیدا کرتی ہے

روایتی طور پر غیرملکی زبانوں کی فلم کے درجے پر نامزدگی مشکل ہوتی ہے کیونکہ اس میں ساری دنیا سے فلمیں آتی ہیں۔ اٹلی کو اس زمرے ابھی سب سے زیادہ 14 بار کامیابی اور تین بار نامزدگی ملی ہے۔

ایشیائی ممالک میں ایران سب سے آگے ہیں کیونکہ اسے دو بار کامیابی کے ساتھ تین بار نامزدگی ملی ہے۔ دونوں بار اصغر فرہادی کی فلم کو کامیابی ملی ہے۔

برصغیر سے انڈیا کو تین بار نامزدگی ملی جن میں محبوب خان کی 'مدر انڈیا' (1958)، میرا نائر کی 'سلام بامبے' (1989) اور آسوتوش گواریکر کی 'لگان' (2002) شامل ہیں۔

انڈین نژاد کینیڈین شہری ہدایت کار دیپا مہتا کی فلم ’واٹر‘ کو سنہ 2007 میں نامزدگی ملی تھی۔

ہمیں حقیقت پسندانہ طور پر سنہ 2018 کے مقابلے پر غور کرنا چاہیے کہ اس کے لیے کون سی فلمیں بھیجی جا رہی ہیں۔

اس درجے میں سویڈن کی جانب سے روبن آسٹلینڈ کی مزاحیہ فلم پام دا اور جیتنے والی فلم شامل ہے۔ اس کے ساتھ اینجلینا جولی کی کمبوڈین زبان میں تیار ہونے والی فلم 'فرسٹ دے کلڈ مائی فادر' شامل ہے۔ اس کے علاوہ کانز میں بہترین فلم کا ایوارڈ حاصل کرنے والی فرانسیسی فلم 'بی پی ایم بیٹس پر منٹ' شامل ہے جو فرانس میں سنہ 80 کی دہائی میں پھیلنے والے ایڈز کی وبا پر مبنی ہے۔

برلن میں سامنے آنے والی فلم 'اے فینٹاسٹک وومن' کو بہترین سکرین پلے کا ایوارڈ ملا ہے اور ٹورنٹو اور ٹیلورائڈ میں اس کی کافی پذیرائی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ کانز میں جیوری ایوراڈ جیتنے والی روسی فیملی ڈراما فلم 'لو لیس' بھی مقابلے میں شامل ہے۔

ایسے میں ساون جیسی چھوٹی فلم کو بہت بڑا معرکہ درپیش ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SAAWAN
Image caption اس فلم کو کئی یورپی فلم فیسٹیول میں ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے

فرحان عالم کا کہنا ہے کہ وہ 'بہت پر امید ہیں۔' یہ بطور ہدایت کار ان کی پہلی فلم ہے اور اس کی شوٹنگ بھی انھوں نے خود کی ہے۔

اس فلم کے مصنف مشہود قریشی واضح انداز میں کہتے ہیں: 'اسے منتخب ہو جانا چاہیے۔ اس کی تھیم بہت بین الاقوامی ہے۔ ہم نے چار سے پانچ موضوعات کو چنا ہے۔ جیسے پولیو یا عورت کی بہادری، بچوں کا اغوا، وڈیرہ شاہی نظام کی بات ہو گئی، پانی کا تنازع ہو گیا۔ تو یقین پورا ہے۔'

یہی اس فلم کے لیے مسئلہ ہو سکتا ہے کیونکہ 'ساون' میں کئی سطحوں پر بہت کوشش کی گئی ہے۔ یہ فلم بعض اوقات مضحکہ خیز ہو کر کسی پارٹی کا منشور بن جاتی ہے، بطور خاص پولیو کے خلاف نعرے بازی۔ ہرچند کہ یہ بصری طور پر شاندار ہے لیکن فلم میں بڑے افراد کا کردار کرنے والوں کی اداکاری متوازن نہیں ہے۔ تاہم ساون میں سنجیدگی ہے، نیت اچھی ہے اور بعض جگہ شمالی علاقوں سے بہترین فلم بندی نظر آتی ہے۔

البتہ اس فلم کی شوٹنگ سکیورٹی کی وجہ سے بلوچستان میں نہیں ہو سکی۔ تو کیا یہ فلم ایسی فلموں کو چیلنج پیش کرے گی جو بڑے میلوں میں رواں سال کامیاب قرار دی گئی ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ SAAWAN
Image caption ساون فلم میں کئی موضوعات کا احاطہ کیا گيا ہے

پاکستان کی جانب سے ہدایتکار شرمین عبید چنائے ہی واحد شخصیت ہیں جنھیں کوئی آسکر ملا ہے۔ پہلے انھیں سنہ 2012 میں 'سیونگ فیس' کے لیے ایوارڈ ملا تھا پھر سنہ 2016 میں 'اے گرل ان دا ریور: دا پرائس آف فارگیونس' کے لیے ایوارڈ ملا تھا۔

رواں سال شرمین عبید آسکر کی نامزدگی کے لیے پاکستانی جیوری کی سربراہ تھیں۔ باقی ارکان میں اے آر وائی کی جرجیس سیجا، ندیم مانڈوی والا، عاصم رضا، مومنہ درید، طلعت حسین، سکینہ، رضوان بیگ، محمد حنیف اور علی حمزہ شامل تھے۔

تقریباً 50 سال کی خاموشی کے بعد فلم ’زندہ بھاگ‘ سے سنہ 2013 میں پاکستان آسکر میں از سر نو شامل ہوا تھا پھر اس کے بعد انجم شہزاد کی فلم 'ماہ میر' کو سنہ 2016 میں غیر ملکی زبانوں کی فلم کے زمرے میں بھیجا گیا تھا۔

90واں اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب چار مارچ سنہ 2018 کو منعقد ہو گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں